Saturday, May 10, 2014

اور اگر دونوں ہاتھ پھیلا کر ان میں سب کچھ سمیٹا جاسکتا، ساری گزری اچھی یادیں، سارے گزرے اچھے دن، کچھ پورے کچھ ادھورے رہ جانے والے شوق، کچھ خواب، کچھ دوست، سارے دوست، میرے لوگ ، وہ جو دنیا کے جانے کس کس حصے میں بکھر گئے، وہ جنہوں نے مجھے بھلا دیا،اور وہ جنہیں میں نے بھلا دیا۔۔۔پڑھی جانی والی کتابیں، سنا جانے والا میوزک، ایک ٹوٹا ہوا ساز، کچھ دھوپ، کچھ بارشیں، ہوا کے کچھ جھونکے، کھڑکی سے جھانکتے کچھ منظر، کنویں میں گونجتی کچھ آوازیں،ایک بازگشت،پیچھا کرتی ہوئی۔۔۔ کچھ سال، مہینے، دن، لمحے۔۔۔۔میرے لوگوں کی ہنسی، ان کی آنکھوں کی روشنی، چمکتے چہرے اور خوشیاں۔۔۔۔اگر میں اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتی اور ان سب کو سمیٹ کر اپنے پاس رکھ سکتی۔۔۔لیکن اتنا سب کچھ دو ہاتھوں میں کیسے سمیٹوں؟ دو ہاتھوں میں تو صرف دعا سمٹ سکتی ہے اور کچھ بھی نہیں۔۔۔

No comments:

Post a Comment