Thursday, November 19, 2015

مظلوم

تو طے یہ ہوا ہے کہ مظلوموں کے بھی طبقے ہیں۔۔درجہ اول، درجہ دوم، درجہ سوم۔۔۔

Saturday, October 17, 2015

ایک سوال کئی جواب

زندگی سب کو ایک سے سوال دیتی ہے۔۔لیکن جواب کی تلاش مختلف ہوتی ہے، جواب مختلف ہوتے ہیں۔۔۔ یا مختلف جواب ملتے ہیں۔۔۔ ہر کسی کے لیے ایک سوال کا ایک سا ہی جواب نہیں ہوتا، سو دوسروں کو اپنے تلاش شدہ جواب کی کسوٹی پر مت پرکھیں

Monday, October 5, 2015

کمائی

انسان کی اصل کمائی انسان ہی ہوتے ہیں، پیسہ نہیں۔۔۔۔

امید

امید کی بنیاد میں کوئی ٹھوس وجہ موجود نہ ہو تو۔۔۔وہ امید نہیں حماقت ہوتی ہے

Thursday, September 17, 2015

دوست

جو دوست ہوتے ہیں، انہیں آپ کا چہرہ پڑھنے کے لیے چہرہ دیکھنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔۔۔

Monday, September 14, 2015

ہوا جاگیر ہوتی تو۔۔۔
ہم ایک دوسرے کی سانس پر پہرے بٹھا دیتے۔۔۔

Sunday, September 13, 2015

ہر ذی روح کو، ہر زندگی کو، ہر جذبے کو ،ہر احساس کو ، ہر شے کو،
گزرتے وقت کو، ہر لمحے کو فنا ہے
سب کو فنا ہے۔۔۔۔
دکھ کی بات کہ خوشی کو فنا ہے۔۔۔
خوشی کی بات کہ دکھ کو بھی فنا ہے۔۔۔

Saturday, August 29, 2015


ہم میں سے اکثر لوگ خود اپنی زندگیوں کے فیصلے نہیں کرپاتے لیکن ہم دوسروں کی زندگیوں کے فیصلے بڑے شوق سے کرتے ہیں۔۔۔۔

Tuesday, June 23, 2015

شیطان کا کام ہے، بددل اور مایوس کرنا، تو جو لوگ دوسروں کو ناامید، بد دل ، مایوس کرتے، تاریکی پھیلاتے ہیں، انہیں کس کیٹگری میں رکھا جائے؟

Saturday, June 13, 2015


اس کائنات میں ستارے کبھی اکیلے پیدا نہیں ہوتے۔ گرد کے بادلوں میں ہمیشہ دو یا دو سے زیادہ ستارے وجود میں آتے ہیں۔ وہ ستارے جو وجود میں آنے کے بعد ایک بڑی گردش، پیہم گردش کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ایک دوسرے کے گرد گھومنے لگتے ہیں اور ایک دوسرے کو لیے کسی گردشِ مدام کا حصہ بن جاتے ہیں۔ "احد"صرف ایک ہی کا نام ہے، "احد" ، تنہا، اکیلا، یکتا، منفرد، بے نیازاور ایسا بے نیاز کہ اپنے بندوں کو بہت دیر بے نیاز بھی نہیں رہنے دیتا کہ یہ بھی تنہا اُسی کی صفت ہے، ایسا بے نیاز جو بندوں کو کسی نہ کسی گردش کا حصہ بنائے رکھتا ہے۔
ان گردش میں مگن ستاروں سیاروں کی اور انسانوں کی زندگیوں میں ان کی کہانی میں بہت کچھ ملتا جلتا اور مشترک بھی ہے۔
خلا میں آواز کی لہریں سفر نہیں کرسکتیں۔ کچھ لوگوں سے ہم فاصلے پر ہوتے ہیں اور کچھ لوگوں اور ہمارے بیچ خلا ہوتا ہے جہاں آواز کی لہریں سفر نہیں کر پاتیں۔ اور کچھ لوگوں کے اندر خلا ہوتا ہے۔ خلا جس میں روشنی سفر کر سکتی ہے، صرف روشنی، نور۔۔۔
اس خلا میں کچھ ستارے ہیں جو جلتے ہیں، خود فروزاں ہیں اور دوسروں کو روشنی فراہم کرتے ہیں، کچھ وہ ہیں جو مستعار لی گئی روشنی سے روشن ہیں مگر اسے منعکس بھی کرتے ہیں۔ کچھ ستارے ہیں جو اپنا سارا ایندھن استعمال کرکے خود اپنے بوجھ تلے آکر کچلے جاتے ہیں، مردہ ستارے، جو نہ صرف اپنی روشنی خود ہی نگل جاتے ہیں بلکہ قریب سے گزرتے ستاروں اور ان کی روشنی بھی، تاریک روزن، بلیک ہولز۔۔۔ جن سے بچنے کو روشنی کی رفتار سے زیادہ تیزی سے سفر کرنا پڑے۔۔۔۔
اور کچھ نیوٹران ستارے ہیں، جو کسی سپر نووا میں جنم لیتے ہیں، جو ایک دوسرے کے گرد محوِ گردش سگنلز دیتے رہتے ہیں۔۔۔ جن میں سے کوئی ایک ختم ہو جائے یا کہیں دور چلا جائے تو دوسرا بھی خلا کی وسعتوں میں گم ہو جاتا ہے۔۔۔ عجیب اور انوکھے ۔۔۔۔۔ جن میں سے کوئی ایک دوسرے سے بڑا ہو تو دوسرے کو نگل کر تاریک روزن بنا لیتا ہے۔۔۔۔Pairs
تو یوں ہے کہ کچھ ستاروں کی زندگیاں انسانوں جیسی ہوتی ہیں اور کچھ انسانوں کی ستاروں جیسی۔۔۔۔

Thursday, May 14, 2015

کچھ لوگوں کو زندگی آزماتی ہے اور جنہیں زندگی نہیں آزماتی وہ دوسروں کو آزماتے ہیں۔

Tuesday, May 12, 2015

یہ صلاحیت بھی رحمت اور زحمت دونوں ہی ہے کہ آپ جان لیں کہ کب کون صرف زبان سے بات کر رہا ہے اور کب کون دل سے۔۔۔
یہ کہ آپ اپنے مخاطب کے دماغ کا حجم اور اس میں موجود خباثت کی مقدار بھی دیکھ سکتے ہوں۔۔
یہ کہ آپ کو بظاہر مخلص لوگوں کی صرف آنکھوں میں جھانک کر معلوم ہو جائے کہ ان کی کیا کیا چھپی ہوئی غرض اور ارادے ہیں۔۔۔
اور رحمت بھی۔۔ کہ آپ کسی کی آنکھوں میں جھانک کر کیا، محض چند جملوں سے ہی اس کا باطن پڑھ لیں اور اس پر اعتبار کر سکیں۔۔۔

Friday, April 24, 2015

خواب اندر خواب

یہ کون بتا سکتا ہے کہ ہم ابھی خواب میں ہیں یا خواب وہ ہے جو ہم نیند کے عالم میں دیکھتے ہیں۔ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ دنیا خواب اندر خواب ہے۔ ایسی کتنی ہی کہانیاں لکھنے والوں نے بُنیں کہ جن میں کردار جاگتے میں غائب تھے اور نیند کے عالم میں کسی اور جہان میں کوئی اور زندگی گزارتے تھے۔ خواب اور بیداری کی حقیقت کون بتا سکتا ہے۔ لیکن جیسی بیداری ہو خواب بھی ویسا ہوتا ہے، یہ البتہ ایک نظریاتی سا بیان ہے۔۔۔۔ خواب جنہیں کہانی کی صورت لکھا جائے تو اچھا خاصا Abstractافسانہ ہوں۔۔۔ میرے پیر چوں کہ زمین سے بندھے ہیں تو میرا تخیل مجھے جب بھی خواب دکھاتا ہے وہ بڑے واضح ہوتے ہیں اور ان کا تاثر اس قدر گہرا ہوتا ہے کہ کئی کئی روز قائم رہتا ہے۔ مجھے خواب میں سیڑھیاں دکھائی دیتی ہیں اکثر، میں اکثر ان کے درمیان میں کہیں ہوتی ہوں، اور سیڑھیوں کا آغاز کہیں دکھائی دے رہا ہوتا ہے نہ انجام۔ سیڑھیاں چلتے چلتے کسی اور زمانے کسی اور وقت کسی اور جگہ کسی اور مکان میں بھی پہنچ جاتی ہیں۔ یا پھر بادل دکھائی دیتے ہیں، گہرے، کالے، پانی سے بھرے، برسنے کو تیار، لیکن وہ بادل ہمیشہ پانی بھرے نہیں ہوتے، کبھی کبھار وہ ستاروں کا جھرمٹ ہوتے ہیں جو قریب آنے پر پتا چلتا ہے کہ کانچ کے پرندوں کا غول تھا، اور پھر وہ غول کا غول موسلادھار بارش کی طرح برس گیا، کبھی بادلوں کے ساتھ سرخ آندھی اٹھتی ہے اور تیز ہوائوں کے ساتھ جب وہ برستے ہیں تو معلوم ہوا کہ وہ تو پتیاں تھیں گلابوں کی۔۔ڈھیروں۔۔۔ گلاب، حسنِ ازل کی نشانی؟؟؟ کبھی بلور کی طرح چمکتا شفاف پانی میرے گھر کے صحن میں جھیل بنا لیتا ہے۔۔۔اتنا شفاف کہ اس کی تہ میں پڑے پتھر مجھے دکھائی دیتے ہیں رنگ برنگے، انمول مگر بے مول۔۔۔  پانی اور روشنی سے جھلملاتے عکس۔۔۔۔ کسی دور دراز نامعلوم جگہ پر ایک بڑا سا گھر، جس کی شہ نشینوں پر پھولوں کے گملے ہیں، جس کے بڑے بڑے خاموش نیم تاریک برآمدے خالی پڑے ہیں، جس کے کھلے سے صحن سے آسمان پر چاند دکھائی دیتا ہے، انار کے پیڑ پر سرخ پھول اور پیڑ تلے فرش پر جھڑنے والے پھولوں کا ڈھیر، اور وہیں کسی برآمدے میں کسی آواز کا پیچھا کرتے کرتے اچانک ایک کھلی وسیع جگہ ، منجمد جھیل اور اس سے منعکس ہوتی چاندنی۔۔۔اَن دیکھے راستے، گھنے جنگل، درخت جو کبھی نہیں دیکھے جاگتے میں، ان کے پتوں سے چھن چھن کر آتی دھوپ ، چمکتے سورج کی روشنی جس کی شدت سے آنکھیں نہیں کھلتیں لیکن جس میں حدت بھی نہیں ہوتی، روشنی اور سایوں کا کھیل جو جاگتے میں بھی کسی اور زمانے کسی اور دور میں کسی دوسرے جہان میں پہنچا دیتا ہے، کبھی اپنے گھر میں جامن کے درخت تلے اتنے سارے کچھوے، برآمدے میں رسی سے بندھا شیر۔۔۔ اجنبی لوگ، جنہیں خواب میں مَیں خوب پہچانتی ہوں۔۔۔ جانتی ہوں۔۔۔ اور ایک آدھ بار ایسا ہوا کہ خواب میں دیکھا شخص بعد میں اصل میں دکھائی دے گیا، ویسی ہی بات، وہی انداز۔۔۔۔ تو پھر اصل کیا ہے، وہ جو اب دیکھ رہی ہوں، یا وہ جو نیند میں دکھائی دیتا ہے۔۔۔ یا پھر یہ دنیا واقعی خواب اندر خواب ہے۔۔۔۔

Saturday, February 14, 2015

وہ جن کی اپنی زندگیوں میں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، اکثر دوسروں کی زندگیوں کا مسئلہ بن جاتے ہیں

Friday, January 9, 2015

خود اپنی ذات کے ساتھ امن سے رہنے کے دو ہی رستے ہیں۔۔۔
 دل کو اپنی بات پر منا لو یا دل کی مان لو۔۔۔

Thursday, January 1, 2015

کیا کریں کہ دل بددماغ ہوچکا ہے اور دماغ بددل۔۔۔