Saturday, June 13, 2015


اس کائنات میں ستارے کبھی اکیلے پیدا نہیں ہوتے۔ گرد کے بادلوں میں ہمیشہ دو یا دو سے زیادہ ستارے وجود میں آتے ہیں۔ وہ ستارے جو وجود میں آنے کے بعد ایک بڑی گردش، پیہم گردش کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ایک دوسرے کے گرد گھومنے لگتے ہیں اور ایک دوسرے کو لیے کسی گردشِ مدام کا حصہ بن جاتے ہیں۔ "احد"صرف ایک ہی کا نام ہے، "احد" ، تنہا، اکیلا، یکتا، منفرد، بے نیازاور ایسا بے نیاز کہ اپنے بندوں کو بہت دیر بے نیاز بھی نہیں رہنے دیتا کہ یہ بھی تنہا اُسی کی صفت ہے، ایسا بے نیاز جو بندوں کو کسی نہ کسی گردش کا حصہ بنائے رکھتا ہے۔
ان گردش میں مگن ستاروں سیاروں کی اور انسانوں کی زندگیوں میں ان کی کہانی میں بہت کچھ ملتا جلتا اور مشترک بھی ہے۔
خلا میں آواز کی لہریں سفر نہیں کرسکتیں۔ کچھ لوگوں سے ہم فاصلے پر ہوتے ہیں اور کچھ لوگوں اور ہمارے بیچ خلا ہوتا ہے جہاں آواز کی لہریں سفر نہیں کر پاتیں۔ اور کچھ لوگوں کے اندر خلا ہوتا ہے۔ خلا جس میں روشنی سفر کر سکتی ہے، صرف روشنی، نور۔۔۔
اس خلا میں کچھ ستارے ہیں جو جلتے ہیں، خود فروزاں ہیں اور دوسروں کو روشنی فراہم کرتے ہیں، کچھ وہ ہیں جو مستعار لی گئی روشنی سے روشن ہیں مگر اسے منعکس بھی کرتے ہیں۔ کچھ ستارے ہیں جو اپنا سارا ایندھن استعمال کرکے خود اپنے بوجھ تلے آکر کچلے جاتے ہیں، مردہ ستارے، جو نہ صرف اپنی روشنی خود ہی نگل جاتے ہیں بلکہ قریب سے گزرتے ستاروں اور ان کی روشنی بھی، تاریک روزن، بلیک ہولز۔۔۔ جن سے بچنے کو روشنی کی رفتار سے زیادہ تیزی سے سفر کرنا پڑے۔۔۔۔
اور کچھ نیوٹران ستارے ہیں، جو کسی سپر نووا میں جنم لیتے ہیں، جو ایک دوسرے کے گرد محوِ گردش سگنلز دیتے رہتے ہیں۔۔۔ جن میں سے کوئی ایک ختم ہو جائے یا کہیں دور چلا جائے تو دوسرا بھی خلا کی وسعتوں میں گم ہو جاتا ہے۔۔۔ عجیب اور انوکھے ۔۔۔۔۔ جن میں سے کوئی ایک دوسرے سے بڑا ہو تو دوسرے کو نگل کر تاریک روزن بنا لیتا ہے۔۔۔۔Pairs
تو یوں ہے کہ کچھ ستاروں کی زندگیاں انسانوں جیسی ہوتی ہیں اور کچھ انسانوں کی ستاروں جیسی۔۔۔۔

No comments:

Post a Comment