Friday, December 30, 2011

تو آج استاد محترم نے فرمایا (اور یاد رہے کہ  یہ وہ استاد محترم نہیں ہیں جنہوں نے فرمایا تھا کہ .... یہ مت دیکھو کہ کیا جانتے ہو ، یہ دیکھو کہ کس کو جانتے ہو) کہ ہر انقلابی باغی ہوتا ہے لیکن ہر باغی انقلابی بھی ہو یہ ضروری نہیں ، یہ بھی کہ انقلاب کی بنیاد نظریہ ہوتا ہے، عوام جس کا ذریعہ اور آلہ ہوتا ہے، اور رہنما جس کی بائی پروڈکٹ ..

تو یوں ہے کہ بغاوت ذہن سے نموپاتی یا پھوٹتی ہے ، اور نظریہ بھی ، ذہن سے پھوٹتا ہے اور پھر قلب پراترے اور زندگی پر نافذ ہوجائےتو انقلاب کی صورت اختیار کر لیتا ہے  ..انقلاب جو پھر زندگی اور معمول کا حصّہ بن جاتا ہے.. لیکن سوال یہ ہے کہ جہاں نظریہ ہی نہ ہو کوئی؟
تو جناب والاوہی بات مکرّر .. جب تک قلب نہ بدلے گا حالات نہ بدلیں گے..

Wednesday, December 21, 2011

اور یہ بھی سچ ہے کہ انمول کا کوئی مول نہیں ہوتا

Wednesday, December 14, 2011

سچ بولنے سچ لکھنے والے لوگ خود بھی سچے ہوں، ضروری نہیں ہے