میں اب کبھی کبھی سوشل میڈیا کھولنے سے بھی ہچکچاتی ہوں، کیوں کہ نہیں معلوم کس لمحے کون سی خبر سامنے آئے اور کسی آتش فشاں کی طرح دل پر پھٹ پڑے۔ ایسی خبر جس پر انسان صرف کڑھ سکتا ہے، مگر کچھ کر نہیں سکتا۔ اب میں نے اپنے لیے ایک اور راستہ اختیار کیا ہے۔ میں سوچتی ہوں کہ پچاس، سو سال پہلے بھی تو انسان جیتا تھا۔ اس وقت دنیا بھر کی ہر خبر ہر شخص تک نہیں پہنچتی تھی۔ ہر سانحہ ہر گھر کے اندر داخل نہیں ہوتا تھا۔ ہر دکھ کو اپنے دل پر اٹھانا زندگی کی شرط نہیں تھا۔ ہر خبر پر نظر کا خبط رکھنا ضروری نہیں۔ کمپیوٹر یا موبائل سکرین کے ذریعے دور دراز دنیا کے ہر دکھ میں جھانکنے سے پہلے شاید ہمیں اپنے گھر، اپنے پڑوس، اپنے خاندان اور اپنے معاشرے کی خبر رکھنی چاہیے، جہاں ہماری موجودگی کسی کے کام آ سکتی ہے۔ ضروری یہ ہے کہ انسان اپنے اردگرد کے لوگوں سے باخبر رہے، اپنے حلقۂ اثر کو پہچانے، وہاں موجود رہے جہاں وہ واقعی کسی کے لیے کچھ کر سکتا ہو۔
کسی شاخ سبز کی چھا ؤ ں میں...
یہ خود اپنی دریافت کا سفر ہے۔۔۔ تاریک گوشے میں بیٹھ کر روشن دنیا کو دیکھنے کا عمل۔۔۔
Sunday, June 28, 2026
بچپن کا محرم
Tuesday, June 16, 2026
یا مفتح الابواب، یا مسبب الاسباب۔۔۔
اس مسبب الاسباب، اس مفتح الابواب کا بھروسا رکھنا چاہیے ماننے والوں کو۔۔
کچھ دروازے جب بند ہو رہے ہوتے ہیں تو درحقیقت دروازے کھل رہے ہوتے ہیں۔۔۔ بند ہونے والے دروازوں کو پیٹتے مت رہ جائیے۔۔۔
اور کچھ دروازے جب کھل رہے ہوتے ہیں تو درحقیقت دروازے بند ہو رہے ہوتے ہیں۔۔۔ سو کھلنے والے دروازوں پر بہت خوش مت ہو جائیے۔۔۔
کوشش فرض ہے، نتیجہ ہر صورت اُسی کے ہاتھ میں ہے۔۔۔ اور وہ جو کرتا ہے، بہترین کرتا ہے۔۔۔
Thursday, March 26, 2026
Friday, October 10, 2025
دین۔۔۔ حسبِ ذائقہ
ہم لوگ دین کو بھی بوقت ضرورت اپناتے اور بقدرِ ضرورت سمجھتے ہیں۔۔۔ حسبِ ذائقہ۔۔۔بس۔۔۔
Wednesday, September 10, 2025
روزِ محشر
وہ روز جب مال کام آئے گا نہ اولاد، وہ روز جب کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔۔۔
وہ دن کہ جس کا آنا یقیناً طے ہے، جس دن سب نے اپنے رب کے حضور کھڑے ہونا ہے، اکیلے کھڑے ہونا ہے، تنہا جواب دہ ہونا ہے۔۔۔
تو کیوں نہ آج ہی سے، ابھی سے، اسی دنیا میں ہی، انسان اپنے رب کے سامنے، اس کے حضور یک و تنہا کھڑا ہوجائے۔۔۔ محشر کے روز کا یہیں سے آغاز کر دیا جائے۔۔۔
Saturday, June 21, 2025
Friday, December 13, 2024
ترجمہ
Invisible
ہوتا ہے۔ یہ ’’میں‘‘ کے بغیر کرنے والا کام ہے۔ یہ کام امانت داری کا تقاضا کرتا ہے۔ کتاب ہو یا کچھ بھی، مترجم کی اپنی سوچ، اپنی رائے، اپنا نظریہ، اس میں کہیں نہیں ہونا چاہیے۔ یہ خود نمائی کے بغیر کرنے والا کام ہے۔ خود کو مٹانا پڑتا ہے۔
بقول سلیم الرحمان صاحب، ’’یہ کام عاجزی، صبر اور انکسار مانگتا ہے۔‘‘
Tuesday, October 8, 2024
تنہائی کے لیے حوصلہ درکار ہوتا ہے
تنہائی کے لیے حوصلہ درکار ہوتا ہے۔ خود اپنے ساتھ بیٹھنے کے لیے حوصلہ چاہیے ہوتا ہے۔ یہ ساری بھیڑ ہجوم سرگرمیاں انسان خود اپنے ساتھ تنہا بیٹھنے سے بچنے کو جمع کرتا ہے۔۔۔ مگر۔۔ مگر ایک بار اسی تنہائی کی آنکھوں میں جھانک لے اگر ۔۔ زندگی آسان ہوجاتی ہے اور آزاد بھی۔۔
’’میں‘‘ کا سفر
"میں" کا سفر ، انا کا سفر، تنہائی کا سفر ہے۔
Thursday, September 5, 2024
اخلاق کا امتحان
آپ کی خوش اخلاقی کا امتحان ہی وہی شخص ہے جو آپ کو اچھا نہیں لگتا یا جسے آپ اچھے نہیں لگتے، اخلاق برتنا ہی وہیں ہے، احتیاط کرنی ہی وہیں ہے۔۔۔ باقی خوش اخلاقی تو بنا کسی مشقت کے ہو ہی جاتی ہے۔۔۔
Sunday, September 1, 2024
Saturday, May 25, 2024
نادان دوست
بے وقوف دوست عقل مند دشمن سے زیادہ نقصان کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ نادان مخلص کے کہے سنے پر آنکھیں بند کرکے اعتماد کرنا نادانی ہی ہے۔
Monday, March 25, 2024
ہاتھ میں کیمرے کا خبط
لوگوں کی تصویریں اب خود لوگوں سے انسانوں سے زیادہ اہم ہیں۔۔۔ عجیب خبط ہے ہر وقت ہر موقع پر تصویر کھینچیے، ویڈیو بنائیے۔۔۔اور بناتے ہی رہیے۔۔۔ وہ تصویریں اور وہ ویڈیو جو آپ دوبارہ شاید کبھی کھول کر بھی نہیں دیکھیں گے۔۔۔ مگر انہی کے چکر میں ہم ساتھ موجود زندہ جیتے جاگتے انسانوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔۔۔ ابھی چند روز پہلے میں نے کسی کو کسی دوسرے کی کم و بیش پندرہ بیس کال نظرانداز کرتے دیکھا، کیوں۔۔’’ارے میرے ہاتھ میں کیمرا ہے اس وقت‘‘۔۔۔ اور کمال یہ ہے کہ اس روز سے اب تک میں نے اس ’’ہاتھ میں کیمرے‘‘ سے اس وقت کھینچی گئی تصویروں کو انہیں دوبارہ ایک نظر دیکھتے یا اپلوڈ کرتے بھی نہیں دیکھا۔۔۔ انسان اپنے لیے کیسی کیسی قید کا انتخاب کرتا ہے۔۔۔
انسانوں کی تصویریں اب خود انسانوں سے زیادہ اہم ہیں۔۔۔
کبھی کیمرے کی نہیں، اللہ میاں کی دی ہوئی ان انمول آنکھوں سے بھی دنیا کو زندگی کو اور انسانوں کو دیکھنے کا تجربہ کیجئے تو سہی۔۔۔
اختلاف۔۔۔
لفظ کی ناگوار یاد
ہمیں سکھایا گیا ، لفظ کی ناگوار
یاد نہ چھوڑنا، کسی کے دل کو ٹھیس نہ پہنچانا اپنے کسی لفظ سے۔ ٹھہر کر،
سوچ کر بولنا، مذاق مت اڑانا کہ بے پروائی سے کہے گئے لفظوں کی وجہ سے دلوں میں عزت بھی اور محبت بھی گھٹ
جاتی ہے۔ دوسروں کی عقیدتوں کا احترام کرنا۔چاہے وہ جھوٹی ہی ہوں۔ کہ
سجا رکھے ہیں لوگوں نے دلوں میں
دلوں کی سلامتی کا دھیان واجب ہے۔
سو۔۔ دس میں سے نو بار خاموش رہتے ہیں۔ سو بار سوچ کر تول کر بولتے ہیں، پھر بول کر سوچتے ہیں کہ اب بھی خاموش رہتے تو اچھا تھا، ایسے کون سے گیان کی بات تھی جو بانٹنا ضروری تھا۔ اور بھلا کون منتظر تھا سننے کو۔
Wednesday, March 13, 2024
ایک یاد دہانی
اس دنیا کی کسی بھی بات یا چیز میں بہت دل لگانے اور اس دنیا کی کسی بھی بات یا چیز کو دل پر لگانے کی ایسی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔
ہر وہ چیز یا بات جس کا سبب یا نتیجہ اللہ نہیں ہے، سمجھ لیجئے کہ وہ نہیں ہے۔
Sunday, November 12, 2023
رزق