Tuesday, June 16, 2026

یا مفتح الابواب، یا مسبب الاسباب۔۔۔

اس مسبب الاسباب، اس مفتح الابواب کا بھروسا رکھنا چاہیے ماننے والوں کو۔۔
کچھ دروازے جب بند ہو رہے ہوتے ہیں تو درحقیقت دروازے کھل رہے ہوتے ہیں۔۔۔ بند ہونے والے دروازوں کو پیٹتے مت رہ جائیے۔۔۔
اور کچھ دروازے جب کھل رہے ہوتے ہیں تو درحقیقت دروازے بند ہو رہے ہوتے ہیں۔۔۔ سو کھلنے والے دروازوں پر بہت خوش مت ہو جائیے۔۔۔
کوشش فرض ہے، نتیجہ ہر صورت اُسی کے ہاتھ میں ہے۔۔۔ اور وہ جو کرتا ہے، بہترین کرتا ہے۔۔۔

Thursday, March 26, 2026

رمضان میں شیطان کو شاید اس لیے بھی قید کر دیا جاتا ہے کہ بندے جان لیں اور خوب پہچان لیں کہ ان کے کس کس عمل کے پیچھے، کسی شیطان کا بہکاوا نہیں، بلکہ وہ خود ، خود ان کا نفس ہے۔۔۔


 جس طرح بندے کو خود کو نیک نہیں سمجھنا چاہیے، کہنا نہیں چاہیے، اسی طرح خود کو گناہ گار بھی نہیں کہنا چاہیے، البتہ خطا کار گناہ گار سمجھنا ضرور چاہیے۔۔۔

Friday, October 10, 2025

دین۔۔۔ حسبِ ذائقہ

ہم لوگ دین کو بھی بوقت ضرورت اپناتے اور بقدرِ ضرورت سمجھتے ہیں۔۔۔  حسبِ ذائقہ۔۔۔بس۔۔۔

Wednesday, September 10, 2025

روزِ محشر


وہ روز جب مال کام آئے گا نہ اولاد، وہ روز جب کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔۔۔

وہ دن کہ جس کا آنا یقیناً طے ہے، جس دن سب نے اپنے رب کے حضور کھڑے ہونا ہے، اکیلے کھڑے ہونا ہے، تنہا جواب دہ ہونا ہے۔۔۔

تو کیوں نہ آج ہی سے، ابھی سے، اسی دنیا میں ہی، انسان اپنے رب کے سامنے، اس کے حضور یک و تنہا کھڑا ہوجائے۔۔۔ محشر کے روز کا یہیں سے آغاز کر دیا جائے۔۔۔

Saturday, June 21, 2025

ادب

 ادب کا ایک تقاضا، ادب کا ایک معنی اپنی ہر خواہش سے دستبرداری بھی ہے۔

Friday, December 13, 2024

ترجمہ

 بہترین ترجمہ کی تعریف، بہترین الفاظ میں ہمیشہ یہی کی جاتی ہے کہ ’’یہ ترجمہ نہیں لگتا۔۔۔‘‘ بہترین مترجم وہی ہے جو اپنے ترجمہ میں خود کہیں دکھائی نہیں دیتا،

Invisible
ہوتا ہے۔ یہ ’’میں‘‘ کے بغیر کرنے والا کام ہے۔ یہ کام امانت داری کا تقاضا کرتا ہے۔ کتاب ہو یا کچھ بھی، مترجم کی اپنی سوچ، اپنی رائے، اپنا نظریہ، اس میں کہیں نہیں ہونا چاہیے۔ یہ خود نمائی کے بغیر کرنے والا کام ہے۔ خود کو مٹانا پڑتا ہے۔

بقول سلیم الرحمان صاحب، ’’یہ کام عاجزی، صبر اور انکسار مانگتا ہے۔‘‘



Tuesday, October 8, 2024

تنہائی کے لیے حوصلہ درکار ہوتا ہے

 تنہائی کے لیے حوصلہ درکار ہوتا ہے۔ خود اپنے ساتھ بیٹھنے کے لیے حوصلہ چاہیے ہوتا ہے۔ یہ ساری بھیڑ ہجوم سرگرمیاں انسان خود اپنے ساتھ تنہا بیٹھنے سے بچنے کو جمع کرتا ہے۔۔۔ مگر۔۔ مگر ایک بار اسی تنہائی کی آنکھوں میں جھانک لے اگر ۔۔ زندگی آسان ہوجاتی ہے اور آزاد بھی۔۔

’’میں‘‘ کا سفر

 "میں" کا سفر ، انا کا سفر، تنہائی کا سفر ہے۔ 

"ہم" کا سفر ،سنگت بھرا سفر، آسانیوں کا سفر ہے۔
اللہ اس "میں" کو، اس انا کو، "ہم" پر قربان کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین


Thursday, September 5, 2024

اخلاق کا امتحان

 آپ کی خوش اخلاقی کا امتحان ہی وہی شخص ہے جو آپ کو اچھا نہیں لگتا یا جسے آپ اچھے نہیں لگتے، اخلاق برتنا ہی وہیں ہے، احتیاط کرنی ہی وہیں ہے۔۔۔ باقی خوش اخلاقی تو بنا کسی مشقت کے ہو ہی جاتی ہے۔۔۔

Sunday, September 1, 2024

وہ غصہ کس قدر سمجھ دار ہوتا ہے جو بے بس اور کمزور پر ہی آتا ہے اور بااختیار اور طاقتور کے سامنے رفع ہو جاتا ہے۔ وہ خوش اخلاقی بھی کیسی سمجھ دار ہوتی  ہے جو طاقت ور اور کسی صاحب حیثیت و رتبہ کے سامنے تو خوب رنگ دکھاتی ہے مگر رتبے میں اپنے سے بظاہر کمتر کے سامنے بھلا ہی دی جاتی ہے۔

Saturday, May 25, 2024

نادان دوست

 بے وقوف دوست عقل مند دشمن سے زیادہ نقصان کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ نادان مخلص کے کہے سنے پر آنکھیں بند کرکے اعتماد کرنا نادانی ہی ہے۔

Monday, March 25, 2024

ہاتھ میں کیمرے کا خبط

 لوگوں کی تصویریں اب خود لوگوں سے انسانوں سے زیادہ اہم ہیں۔۔۔ عجیب خبط ہے ہر وقت ہر موقع پر تصویر کھینچیے، ویڈیو بنائیے۔۔۔اور بناتے ہی رہیے۔۔۔ وہ تصویریں اور وہ ویڈیو جو آپ دوبارہ شاید کبھی کھول کر بھی نہیں دیکھیں گے۔۔۔ مگر انہی کے چکر میں ہم ساتھ موجود زندہ جیتے جاگتے انسانوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔۔۔ ابھی چند روز پہلے میں نے کسی کو کسی دوسرے کی کم و بیش پندرہ بیس کال نظرانداز کرتے دیکھا، کیوں۔۔’’ارے میرے ہاتھ میں کیمرا ہے اس وقت‘‘۔۔۔ اور کمال یہ ہے کہ اس روز سے اب تک میں نے اس ’’ہاتھ میں کیمرے‘‘ سے اس وقت کھینچی گئی تصویروں کو انہیں دوبارہ ایک نظر دیکھتے یا اپلوڈ کرتے بھی نہیں دیکھا۔۔۔ انسان اپنے لیے کیسی کیسی قید کا انتخاب کرتا ہے۔۔۔
انسانوں کی تصویریں اب خود انسانوں سے زیادہ اہم ہیں۔۔۔

کبھی کیمرے کی نہیں، اللہ میاں کی دی ہوئی ان انمول آنکھوں سے بھی دنیا کو زندگی کو اور انسانوں کو دیکھنے کا تجربہ کیجئے تو سہی۔۔۔

اختلاف۔۔۔

 

اختلافِ رائے کے احترام میں یہ بھی تو شامل ہو کہ دوسروں کے انتخاب کا اور اس انتخاب کے حق کا احترام کیا جائے، دوسرے کہ جن کے لیے زندگی کے، کامیابی کے ،اطمینان کے پیمانے، اور جینے کے ڈھنگ آپ سے کچھ مختلف ہو سکتے ہیں۔ سب کا آپ ہی کو فالو کرنا ضروری نہیں۔ سب کا ایک ہی رنگ ہونا ضروری نہیں۔ جو ہے جیسا ہے اسے ویسا تسلیم کر لیجئے ۔۔۔۔انگور کی بیل کو نیم کی چھتنار چھائوں بنانے پر اصرار کیوں۔۔۔ ہم خرگوش سے کہتے ہیں کہ بھئی تو اڑتا کیوں نہیں، شتر مرغ تیرتا کیوں نہیں۔۔ ساری عمر ہم بلی کو طوطا، طوطے کو مچھلی اور مچھلی کو کوئل بنانے میں لگے رہتے ہیں۔۔۔


لفظ کی ناگوار یاد

 ہمیں سکھایا گیا ، لفظ کی ناگوار یاد نہ چھوڑنا، کسی کے دل کو ٹھیس نہ پہنچانا اپنے کسی لفظ سے۔ ٹھہر کر، سوچ کر بولنا، مذاق مت اڑانا کہ بے پروائی سے کہے گئے لفظوں کی وجہ سے دلوں میں عزت بھی اور محبت بھی گھٹ جاتی ہے۔ دوسروں کی عقیدتوں کا احترام کرنا۔چاہے وہ جھوٹی ہی ہوں۔ کہ

سجا رکھے ہیں لوگوں نے دلوں میں

بتوں کو توڑیے آہستگی سے

دلوں کی سلامتی کا دھیان واجب ہے۔

سو۔۔ دس میں سے نو بار خاموش رہتے ہیں۔ سو بار سوچ کر تول کر بولتے ہیں، پھر بول کر سوچتے ہیں کہ اب بھی خاموش رہتے تو اچھا تھا، ایسے کون سے گیان کی بات تھی جو بانٹنا ضروری تھا۔ اور بھلا کون منتظر تھا سننے کو۔ 
مگر  یہ ساری ذمہ داریاں ہم جیسوں کی کیوں ہیں۔ 
ہم جیسے جنہیں اب کسی میوزیم میں رکھ دینا چاہیے، متروک نسل۔۔۔
وہ بھی تو ہیں جو بولتے ہیں اور سوچتے تک نہیں۔ سینس آف ہیومر کے نام پر کسی بھی دل کو ٹھیس پہنچا کر بھی نہیں سوچتے، کہ  ارے میں نے تو مذاق میں کہا تھا۔۔



Wednesday, March 13, 2024

 لاکھ بار شکر اس سب کے لیے جو اللہ نے عطا کیا اور کروڑہا بار شکر اس سب کے لیے جو اللہ نے عطا نہیں کیا۔

ایک یاد دہانی

 اس دنیا کی کسی بھی بات یا چیز میں بہت دل لگانے اور اس دنیا کی کسی بھی بات یا چیز کو دل پر لگانے کی ایسی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔
ہر وہ چیز یا بات جس کا سبب یا نتیجہ اللہ نہیں ہے، سمجھ لیجئے کہ وہ نہیں ہے۔

Sunday, November 12, 2023

رزق

 

پچھلے دو ہفتے کے دوران میں نے چند ایک کو کسی ایک ہی شخص سے کچھ ایسا کہتے سنا ہے کہ اللہ تو خوش باش صورتوں والوں کو ہی کھلا رزق دیتا ہے۔ غم زدہ دوسرے لفظوں میں Grieving لوگوں کا رزق ان کی روتی دھوتی صورت کی وجہ سے کم ہو جاتا ہے یا روک لیا جاتا ہے۔

ان لفظوں کی درپردہ سختی ایک طرف۔۔ مگر سوال اٹھا ذہن میں کہ کیا واقعی ایسا ہے؟؟ اور آج سوچتے سوچتے یہ آیاتِ قرآنی ذہن میں آئیں۔۔ (یہ بھی رزق کی ایک صورت ہے، نگاہ کے لیے حسن نظارہ، کان کے لیے حسن سماعت، دماغ کے لیے حسن خیال ، پیروں کے لیے خیر کی راہ، ہاتھ کے لیے خیر کا کام، زبان کے لیے دوسروں سے دیکھ بھال کر بات کرنا اور حسن کلام، سب پاک رزق ہے) تو یہ بھی سوچا کہ اس ’’رزق‘‘ میں دوسروں کو شریک کیا جائے۔
الله يبسط الرزق لمن يشاء ويقدر
الله يبسط الرزق لمن يشاء من عباده ويقدر له
اللہ شکلیں دیکھ کر رزق نہیں دیتا۔۔۔۔۔۔ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور جس کے لیے چاہے تنگ کر دے۔۔۔۔ جب چاہے تنگی کو فراخی میں بدل دے۔۔۔
رزق کی فراخی ، بخشے جانے کی، اللہ کے پسندیدہ ہونے کی نشانی بھی نہیں ہے۔۔۔
اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ۔۔۔
فتنہ یعنی امتحان۔۔ یہاں ہر چیز امتحان ہی ہے۔۔ تنگی بھی فراخی بھی۔۔۔
ہاں ضرور، شکر کرنے والوں کو وہ اور نوازتا ہے۔ لَئِن شَكَرْتُمْ لأَزِيدَنَّكُمْ ۔۔۔ مگر کسی کی کیفیت کی خبر خود اس کو ہو سکتی ہے یا اللہ کو۔ کوئی انسان کسی کے اندر کی کیفیت کو یقین سے کیسے جان سکتا ہے؟ رنج زدہ دل ایک ہی وقت میں رنج اور شکر کرسکتا ہے۔ محروم دعا دے سکتا ہے دوسروں کو اور شاکر بھی ہو سکتا ہے، یہ ممکن ہے۔ اور جس بھی حال میں اللہ یاد رہے، وہی فضل ہے وہی رحمت ہے، چاہے وہ کوئی تنگی ہو یا فراخی۔۔۔
اور مبارک ہیں وہ جو دوسروں کے دلوں کو ٹھیس نہ پہنچانے کی خاطر بہت دیکھ بھال کر بولتے ہیں۔۔ مبارک ہیں وہ جو ایسی کسی کوتاہی کا شعور ہونے پر اپنی غلطی سے رجوع کرتے ہیں۔
اور مبارک ہیں وہ جو دوسروں کو ان کی تنگی کے وقت میں ان کی اچھائی کی یاد دلاتے ہیں، ان کی اصل کی طرف واپس لوٹنے کی راہ دکھاتے ہیں، بجائے judge کرنے کے، بجائے انگلی اٹھانے کے، بجائے خود اپنی شکرگزاریوں کا اعلان کرنے کے۔
اللہ تعالیٰ بھی یہی کہتے ہیں کہ ایک دوسرے کو یاد دلا دیا کرو۔
تو یاد رہے کہ تنگی کا یہی وقت فراخی بھی ہے، یاد دہانی بھی ہے کہ آج کا وقت گزر جائے گا اور کل کو آپ کی جگہ کوئی اور ہو تو آپ اس کے لیے کاندھا بنیں گے، دلاسا بنیں گے، ڈھارس بنیں گے۔ اپنی شکرگزاری اور اس کی ناشکری کا اعلان نہیں بنیں گے۔ رحمتوں کی امید کا اعلان بنیں گے۔
مبارک ہیں وہ جو سنت اللہ اور سنت الرسول کے مطابق ۔۔۔ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰى۔۔ کی تفسیر بنتے ہیں، انسانوں کو چیزوں کی طرح استعمال کے بعد ، ہاتھ تھامنے کے بعد چھوڑتے نہیں ہیں۔
اور وہ جن کی آنکھیں نم ہیں اللہ انہیں وہ آنسو دے جو گلے شکوے کے نہ ہوں ۔ رحم کے ہوں نرمی کے ہوں ، خوف کے نہ ہوں شوق کے ہوں، اللہ کی یاد کے ہوں، آمین
ہم سب محتاج ہیں، اللہ کے حضور فقیر ہیں، اللہ ہمیں ہماری محتاجی کا شعور دئیے رکھے، ہم سب کو محتاجوں کی محتاجی سے بچائے، آمین

Saturday, November 11, 2023

مقامِ شکر

اور  یہ تو مقامِ شکر ہے کہ آپ کسی انسان سے کوئی امید رکھیں ، وہ اس امید کے ساتھ ساتھ آپ کو بھی توڑ دے۔۔
الحمدللہ

Monday, July 31, 2023

شکر و عاجزی کا غرور

 

ایک غرور عاجزی کا اور شکرگزاری کا بھی ہوتا ہے، ادھر کسی نے اپنے کسی کمزور لمحے میں اپنی کسی مشکل کا ذکر کیا نہیں ، اور ہم نے کہا، بھئی ہمیں تو اللہ نے بہت نوازا ہے ہم تو شکر گزار ہیں اس کے۔
شکر گزاری تو پتا نہیں اسے پتھر دلی ضرور کہا جاتا ہے۔