Sunday, June 28, 2026

ہر خبر پر نظر

 میں اب کبھی کبھی سوشل میڈیا کھولنے سے بھی ہچکچاتی ہوں، کیوں کہ نہیں معلوم کس لمحے کون سی خبر سامنے آئے اور کسی آتش فشاں کی طرح دل پر پھٹ پڑے۔ ایسی خبر جس پر انسان صرف کڑھ سکتا ہے، مگر کچھ کر نہیں سکتا۔ اب میں نے اپنے لیے ایک اور راستہ اختیار کیا ہے۔ میں سوچتی ہوں کہ پچاس، سو سال پہلے بھی تو انسان جیتا تھا۔ اس وقت دنیا بھر کی ہر خبر ہر شخص تک نہیں پہنچتی تھی۔ ہر سانحہ ہر گھر کے اندر داخل نہیں ہوتا تھا۔ ہر دکھ کو اپنے دل پر اٹھانا زندگی کی شرط نہیں تھا۔ ہر خبر پر نظر کا خبط رکھنا ضروری نہیں۔ کمپیوٹر یا موبائل سکرین کے ذریعے دور دراز دنیا کے ہر دکھ میں جھانکنے سے پہلے شاید ہمیں اپنے گھر، اپنے پڑوس، اپنے خاندان اور اپنے معاشرے کی خبر رکھنی چاہیے، جہاں ہماری موجودگی کسی کے کام آ سکتی ہے۔ ضروری یہ ہے کہ انسان اپنے اردگرد کے لوگوں سے باخبر رہے، اپنے حلقۂ اثر کو پہچانے، وہاں موجود رہے جہاں وہ واقعی کسی کے لیے کچھ کر سکتا ہو۔




بچپن کا محرم

 

مجھے یاد ہے، ہمارے بچپن میں دس محرم کی صبح سورج نکلتے ہی میرے ابا کدال، پانی کی بالٹی، باجرہ، ٹوٹا چاول، اگر بتیاں وغیرہ لے کر قریبی قبرستان کا رخ کیا کرتے تھے۔ اس وقت تک ہمارے صرف ایک دور پار کے عزیز کی قبر وہاں موجود تھی۔ میرے دادا دادی بھی اس شہر میں مدفون نہیں تھے۔ آج خیال آتا ہے کہ شاید ابا محسوس کرتے ہوں گے کہ اگر اپنے ماں باپ کی قبروں پر جا کر دعا کرنا ممکن نہیں تو اسی شہر کے کسی قبرستان میں، کسی اور قبروں کے سرہانے کھڑے ہو کر بھی اپنے والدین کے لیے دعا کی جا سکتی ہے۔ ہم چھوٹے بہن بھائی اسی شوق سے ان کے ساتھ چل پڑتے، جیسے صبح فجر کے بعد سیر کے لیے جایا کرتے تھے۔  کئی برس گزرے اور آگے پیچھے میری پھوپھو اور پھوپھا جان کی وفات کے بعد ابا دس محرم کو پہلے قریبی اور پھر مسلم ٹائون کے قبرستان بھی جانے لگے جہاں پھوپھو اور ابا کے کچھ کولیگس کی قبریں بھی تھیں۔۔ وقت نے ایک اور چکر پورا کیا اور اب اسی قبرستان میں امی اور ابا ایک دوسرے کے برابر آرام کررہے ہیں۔۔
مگر اب میں سوچتی ہوں کہ آج کے بچوں کو اس طرح اپنی روایتوں، اپنی زمین اور اپنے گزرے ہوئے لوگوں سے جوڑنے کا رواج بہت کم رہ گیا ہے۔
مجھے یاد ہے ، محرم شروع ہوتے ہی ہمارے گھر کا ماحول بدل جاتا تھا۔ یوں تو سارا سال ہی پانی کے استعمال اور رزق کے معاملے میں احتیاط کی جاتی تھیں، بار بار یاد دلایا جاتا  تھا کہ ہر نعمت کی پوچھ ہونی ہے۔ لیکن محرم میں یہ احتیاط اور بڑھ جاتی تھی۔ بار بار کہا جاتا کہ پانی ضائع نہ کرو، بلکہ ضرورت سے زیادہ استعمال ہی نہ کرو۔ کپڑے بعد میں دھل جائیں گے، فرش یہ دن گزرنے پر دھل سکتے ہیں۔۔۔ ہم بچے تھے پوچھتے، کیوں؟ ابا صرف تاکید کرتے، اور جواب ہمیشہ امی کی طرف آتا۔ وہ کسی کا نام لیے بغیر کہتیں۔۔۔ ’’اُونہاں نوں دو گھٹ پانی نئیں سی لبھیا۔ تسی شرم کرو۔‘‘
آج اتنے برس بعد محسوس ہوتا ہے کہ وہ احترام، حساسیت، دل کی وہ نرمی، وہ رقت، ہمارے اجتماعی رویوں سے آہستہ آہستہ کم ہوتی چلی گئی ہے، اتنی کہ اب معدوم ہونے کے قریب ہے۔ صرف لا پرواہ ہی نہیں۔ شاید ہم خود کو زیادہ ہی عقل پسند سمجھنے لگے ہیں۔ شاید ہمیں ہر بات پر بولنے، نکتے اٹھانے، بحث کرنے کی عادت ہوچلی ہے۔ پہلے وہ ماں باپ تھے جو بولنا ہی نہیں خاموش رہنا بھی سکھاتے تھے، اب ہمیں متواتر، لگاتار، ہر وقت، ہر معاملے پر بولنا ہے، سوال اٹھانا ہے، بحث کرنا ہے، اپنا نقطہ نظر پیش کرنا ہے۔ حضرت علیؓ کا ایک قول ہے کہ ہر معاملے پر رائے رکھنا ضروری نہیں ہوتا۔
Leave what does not concern you.
ہر بات جاننا ، پھر اس کو اس عقل کی کسوٹی پر تولنا، جو خود بہت محدود ہے، کیوں اتنا ضروری ہے؟ پھر مسلکوں، گروہوں، فرقوں اور پتا نہیں کس کس پر تولنا۔۔
آج ہمیں ہر بات پر بولنا، دلیل دینا اور سوال کرنا سکھایا جاتا ہے۔ حالاں کہ زندگی میں کچھ سوال ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے جواب بحث سے نہیں، خاموشی میں ملتے ہیں۔ صرف انتظار کرنا پڑتا ہے۔ گھٹنے ٹیک کر بیٹھنا پڑتا ہے۔
مجھے یاد ہے، ایک زمانہ تھا جب ٹیلی ویژن پر دس محرم کے دن صرف مرثیے، نوحے اور اسی مناسبت کے پروگرام نشر ہوتے تھے۔ بعد میں جب پرائیویٹ ٹی وی چینل آئے تو دوسرے پروگرام بھی آنے لگے، مگر ہمارے گھر میں پھر بھی کہا جاتا تھا، ’’ایہہ چار دن صبر کر لو۔‘‘ کوئی موسیقی یا ڈرامہ کیا، ٹی وی اونچی آواز میں نہیں چلتا تھا۔ ہمیں آہستہ قدموں سے چلنے کی تلقین کی جاتی تھی۔  گھر پر ایک خاموش سی سنجیدگی طاری رہتی۔ جیسے حج کے دنوں میں امی کی کمنٹری جاری رہتی تھی، اب یہ ہورہا ہوگا وہاں، اب یہ۔ ان دنوں بھی۔ اب یوں ہوا تھا، آج کے دن ایسا۔ ایسے جیسے کسی متوازی وقت میں وہ سب جاری و ساری ہو۔
آج یہ سب یاد آتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ شاید ان کا مقصد ہمیں تاریخ کا سبق پڑھانا نہیں بلکہ ہمارے دل کو نرم رکھنا، ادب سکھانا تھا۔ آج بھی محرم آتا ہے اور زندگی اسی رفتار سے چلتی رہتی ہے، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ تب کبھی کبھی مجھے بے اختیار خیال آتا ہے... وہ ماں باپ کہاں چلے گئے جو بچوں کو پانی کا ایک قطرہ ضائع کرنے پر بھی ٹوک دیا کرتے تھے،
"پانی ضائع نہ کرو... انہیں تو دو گھونٹ پانی بھی نصیب نہیں ہوئے تھے۔"
ہم میں سے کوئی کسی مسلک کی بات کرتا تو ایسا ٹھوک کر جواب ملتا امی یا ابا کی طرف سے، ’’۔۔۔تسی اپنی فکر کرو۔‘‘
مجھے یہ بھی یاد ہے کہ ان دنوں، اور سچ تو یہ ہے کہ باقی دنوں میں بھی، ہمیں زمین پر پاؤں پٹخ کر چلنے سے منع کیا جاتا تھا۔ امی فوراً کہتیں، زمین جواب دیتی ہے تمہارے پاؤں پٹخنے کا۔ کل کو تم نے اسی کے اندر ہی لوٹ جانا ہے۔ آج اس بات پر بہت سی نفسیاتی اور تربیتی بحثیں ہو سکتی ہیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ چھوٹے بچوں کے ذہن میں موت کا تصور کیوں بٹھایا جائے، انہیں کیوں ایسے خیالات سے آشنا کیا جائے۔ لیکن ہمارے بچپن میں یہ تربیت کے معمول کا حصہ تھا۔ ہمارے بڑے آخرت کو زندگی کے عین بیچ میں رکھا کرتے تھے۔
آج مجھے کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ ہم اللہ کو مانتے ہیں، رسول ﷺ کو مانتے ہیں، آخرت کا اقرار بھی کرتے ہیں، مگر شاید آخرت کا یقین، مرنے کے بعد اٹھانے جانے اور جواب دہی کا یقین ہماری روزمرہ زندگی سے رخصت ہوتا جا رہا ہے۔ اس سارے جاری فساد کی وجہ ہی یہ ہے۔
اب یہ یاددہانی کروانے والے لوگ یا تو خاموش ہوگئے ہیں یا رہے نہیں، بولنے کی جگہ کبھی کبھار خاموش ہو جانا، دکھائی دئیے جانے کے خبط کی بجائے دیکھنا اور آنکھیں کھول کر دیکھنا، آگے بڑھنے کی جگہ دو قدم پیچھے ہٹ جانا، بہت تیز چلنے کی بجائے، کبھی رکنا، ٹھہرنا، تھم کر چلنا سکھانے والے نہیں رہے۔ یا سیکھنے والے ہی نہیں رہے۔۔۔
اب تو لگتا ہے کہ تربیت ہی ہماری زندگیوں سے نکلتی جا رہی ہے۔  ہم خود رو پودوں کی طرح بڑھ تو رہے ہیں، مگر ہمیں سنوارنے والے مالی کم ہوتے جا رہے ہیں۔  شاید اسی لیے مجھے اپنے ان بڑوں کی یاد زندہ رکھنا ضروری لگتا ہے۔ جب تک یاد زندہ ہے، ساتھ زندہ ہے۔
نئے راستوں پر پرانی دنیا کے چراغ ہی راستہ دکھاتے ہیں۔


Tuesday, June 16, 2026

یا مفتح الابواب، یا مسبب الاسباب۔۔۔

اس مسبب الاسباب، اس مفتح الابواب کا بھروسا رکھنا چاہیے ماننے والوں کو۔۔
کچھ دروازے جب بند ہو رہے ہوتے ہیں تو درحقیقت دروازے کھل رہے ہوتے ہیں۔۔۔ بند ہونے والے دروازوں کو پیٹتے مت رہ جائیے۔۔۔
اور کچھ دروازے جب کھل رہے ہوتے ہیں تو درحقیقت دروازے بند ہو رہے ہوتے ہیں۔۔۔ سو کھلنے والے دروازوں پر بہت خوش مت ہو جائیے۔۔۔
کوشش فرض ہے، نتیجہ ہر صورت اُسی کے ہاتھ میں ہے۔۔۔ اور وہ جو کرتا ہے، بہترین کرتا ہے۔۔۔

Thursday, March 26, 2026

رمضان میں شیطان کو شاید اس لیے بھی قید کر دیا جاتا ہے کہ بندے جان لیں اور خوب پہچان لیں کہ ان کے کس کس عمل کے پیچھے، کسی شیطان کا بہکاوا نہیں، بلکہ وہ خود ، خود ان کا نفس ہے۔۔۔


 جس طرح بندے کو خود کو نیک نہیں سمجھنا چاہیے، کہنا نہیں چاہیے، اسی طرح خود کو گناہ گار بھی نہیں کہنا چاہیے، البتہ خطا کار گناہ گار سمجھنا ضرور چاہیے۔۔۔

Friday, October 10, 2025

دین۔۔۔ حسبِ ذائقہ

ہم لوگ دین کو بھی بوقت ضرورت اپناتے اور بقدرِ ضرورت سمجھتے ہیں۔۔۔  حسبِ ذائقہ۔۔۔بس۔۔۔

Wednesday, September 10, 2025

روزِ محشر


وہ روز جب مال کام آئے گا نہ اولاد، وہ روز جب کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔۔۔

وہ دن کہ جس کا آنا یقیناً طے ہے، جس دن سب نے اپنے رب کے حضور کھڑے ہونا ہے، اکیلے کھڑے ہونا ہے، تنہا جواب دہ ہونا ہے۔۔۔

تو کیوں نہ آج ہی سے، ابھی سے، اسی دنیا میں ہی، انسان اپنے رب کے سامنے، اس کے حضور یک و تنہا کھڑا ہوجائے۔۔۔ محشر کے روز کا یہیں سے آغاز کر دیا جائے۔۔۔

Saturday, June 21, 2025

ادب

 ادب کا ایک تقاضا، ادب کا ایک معنی اپنی ہر خواہش سے دستبرداری بھی ہے۔

Friday, December 13, 2024

ترجمہ

 بہترین ترجمہ کی تعریف، بہترین الفاظ میں ہمیشہ یہی کی جاتی ہے کہ ’’یہ ترجمہ نہیں لگتا۔۔۔‘‘ بہترین مترجم وہی ہے جو اپنے ترجمہ میں خود کہیں دکھائی نہیں دیتا،

Invisible
ہوتا ہے۔ یہ ’’میں‘‘ کے بغیر کرنے والا کام ہے۔ یہ کام امانت داری کا تقاضا کرتا ہے۔ کتاب ہو یا کچھ بھی، مترجم کی اپنی سوچ، اپنی رائے، اپنا نظریہ، اس میں کہیں نہیں ہونا چاہیے۔ یہ خود نمائی کے بغیر کرنے والا کام ہے۔ خود کو مٹانا پڑتا ہے۔

بقول سلیم الرحمان صاحب، ’’یہ کام عاجزی، صبر اور انکسار مانگتا ہے۔‘‘



Tuesday, October 8, 2024

تنہائی کے لیے حوصلہ درکار ہوتا ہے

 تنہائی کے لیے حوصلہ درکار ہوتا ہے۔ خود اپنے ساتھ بیٹھنے کے لیے حوصلہ چاہیے ہوتا ہے۔ یہ ساری بھیڑ ہجوم سرگرمیاں انسان خود اپنے ساتھ تنہا بیٹھنے سے بچنے کو جمع کرتا ہے۔۔۔ مگر۔۔ مگر ایک بار اسی تنہائی کی آنکھوں میں جھانک لے اگر ۔۔ زندگی آسان ہوجاتی ہے اور آزاد بھی۔۔

’’میں‘‘ کا سفر

 "میں" کا سفر ، انا کا سفر، تنہائی کا سفر ہے۔ 

"ہم" کا سفر ،سنگت بھرا سفر، آسانیوں کا سفر ہے۔
اللہ اس "میں" کو، اس انا کو، "ہم" پر قربان کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین


Thursday, September 5, 2024

اخلاق کا امتحان

 آپ کی خوش اخلاقی کا امتحان ہی وہی شخص ہے جو آپ کو اچھا نہیں لگتا یا جسے آپ اچھے نہیں لگتے، اخلاق برتنا ہی وہیں ہے، احتیاط کرنی ہی وہیں ہے۔۔۔ باقی خوش اخلاقی تو بنا کسی مشقت کے ہو ہی جاتی ہے۔۔۔

Sunday, September 1, 2024

وہ غصہ کس قدر سمجھ دار ہوتا ہے جو بے بس اور کمزور پر ہی آتا ہے اور بااختیار اور طاقتور کے سامنے رفع ہو جاتا ہے۔ وہ خوش اخلاقی بھی کیسی سمجھ دار ہوتی  ہے جو طاقت ور اور کسی صاحب حیثیت و رتبہ کے سامنے تو خوب رنگ دکھاتی ہے مگر رتبے میں اپنے سے بظاہر کمتر کے سامنے بھلا ہی دی جاتی ہے۔

Saturday, May 25, 2024

نادان دوست

 بے وقوف دوست عقل مند دشمن سے زیادہ نقصان کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ نادان مخلص کے کہے سنے پر آنکھیں بند کرکے اعتماد کرنا نادانی ہی ہے۔

Monday, March 25, 2024

ہاتھ میں کیمرے کا خبط

 لوگوں کی تصویریں اب خود لوگوں سے انسانوں سے زیادہ اہم ہیں۔۔۔ عجیب خبط ہے ہر وقت ہر موقع پر تصویر کھینچیے، ویڈیو بنائیے۔۔۔اور بناتے ہی رہیے۔۔۔ وہ تصویریں اور وہ ویڈیو جو آپ دوبارہ شاید کبھی کھول کر بھی نہیں دیکھیں گے۔۔۔ مگر انہی کے چکر میں ہم ساتھ موجود زندہ جیتے جاگتے انسانوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔۔۔ ابھی چند روز پہلے میں نے کسی کو کسی دوسرے کی کم و بیش پندرہ بیس کال نظرانداز کرتے دیکھا، کیوں۔۔’’ارے میرے ہاتھ میں کیمرا ہے اس وقت‘‘۔۔۔ اور کمال یہ ہے کہ اس روز سے اب تک میں نے اس ’’ہاتھ میں کیمرے‘‘ سے اس وقت کھینچی گئی تصویروں کو انہیں دوبارہ ایک نظر دیکھتے یا اپلوڈ کرتے بھی نہیں دیکھا۔۔۔ انسان اپنے لیے کیسی کیسی قید کا انتخاب کرتا ہے۔۔۔
انسانوں کی تصویریں اب خود انسانوں سے زیادہ اہم ہیں۔۔۔

کبھی کیمرے کی نہیں، اللہ میاں کی دی ہوئی ان انمول آنکھوں سے بھی دنیا کو زندگی کو اور انسانوں کو دیکھنے کا تجربہ کیجئے تو سہی۔۔۔

اختلاف۔۔۔

 

اختلافِ رائے کے احترام میں یہ بھی تو شامل ہو کہ دوسروں کے انتخاب کا اور اس انتخاب کے حق کا احترام کیا جائے، دوسرے کہ جن کے لیے زندگی کے، کامیابی کے ،اطمینان کے پیمانے، اور جینے کے ڈھنگ آپ سے کچھ مختلف ہو سکتے ہیں۔ سب کا آپ ہی کو فالو کرنا ضروری نہیں۔ سب کا ایک ہی رنگ ہونا ضروری نہیں۔ جو ہے جیسا ہے اسے ویسا تسلیم کر لیجئے ۔۔۔۔انگور کی بیل کو نیم کی چھتنار چھائوں بنانے پر اصرار کیوں۔۔۔ ہم خرگوش سے کہتے ہیں کہ بھئی تو اڑتا کیوں نہیں، شتر مرغ تیرتا کیوں نہیں۔۔ ساری عمر ہم بلی کو طوطا، طوطے کو مچھلی اور مچھلی کو کوئل بنانے میں لگے رہتے ہیں۔۔۔


لفظ کی ناگوار یاد

 ہمیں سکھایا گیا ، لفظ کی ناگوار یاد نہ چھوڑنا، کسی کے دل کو ٹھیس نہ پہنچانا اپنے کسی لفظ سے۔ ٹھہر کر، سوچ کر بولنا، مذاق مت اڑانا کہ بے پروائی سے کہے گئے لفظوں کی وجہ سے دلوں میں عزت بھی اور محبت بھی گھٹ جاتی ہے۔ دوسروں کی عقیدتوں کا احترام کرنا۔چاہے وہ جھوٹی ہی ہوں۔ کہ

سجا رکھے ہیں لوگوں نے دلوں میں

بتوں کو توڑیے آہستگی سے

دلوں کی سلامتی کا دھیان واجب ہے۔

سو۔۔ دس میں سے نو بار خاموش رہتے ہیں۔ سو بار سوچ کر تول کر بولتے ہیں، پھر بول کر سوچتے ہیں کہ اب بھی خاموش رہتے تو اچھا تھا، ایسے کون سے گیان کی بات تھی جو بانٹنا ضروری تھا۔ اور بھلا کون منتظر تھا سننے کو۔ 
مگر  یہ ساری ذمہ داریاں ہم جیسوں کی کیوں ہیں۔ 
ہم جیسے جنہیں اب کسی میوزیم میں رکھ دینا چاہیے، متروک نسل۔۔۔
وہ بھی تو ہیں جو بولتے ہیں اور سوچتے تک نہیں۔ سینس آف ہیومر کے نام پر کسی بھی دل کو ٹھیس پہنچا کر بھی نہیں سوچتے، کہ  ارے میں نے تو مذاق میں کہا تھا۔۔



Wednesday, March 13, 2024

 لاکھ بار شکر اس سب کے لیے جو اللہ نے عطا کیا اور کروڑہا بار شکر اس سب کے لیے جو اللہ نے عطا نہیں کیا۔

ایک یاد دہانی

 اس دنیا کی کسی بھی بات یا چیز میں بہت دل لگانے اور اس دنیا کی کسی بھی بات یا چیز کو دل پر لگانے کی ایسی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔
ہر وہ چیز یا بات جس کا سبب یا نتیجہ اللہ نہیں ہے، سمجھ لیجئے کہ وہ نہیں ہے۔

Sunday, November 12, 2023

رزق

 

پچھلے دو ہفتے کے دوران میں نے چند ایک کو کسی ایک ہی شخص سے کچھ ایسا کہتے سنا ہے کہ اللہ تو خوش باش صورتوں والوں کو ہی کھلا رزق دیتا ہے۔ غم زدہ دوسرے لفظوں میں Grieving لوگوں کا رزق ان کی روتی دھوتی صورت کی وجہ سے کم ہو جاتا ہے یا روک لیا جاتا ہے۔

ان لفظوں کی درپردہ سختی ایک طرف۔۔ مگر سوال اٹھا ذہن میں کہ کیا واقعی ایسا ہے؟؟ اور آج سوچتے سوچتے یہ آیاتِ قرآنی ذہن میں آئیں۔۔ (یہ بھی رزق کی ایک صورت ہے، نگاہ کے لیے حسن نظارہ، کان کے لیے حسن سماعت، دماغ کے لیے حسن خیال ، پیروں کے لیے خیر کی راہ، ہاتھ کے لیے خیر کا کام، زبان کے لیے دوسروں سے دیکھ بھال کر بات کرنا اور حسن کلام، سب پاک رزق ہے) تو یہ بھی سوچا کہ اس ’’رزق‘‘ میں دوسروں کو شریک کیا جائے۔
الله يبسط الرزق لمن يشاء ويقدر
الله يبسط الرزق لمن يشاء من عباده ويقدر له
اللہ شکلیں دیکھ کر رزق نہیں دیتا۔۔۔۔۔۔ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور جس کے لیے چاہے تنگ کر دے۔۔۔۔ جب چاہے تنگی کو فراخی میں بدل دے۔۔۔
رزق کی فراخی ، بخشے جانے کی، اللہ کے پسندیدہ ہونے کی نشانی بھی نہیں ہے۔۔۔
اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ۔۔۔
فتنہ یعنی امتحان۔۔ یہاں ہر چیز امتحان ہی ہے۔۔ تنگی بھی فراخی بھی۔۔۔
ہاں ضرور، شکر کرنے والوں کو وہ اور نوازتا ہے۔ لَئِن شَكَرْتُمْ لأَزِيدَنَّكُمْ ۔۔۔ مگر کسی کی کیفیت کی خبر خود اس کو ہو سکتی ہے یا اللہ کو۔ کوئی انسان کسی کے اندر کی کیفیت کو یقین سے کیسے جان سکتا ہے؟ رنج زدہ دل ایک ہی وقت میں رنج اور شکر کرسکتا ہے۔ محروم دعا دے سکتا ہے دوسروں کو اور شاکر بھی ہو سکتا ہے، یہ ممکن ہے۔ اور جس بھی حال میں اللہ یاد رہے، وہی فضل ہے وہی رحمت ہے، چاہے وہ کوئی تنگی ہو یا فراخی۔۔۔
اور مبارک ہیں وہ جو دوسروں کے دلوں کو ٹھیس نہ پہنچانے کی خاطر بہت دیکھ بھال کر بولتے ہیں۔۔ مبارک ہیں وہ جو ایسی کسی کوتاہی کا شعور ہونے پر اپنی غلطی سے رجوع کرتے ہیں۔
اور مبارک ہیں وہ جو دوسروں کو ان کی تنگی کے وقت میں ان کی اچھائی کی یاد دلاتے ہیں، ان کی اصل کی طرف واپس لوٹنے کی راہ دکھاتے ہیں، بجائے judge کرنے کے، بجائے انگلی اٹھانے کے، بجائے خود اپنی شکرگزاریوں کا اعلان کرنے کے۔
اللہ تعالیٰ بھی یہی کہتے ہیں کہ ایک دوسرے کو یاد دلا دیا کرو۔
تو یاد رہے کہ تنگی کا یہی وقت فراخی بھی ہے، یاد دہانی بھی ہے کہ آج کا وقت گزر جائے گا اور کل کو آپ کی جگہ کوئی اور ہو تو آپ اس کے لیے کاندھا بنیں گے، دلاسا بنیں گے، ڈھارس بنیں گے۔ اپنی شکرگزاری اور اس کی ناشکری کا اعلان نہیں بنیں گے۔ رحمتوں کی امید کا اعلان بنیں گے۔
مبارک ہیں وہ جو سنت اللہ اور سنت الرسول کے مطابق ۔۔۔ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰى۔۔ کی تفسیر بنتے ہیں، انسانوں کو چیزوں کی طرح استعمال کے بعد ، ہاتھ تھامنے کے بعد چھوڑتے نہیں ہیں۔
اور وہ جن کی آنکھیں نم ہیں اللہ انہیں وہ آنسو دے جو گلے شکوے کے نہ ہوں ۔ رحم کے ہوں نرمی کے ہوں ، خوف کے نہ ہوں شوق کے ہوں، اللہ کی یاد کے ہوں، آمین
ہم سب محتاج ہیں، اللہ کے حضور فقیر ہیں، اللہ ہمیں ہماری محتاجی کا شعور دئیے رکھے، ہم سب کو محتاجوں کی محتاجی سے بچائے، آمین