Friday, October 31, 2014

ستارہء سفر

ستارہ ٹھہرا رہتا ہے، سفر نصیب تو اسے دیکھنے والے ہوا کرتے ہیں۔ جنہوں نے اسے دیکھا وہ سفر میں، جنہیں اس نے دیکھا وہ سفر نصیب۔ ہم بھی ستارہ نصیب  ہیں اور ہمارا نصیب سفر میں ہے۔ زمین آسمان سفر میں ہیں، وقت سفر میں ہے، ہوا سفر میں ہے۔ وقت اور لوگ سبھی گزرتے جا رہے ہیں۔  بس یہ ہم ستارہ نصیب ہی ہیں جو کسی ایک لمحے پر ٹھہر گئے ہیں یا وہ جو ہوتے ہیں کچھ نادر و نایاب لوگ، ستارہ ء سفر۔
اور ستارہ تو سفر کا استعارہ ہے، منزل نہیں، منزل کا اشارہ ہے۔
سفر نصیب! نصیب تو منزل است کہ نیست۔۔۔۔

Saturday, October 18, 2014


خواب اور شوق ، پورے ہوکر، ادھورے رہ کر، صرف ہوکر ، ختم ہو ہی جاتے ہیں، یہ روح ہے جو گردش میں رہتی ہے، خواب نہیں۔ بہت کم خواب اور شوق ایسے ہوتے ہیں جو روح کی گردش میں ہمسفر ہوتے ہیں تا عمر۔ تو جو خواب اور شوق مر چکے ہوں، وقت تلے دب چکے ہوں، ان کو ڈھوتے نہیں رہنا چاہیے، دفنا دینا چاہیے، کہ وہ بہت بوجھل ہو چکے ہوتے ہیں۔۔۔

Friday, October 10, 2014

جب آپ روشنی بانٹ سکتے ہیں تو اندھیرے ایڈورٹائز نہ کریں

Thursday, October 9, 2014

تو یہ شکوے اور شکر کے دن ہیں، ایک ہی بات پر، اندر جاتی سانس شکوہ کرتی ہے اور باہر آتی سانس شکر۔۔۔