Saturday, January 8, 2011


مجھے یوں لگتا ہے جیسے دھند کسی علاقے تک محدود نہیں رہی ..یہ ہماری تاریخ ،جغرافیے ،ہمارے نظریات،احساسات،بلکہ ہماری ہر طرح کی سوچ پر بھی چھا گئی ہے.. شب میں تو چراغ روشن ہو جاتے ہیں ، دھند میں کیسے دکھائی دے گا کچھ؟ جب بصارت کی حد  چند گز سے زیادہ نہیں.. جب بصارت کی حد اپنی ذات سے آگے نہیں..
مگر پھر خیال آتا ہے بصیرت ، بصارت کی محتاج  تو نہیں ہوتی

1 comment:

  1. It seems we are living in times of great FOG which has limited our visibility and vision also you pointed out, but why it has disabled our vision is because of lack of self believe and Faith.

    ReplyDelete