Friday, December 26, 2014

ہمیشہ سے مجھے لگتا ہے جیسے دھند کوئی ٹائم ٹنل ہے، وقت میں سفر، کسی دوسرے جہان کا دروازہ، بچپن میں پڑھی کسی کہانی کا سحر۔۔۔۔ جیسے دھند کا یہ دروازہ کسی اور زمانے پہنچا دے گا۔۔۔ گزرے زمانے میں۔۔۔ مگر آج میں نے سوچا کون سا گزرا زمانہ؟ دس برس پہلے کا، جب بھی ایسا ہی کشت و خون جاری تھا، بیس برس پہلے کا؟ جب مسجدوں میں فائرنگ ہوتی تھی، بم پھٹتے تھے اور اخباروں میں لاشوں کی گنتی پر بحث ہوا کرتی تھی کہ کتنے مر گئے، کب نہیں ہوا کہ مذہب، فرقے، رنگ، نسل، صوبائیت اور جانے کس کس نام پر انسان نے انسان کا خون نہ بہایا ہو، کیا ہی مخلوق ہے یہ، واحد کہ جو عظیم تر نظریوں، فلسفوں، عقیدوں کے نام پر، اور کمال کے اپنے جیسے دوسرے انسانوں سے محبت کے نام پر، ایک دوسرے کا خون بہاتی رہی ہے، واحد مخلوق جو خود اپنی جان لے لینے پر بھی قادر ہے۔۔۔واحد مخلوق جسے موت اور زندگی کا شعور دیا گیا مگر جو ہر لمحے مارنے کو اور مرنے کو تو تیار رہتی ہے، جینے کو نہیں۔۔۔ اچھا تو دھند کا یہ دروازہ اگر اس سے بھی پیچھے لے جائے؟ دھندلی سی یاد ہے، خبریں پڑھتے یا سنتے میرے ابا،جو کہا کرتے تھے "ضیا مردود"۔۔۔ اور یہ سمجھنے میں ایک وقت لگا تھا کہ یہ "مردود" کوئی سر نیم یا تخلص نہیں تھا۔۔۔ وہ شخص جس نے ایک پوری نسل رائیگاں کر دی۔۔۔ جس کے بوئے ہوئے بیجوں کے فساد کی فصل اب بھی لہلہلاتی ہے۔۔۔ تو گویا اپنی عمر میں تو کوئی زمانہ امن یا تھا نہ سلامتی کا،تو کوئی نیا جہان تلاش کیا جائے؟ اس دھند کے دروازے کے پار؟ جس میں حد بصارت ہے شاید پچاس فٹ، اور اندر جو دھند ہے اس میں حد بصیرت پانچ سینٹی میٹر بھی نہیں۔۔۔ دس دن ہونے کو آئے، اور ہر گزرتے دن کے ساتھ بے بسی کا، ذمے داری کا ، قصور واری کا، اور ہاں جیسے شراکت جرم کا بڑھتا ہوا بوجھ ہے۔۔۔ کیوں؟ کیوں کہ ہم ۔۔۔ہم خاموش رہے۔۔۔ کیوں کہ ہم نے بڑھتے ہوئے فساد اور پاگل پن سے ڈر کر بولنا چھوڑ دیا۔۔۔ ارے پاگلوں کو کون سی کوئی دلیل یا عقل کی بات سمجھ آتی ہے، کون اپنا سر پھٹوائے، ہم بھی کوئی منصور ہیں؟ ہمارا سر نہیں طفلانِ رہ گزر کے لیے، اس دیارِ سنگ میں۔۔۔ یہی سوچا تھا ناں؟ اور پھر یوں ہوا کہ مارنے والوں نے بلا امتیاز رنگ و نسل، مذہب، آنے والے کل کے خواب ، معصوم بچے مار ڈالے۔۔۔ اور اب کوئی چیخ ہے جو سِل بن کر سینے پو جم سی گئی ہے، مگر مارنے والوں نے مستقبل کے خواب نہیں، جیسے اب سارے خوف مار دئیے ہیں، کیا ہوگا؟ اب اس سے زیادہ کیا ہوگا بھلا؟ کوئی مائیں ہیں، جن کے دکھ کے احترام میں ہنسی اب حلق میں پھنس جاتی ہے، جن کی اذیت کے خیال سے اب نیند آنکھوں میں جاگتی ہے۔۔۔ یا اللہ ۔۔۔۔ کیسی دھند ہے جو آنکھوں کے سامنے ہی نہیں تنی، زمین پر ہی نہیں بلکہ تاریخ پر، عقیدوں پر اور بصیرتوں تک پر چھا چکی ہے۔۔۔ اندھیرے میں تو چراغ روشن ہو جاتے ہیں، دھند میں راہیں کیسے ڈھونڈی جائیں؟؟؟

Sunday, December 21, 2014

سچے لوگو، تھک مت جانا۔۔۔

عجیب بے حسی ہے اور غضب کی بے بسی ہے۔ سوچ ہی سوچ ہے اور لفظ گم ہیں۔ ۔۔۔
کیا کریں کہ جس سے بہت سوں کی بے حسی اور اپنی بے بسی کم ہو، کوئی ایسی چیخ نکلے حلق سے کہ سینے پر دھرا پتھر پھسل جائے ، جو جھنجھوڑ کر سب کو جگا دے، کوئی ایسی چیخ جو کانوں ہی نہیں دلوں تک بھی پہنچے۔۔۔ کوئی تو ایسے لفظ ہوں جن میں تاثیر ہو دلوں میں آگ لگانے کی ۔۔۔ اختیار والوں کو اختیار آزمانے پر اکسانے کی ۔۔۔

کیا چاہتے ہیں ظالم؟  یہی ناں کہ لوگ ظلم کے حق میں دلیلیں لانے لگیں، ایسی سفاکی اور بے رحمی کے عادی ہوتے چلے جائیں، دنیا سے انسانیت اور احساس اٹھ جائے۔۔۔ بد سے بدتر کے عادی، قطار میں کھڑے اپنی اپنی باری کے منتظر۔۔۔ یا اس خوش فہمی کا شکار کہ یہ آگ ان کے گھروں، ان کی نسلوں، ان کے مستقبل، ان کے خوابوں کو نہیں خاک کرے گی؟
ظلم کا جواز ظلم کیسے ہو سکتا ہے؟ ظلم کا جواب ظلم کیسے ہو سکتا ہے؟ ظلم کی دلیل وہاں سے کیسے لائی جا سکتی ہے جو عالمین کی رحمت تھے،جس پر ایک عام حساس دل کانپ جاتا ہو،پھٹ جاتا ہو، اس کی توثیق اس ذات سے منسوب کرنا جو سراسر رحمت ، حلم ، حکمت، محبت؟  وہ خدا جو محبت نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے، اس سے ظلم کے حکم کیسے منسوب کیے جا سکتے ہیں؟

کیا کیا جائے؟ کیا کیا جائے کہ دلوں کو ڈھارس ملے؟ ذہنوں کو تسلی ہو ہاں ہمارے بس میں ہے کچھ؟
بولیں جناب، اب بھی نہ بولے تو آنےوالی نسلیں نہیں روئیں گی، آنے والی نسلیں رہیں گی ہی نہیں، گزرے وقت کو رونے والے چند بوڑھے بے بس باقی رہ جائیں گے، یا جانور، جانور بھی درست لفظ نہیں، انسان نما لوگوں کی ایک بھیڑ۔۔۔ اب بھی نہ بولے تو نہ دنیا کے رہیں گے نہ آخرت کے۔۔۔۔
ہمارے گھروں، سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، دفتروں، سڑکوں، بازاروں، جہاں کہیں بھی ظالموں کے ہمدرد موجود ہیں، مالی، اخلاقی، ڈھکی چھپی جس قسم کی بھی سپورٹ کرنے والے، ان کے خلاف بولیں، ان کو پہچانیں، ان کو ہجوم سے الگ کرکے پہچانیں ، جن کے ذہنوں کی گرد جھاڑ سکتے ہیں جھاڑیں، جن کی سوچ بدل سکتے ہیں بدلیں، جن کی نہیں بدل سکتے ان کی مذمت کریں، ان کا مقابلہ کریں، اخباروں میں لکھنے والے ان طالبان ظالمان کے ہمدرد، میڈیا پر ان کو وقت دینے والے، ان کے حق میں دلیلیں گھڑنے والے، ان کے لیے جواز تراشنے والے۔۔۔
اب تو فیصلہ کرلیں کہ ظالم کے ساتھ ہیں کہ مظلوم کے ساتھ۔۔۔ اب تو چھوڑ دیں مذہب، فرقہ، ذات، نسل، گروہ کی پہچان۔۔۔ مظلوم جس بھی مذہب، فرقے، ذات کا ہے، ہم اس کے ساتھ ہیں۔۔۔ ظالم جس بھی مذہب، فرقے ، ذات کا ہے ۔۔۔ اس کے خلاف۔۔۔۔
یہ بچے جو مار دئیے گئے، خواب تھے آنے والے اچھے دنوں کے، خواب جن کا مذہب، فرقہ، کوئی ذات نہیں۔۔۔آنے والا کل مار دیا گیا۔۔۔ اس پر،  ان کے لیے بھی نہ بولے ، ان پر ظلم کے خلاف بھی نہ لڑے تو کب لڑیں گے پھر۔۔۔۔خاموشی بھی جرم ، خاموشی بھی ظلم کا ساتھ ہے اب تو۔۔۔۔
کسی نے لکھا، اور بجا لکھا، دین داروں سے دین کو نہ پہچانیں، دین سے دین داروں کو پہچانیں، اسلام کو "مسلمانوں" سے نہ پہچانیں، مسلمانوں کو اسلام سے پہچانیں۔۔۔ اسلام جو درسِ انسانیت نہیں تو کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔
کیا کریں؟ یہ کہ اپنے احساس کو مرنے نہ دیں۔۔۔ نہیں، ہم ظلم دیکھ دیکھ کر ظلم اور سفاکی کے عادی نہیں ہوں گے۔۔۔
خون ہمارے لیے کبھی پانی نہیں بنے گا۔۔۔ ہم ظلم کے کوریج پر نہیں پالیں گے اپنے دلوں کو۔۔۔ انہیں احساس سے عاری، مردہ نہیں ہونے دیں گے۔۔۔ ہمارے دلوں کو ظلم پر تڑپنے کے لیے لاشوں کی گنتی کبھی نہیں کرنی۔۔۔
یہ کہ ہم اس ظلم کو، ہر طرح کے ظلم کو معاف نہیں کریں گے، نہیں بھولیں گے۔۔۔ نہیں ہاریں گے۔۔۔

Wednesday, December 17, 2014

انسان اپنے عمل کا نتیجہ تو بھگتتا ہی ہے، اسے اپنی بے عملی کا نتیجہ بھی بھگتنا ہی ہوتا ہے اور کمال یہ ہے کہ وہ نہ اپنے عمل کی ذمہ داری اٹھانے پر تیار ہوتا ہے اور نہ بے عملی کی۔۔۔

Tuesday, December 16, 2014

یا اللہ! میں ہوں تو نہ ہونا سیکھا دے
میں نہیں ہوں تو ہونا سیکھا دے
یا اللہ ! یہ دل دل ہی رہے ، سِل نہ بن جائے
یا اللہ! میرا اَن کہا بھی اَن سنا نہ رہ جائے
یا اللہ! ایسی خاموشی عطا ہو جو آواز سے زیادہ سنی جائے
یا اللہ! ہم روئے ہوئے ہیں ہنسا دے، سوئے ہوئے ہیں جگا دے، کھوئے ہوئے ہیں ملا دے

مناجاتِ احمد جاوید صاحب

Tuesday, December 2, 2014

بات کرنے کو بہانے ہیں بہت۔۔۔ اور کہنے کو فسانے ہیں بہت۔۔۔ مگر کس سے بات کریں
اور بات کہنے کو بھی تو کتنی شرطوں کا پورا ہونا ضروری ہے، یہ بھی تو کسی کشٹ کاٹنے سے کم نہیں۔ یہ کہ آپ کے پاس کہنے کو کچھ ہو، یہ کو کوئی سننے والا ہو، وہ بھی کوئی ایسا جس سے آپ کچھ کہنا چاہیں، جس کے پاس پھر فرصت بھی ہو آپ کو سننے کی۔ اور وہ سننے والا ایسا کہ آپ کی بات سننا بھی چاہے، اور یہ بھی کہ آپ کی بات سمجھ بھی سکے۔ اب یہ سب ، اتنا سب ایک ساتھ ہونا کتنا مشکل ہے، یہ کوئی ان سے پوچھے جو کچھ کیا، بہت کچھ کہنے کی خواہش کو حسرت بنا بیٹھے ہیں۔
اور یہ بھی عجب ہے کہ یہاں کوئی کہی نہیں سنتا سمجھتا تو اَن کہی کون سنے سمجھے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی لیے تو ضروری ہو جاتا ہے گونگے کا گڑ کھانا۔۔۔

Monday, December 1, 2014

بچپن میں سکول میں سوال ہوتے تھے، خآلی جگہ پُر کریں۔  بڑے ہوئے تو معلوم ہوا کہ کچھ لوگ اس دنیا میں صرف خالی جگہیں پُر کرنے کے لیے آتے ہیں، اور جگہیں خالی نہ ہوں تو ان کو کوئی جگہ ظاہر ہے نہیں ملتی، پھر وہ دربدر ہی رہتے ہیں۔ ہاں ان کی اپنی خالی کی ہوئی جگہ بڑی جلدی پُر ہو جاتی ہے مگر۔
جو مانگنا پڑے وہ حق نہیں ہوتا، خیرات ہوتی ہے۔ اور جیسا کہ لکھنا تھا کسی کا ، محبت اعزاز کی طرح سر اٹھا کے حاصل کی جاتی ہے، سر جھکا کر تو صرف بھیک وصولی جاتی ہے

Monday, November 10, 2014

مکرر۔۔ وہی ایک لکھی پڑھی سنی بات۔۔۔
بت شکن بہت ہیں، خود شکن کوئی نہیں

Thursday, November 6, 2014

زہر اگلنے سے بچنے کے لیے کبھی کبھی ضروری ہو جاتا ہے، گونگے کا گڑ کھانا۔۔۔

Friday, October 31, 2014

ستارہء سفر

ستارہ ٹھہرا رہتا ہے، سفر نصیب تو اسے دیکھنے والے ہوا کرتے ہیں۔ جنہوں نے اسے دیکھا وہ سفر میں، جنہیں اس نے دیکھا وہ سفر نصیب۔ ہم بھی ستارہ نصیب  ہیں اور ہمارا نصیب سفر میں ہے۔ زمین آسمان سفر میں ہیں، وقت سفر میں ہے، ہوا سفر میں ہے۔ وقت اور لوگ سبھی گزرتے جا رہے ہیں۔  بس یہ ہم ستارہ نصیب ہی ہیں جو کسی ایک لمحے پر ٹھہر گئے ہیں یا وہ جو ہوتے ہیں کچھ نادر و نایاب لوگ، ستارہ ء سفر۔
اور ستارہ تو سفر کا استعارہ ہے، منزل نہیں، منزل کا اشارہ ہے۔
سفر نصیب! نصیب تو منزل است کہ نیست۔۔۔۔

Saturday, October 18, 2014


خواب اور شوق ، پورے ہوکر، ادھورے رہ کر، صرف ہوکر ، ختم ہو ہی جاتے ہیں، یہ روح ہے جو گردش میں رہتی ہے، خواب نہیں۔ بہت کم خواب اور شوق ایسے ہوتے ہیں جو روح کی گردش میں ہمسفر ہوتے ہیں تا عمر۔ تو جو خواب اور شوق مر چکے ہوں، وقت تلے دب چکے ہوں، ان کو ڈھوتے نہیں رہنا چاہیے، دفنا دینا چاہیے، کہ وہ بہت بوجھل ہو چکے ہوتے ہیں۔۔۔

Friday, October 10, 2014

جب آپ روشنی بانٹ سکتے ہیں تو اندھیرے ایڈورٹائز نہ کریں

Thursday, October 9, 2014

تو یہ شکوے اور شکر کے دن ہیں، ایک ہی بات پر، اندر جاتی سانس شکوہ کرتی ہے اور باہر آتی سانس شکر۔۔۔

Friday, September 26, 2014

تو چلیے اس گمبھیر خاموشی میں ہمیشہ کی طرح خودکلامی کی جائے، دیوار سے بات کی جائے، یہ دیوار جس پر اب ان کے لفظوں کی کرنیں نہیں اترتی ہیں، وہی تھے جن سے میں نے دوسرے انسانوں سے رشتوں کے سابقوں لاحقوں کے بغیر بات کرنا سیکھی اور جانا کہ انسان کی سطح پر بھی بات کی جا سکتی ہے، ایک ایسے شخص جن کے لیے میں "شر" کی علامت تھی نہ ہی نئی دنیا کے نئے معیار پر محض خوش طبعی کا استعارہ۔ آپ جو ایک انسان، ایک روح کی سطح پر میری بات سنتے رہے، جواب دیتے رہے، دلاسا دیتے رہے، اگرچہ کہتے تھے کہ میرا ہاتھ تمہارے سر پر ہے، سدا تمہارے سر پر رہے گا۔ وہ جنہیں میں اپنا مرشد ، "سر" کہتی تھی، اور جسے وہ میرے الجھے سلجھے سوالوں پر لکھتے تھے، "تمہارا سر"۔ میرے دماغ کو روشنی، میری روح کو اڑان دینے کا شکریہ۔ آپ کی یاد آنکھ کا آنسو نہیں چہرے کی مسکراہٹ ہے۔
اور مبارک ہوتی ہے وہ مسکراہٹ جو بلاسبب چہرے پر آئے، یہ مسکراہٹ آپ کے نام۔

Wednesday, September 24, 2014

اور خزاں کی ہوا چل پڑی جس کے چلنے سے سینے میں ایک ساتھ کئی پرندے پھڑپھڑانے لگتے ہیں، آزاد ہونے کو بے تاب۔۔۔ یہی وہ دن ہیں جب پرندے نقل مکانی کرتے ہیں، یہی وہ دن ہیں جب میں گھر کے صحن  اور کمروں میں چلتی ہوں، اتنا کہ پیروں تلے زمین گھسنے لگے، مگر روایتوں اور ریتوں نے اتنا مجبور کر دیا ہے کہ آپ اس ہوا میں اڑان نہیں بھر سکتے، آپ زمین سے جڑے ہیں، زنجیر سے جڑے ہیں۔ اڑان بھری جا سکتی ہے نہ رنگ ہی بھرنے آتے ہیں۔ برف زاروں پر جب دھوپ پڑتی ہے تو وہ کیسی دکھائی دیتی ہے، مجھے نہیں معلوم۔ مجھے پہاڑ نہیں صحرا بلاتے ہیں، جہاں نگاہ بلا روک ٹوک ایک سے دوسرے کنارے تک پہنچ جاتے ہوں، پلک جھپکنے میں۔ صحرا کا آسمان کیسا ہوتا ہے راتوں کو میں نے نہیں دیکھا۔ گندم یا سرسوں کے کھیت پر طلوع ہوتا سورج مجھے نہیں دکھایا گیا۔ جنگلوں میں اترتی شاموں کا مجھے نہیں معلوم۔ میں نے دھوپ کے بدلتے رنگ اور سایوں کے روپ نہیں دیکھے۔ سبزے کو سر اٹھاتے اور پھر پہاڑوں کو مٹیالا سرمئی رنگ دھارتے نہیں دیکھا۔ پھروں کی بدلتی شباہتوں، مٹی کے رنگوں اور خاصیتوں کی خبر مجھے نہیں دی گئی۔ میں نے پرندوں کی ڈاروں کو درختوں پر بسیرا لیتے دیکھا نہ کسی اجاڑ علاقے میں ابلتے چشمےکی صدا سنی۔ کسی جھیل پر سایہ فگن پھول نہیں دیکھے۔ میں نے ماضی کے کھنڈروں میں سفر بھی نہیں کیا، میں ان میں گزرے زمانوں کی آہٹیں کیسے سنتی۔ مجھے ساز دیا گیا مگر میری نوا کا دم گھونٹ دیا گیا۔ کیسے کیسے گیت ہیں جو میں نہیں سن پائی، کیسی کیسی کتابیں ہیں جو میں ابھی پڑھ نہیں پائی۔ کیسے کیسے رنگ ہیں جو بھر نہہیں پائی۔ اربوں انسانوں میں سے کتنے ہیں جنہیں میں جان پائی جو مجھے نہ جان پائے۔میلوں پھیلے فاصلوں میں میرے حصۓ میں طے کرنے کو چند گز ہی آئے۔ اتنا سب کچھ نہ دیا مگر یہ سینے میں پروں کی پھڑپھڑاہٹ دے دی،واہ میرے مولا۔ ہاں اور کچھ لفظ دے دئیے اور ایک تخیل جو اڑان بھرتا ہے تو زمانوں کی اور زمینوں کی سیر کر آتا ہے۔یہ بھی ہر کسی کو تو دیا نہیں گیا۔

Monday, September 1, 2014

آزادی خود اپنے پیروں میں بیڑیاں ڈالنے کا نام ہے...

Saturday, August 30, 2014

جس قوم کا قلب درست ہو نہ قبلہ ٹھیک ہو، وہاں انقلاب کس کھڑکی سے جھانکے گا، کس آنگن میں اترے گا۔۔۔

Monday, August 4, 2014

اور کچھ دروازے ہمیں اس لیے بند ملتے ہیں کہ وہ باہر سے نہیں بلکہ اندر سے بند ہوتے ہیں

Wednesday, July 16, 2014

ہم بھی عجیب لوگ ہیں کہ جو رونے والی باتوں پر ہنستے ہیں، اور ہنسنے والی باتوں پر جھگڑنے لگتے ہیں۔۔۔

Tuesday, June 3, 2014

ہے تو عجیب مگر سچ یہی ہے کہ وہی لوگ جو آسمان پر بٹھاتے ہیں، پوری صلاحیت رکھتے ہیں کہ پیر تلے سے زمین کھینچ لیں۔۔۔وہی ہوا جو دیا جلانے کو ضروری ہے، وہی بے مہر ہوا ایک جھٹکے میں اسے بجھا بھی سکتی ہے۔۔۔
انسان خود کو خدا سمجھنے لگے تو خدا تو بنتا نہیں ، انسانیت سے بھی عاری ہو جاتا ہے۔

Saturday, May 10, 2014

اور اگر دونوں ہاتھ پھیلا کر ان میں سب کچھ سمیٹا جاسکتا، ساری گزری اچھی یادیں، سارے گزرے اچھے دن، کچھ پورے کچھ ادھورے رہ جانے والے شوق، کچھ خواب، کچھ دوست، سارے دوست، میرے لوگ ، وہ جو دنیا کے جانے کس کس حصے میں بکھر گئے، وہ جنہوں نے مجھے بھلا دیا،اور وہ جنہیں میں نے بھلا دیا۔۔۔پڑھی جانی والی کتابیں، سنا جانے والا میوزک، ایک ٹوٹا ہوا ساز، کچھ دھوپ، کچھ بارشیں، ہوا کے کچھ جھونکے، کھڑکی سے جھانکتے کچھ منظر، کنویں میں گونجتی کچھ آوازیں،ایک بازگشت،پیچھا کرتی ہوئی۔۔۔ کچھ سال، مہینے، دن، لمحے۔۔۔۔میرے لوگوں کی ہنسی، ان کی آنکھوں کی روشنی، چمکتے چہرے اور خوشیاں۔۔۔۔اگر میں اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتی اور ان سب کو سمیٹ کر اپنے پاس رکھ سکتی۔۔۔لیکن اتنا سب کچھ دو ہاتھوں میں کیسے سمیٹوں؟ دو ہاتھوں میں تو صرف دعا سمٹ سکتی ہے اور کچھ بھی نہیں۔۔۔

Wednesday, May 7, 2014

زندہ لوگوں میں زندگی نظر آنی چاہیے، آنکھ کے آنسو کی صورت سہی، ہونٹوں کی ہنسی کی صورت سہی، ماتھے کی شکن کی صورت سہی، زندہ لوگوں میں زندگی نظر آنی چاہیے۔۔۔

Sunday, April 20, 2014

شاعر وہ نہیں ہوتا جو قافیے جوڑتا اور شعر کہتا ہے، بلکہ شاعر تو وہ ہوتا ہے جو نئے زمانوں کے اچھے دنوں کے خواب دیکھتا اور دکھاتا اور ان خوابوں کی تعبیر کے لیے جدوجہد کرتا اور جدوجہد کی ترغیب دیتا ہے۔

Friday, March 21, 2014

کوا خاموش رہے تو خاصا خوب صورت پرندہ ہے اور کوئل نہ کوکے تو خاصی بدصورت۔۔۔

Saturday, February 8, 2014

تو ہم دین کو بھی بہ وقت ضرورت اور بہ قدرِ ضرورت ہی سمجھتے ہیں۔۔۔۔

Wednesday, February 5, 2014

وقت سے بڑی کیا حقیقت ہے، یہ کچھ باتوں پر گرد ڈال دیتا ہے اور کچھ کو جھاڑ پونچھ کر سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔۔۔کبھی مرہم رکھ دیتا ہے اور کبھی ہر گزرتے دن کے ساتھ نقصان کے احساس کو واضح کردیتا ہے۔۔۔

Sunday, February 2, 2014

یہ خاک ، جو خاک ہونے تک جانے کتنے بوجھ اٹھاتی ہے۔۔۔