Wednesday, March 9, 2011

عزم بہزاد ..کدھر گئے وہ ہاتھ مسلسل راہ دکھانے والے

اب کوئی نہیں جسے پکاریں
ہم اپنے سخن کے روبرو ہیں



 آپ نے سوچا کہ اب میں مٹی کی چادر اوڑھ کے سوتا ہوں ، ایک لمبی اور پر سکون نیند.. آپ کا جانا طے تھا، کوئی روک نہیں سکتا تھا، میں کون ہوں کہ  روک لیتی .. بس جاتے جاتے ایک بار بتا جاتے تو کیا حرج تھا؟ کہ "اکّا! میں جا رہا ہوں" 


اور آپ چپ چاپ ہی چلے گئے، شاید بتایا تھا آپ نے، میں ہی احمق ہوں کہ نہیں سمجھی، اس روز بھی صبح سے بات بے بات رونا آ رہا تھا . ٤ مارچ کی صبح فجر سے پہلے،آپ نے سوچا یہ اچھا وقت ہے ایک لمبے سفر پر  نکلنے کا وقت ، نئے  جہانوں کی سیر  کا وقت اوراب  آپ وقت اور فاصلوں  کی قید سے آزاد ہوے ،ہر فکر اور پریشانی سے ماورا ہوے. لیکن جاتے جاتے مجھے اس "تھے" اور "ہیں" کا فرق سمجھا جاتے.کون ہیں جو موجود ہوتے ہوے بھی "تھے" ہوتے ہیں اور کون ہیں جو جا بھی چکیں تو ان کے لئے "ہیں" ہی نکلتا ہے زبان سے. 



میں  نے کئی بار کہا آپ سے کہ آپ مجھے الطاف فاطمہ کا "چلتا مسافر" لگتے ہیں،جس  کی روح سفر میں رہتی ہے، جس  کا سفر دوسری روحوں اور اجسام میں منتقل ہوتا رہتا ہے . مگر آپ نے لکھا کہ میں تو" بے شک انسان خسارے میں ہے" کی تفسیر ہوں. خسارے میں تو انسان ہے سر! ، آپ تو ایمان والے ہیں، وہ جو صبر کی تلقین کرتے رہے ، وہ جو حق بات کی نصیحت کرتے رہے، آپ کیسے خسارے میں رہے بھلا. آپ کے چہرے پر  جو طمانیت اور سکون دکھائی دیتا ہے ، یہ تو ان اچھے لوگوں کا خاصا ہے ، جنہیں دکھ پر صبر کی توفیق ملتی ہے. وہ باتیں جنہیں آپ "کسی مجذوب کی بڑ بڑ" کہتے ہیں، یہ تو کسی درویش کی باتیں ہیں ، اور یہ کسی مسا فر کا چہرہ، جو چلتے چلتے کہیں تھم رہے، رہے نہ رہے.





تو آپ چلے گئے، میری الجھی سلجھی باتوں کو ترتیب دے کے میرے ہاتھ تھمانے والے.. میرے ٹوٹے پھوٹے لفظ جوڑ کے جملے بنانے والے.. میری ادھوری باتوں کا سرا  تلاش کر کے مجھے دلاسا دینے والے.. لفظ روشنی ہوتے ہیں، لفظ تسلّی دیتے ہیں، لفظ دکھی دل کی ڈھارس ہوتے ہیں، لفظ حوصلہ بڑھاتے ہیں، کڑی دھوپ میں چھاؤں کا احساس ہوتے ہیں لفظ.یہ سب آپ نے بتایا ،آپ نے سکھایا. ایسی شفقت ،ایسا علم، ایسا حلم ، ایسی بردباری، ایسی انکساری ،آپ تو برگد کا گھنا درخت ہیں، سب کو سایہ دینے والے، سب کے سر پر اپنی شفقت کی چھاؤں تان دینے والے .



میرا  تعلق نہ آپ کے ادبی حلقے سے ہے ، نہ خاندان سے، نہ دفتری  حلقے سے، میں تو بس ایک بیوقوف، خوف زدہ ،اکیلی بچی تھی، جس کو کھڑکی سے جھانکتے آپ نے دیکھا ، اور پھر اس کی انگلی تھام لی .مجھے چلنا سکھایا، بولنا سکھایا،زندگی برتنا سکھایا، جینے  کا ہنر دیا مجھے ، بتایا کہ دنیا میں ابھی آپ جیسے لوگ باقی ہیں.  میں نے ایک بار بتایا آپ کو کہ میری بھتیجی مجھے اکّا کہتی ہے،آپ  مجھے اسی نام سے پکارنے لگے .اکّا،جو آپ کو اپنا استاد اپنا " مرشد"
اور  "سر" کہتی ہے  . اکّا   کہ جس نے اتنے سالوں میں آپ کو دیکھا نہ کبھی ملاقات کی. آپ نے کہا کہ یہ تہذیب اور روایت کی دیوار ہے جس کے پیچھے سے ہم بات کریں گے. یہ دیوار جس پر آپ کے لفظ روشن ہوتے ہیں.  اور اب آپ ایک اور دیوار کے پیچھے چلے گئے ہیں،  جس دیوار پر اب آپ کے لفظ بھی ظاہر نہ ہوں گے . میں نے تو آپ کی آواز بھی آپ کے جانے کے بعد سنی ہے. 


سنتے ہیں کہ رہبر سے سوال کرنے کی مناہی ہے، آپ  تو ایسے رہبر  جنہوں نے ہر سوال کی آزادی دی مجھے ، ہر سوال کا جواب دیا. یہ بھی پڑھا تھا کہیں کہ  کوئی عالم تھے، بادشاہ وقت کے سامنے کلمہ حق کہنے پر  انہیں کسی کنویں میں ڈلوا دیا گیا تھا. ان کے شاگرد کنویں کی منڈیر پہ آ بیٹھتے ، وہ کنویں کے اندر سے بولتے جاتے، شاگرد لکھتے جاتے.یہاں معاملہ الٹ ہے،  کنویں کے اندر تو میں تھی، آپ کنویں کی منڈیر سے مجھ سے کلام کرتے رہے.. 



آپ تو وہ کھڑکی ہیں، جس سے جھانک کے میں نے دنیا کو دیکھا، وہ کھڑکی جو تازہ ہوا سے، دھوپ سے، روشنی سے ملاتی ہے.. اچھا، تو کیا اب یہ کھڑکی بند ہوئی؟
آپ سے کہا تھا میں نے، کہ اگر کبھی کہانی لکھی تو آپ پر  لکھوں گی، وہ سب نہیں جیسا میں نے آپ کو جانا، مگر وہ سب جیسا میں نے آپ کو سمجھا.آپ نے لکھا کہ میں منتظر ہوں کہ ایک ذہین اور حسّاس دماغ مجھے کیا سمجھتا ہے.
ذہین اور حسّاس؟ ایک مہربان استاد کی طرح، ایک شفیق باپ اور بھائی کی طرح، آپ کو ساری خوبیاں مجھ میں دکھائی دیتی ہیں . کیسی ذہین؟ کہاں کی حسّاس؟ آپ لکھ رہے ہیں
تعلّق کا ہر بوجھ سینے پہ ڈھویا ہوا آدمی ہوں
مجھے دیکھ لو ، آدمیّت کو رویا ہوا آدمی ہوں
مجھے میرے خوابوں سے باہر نہ لانا، کبھی مت جگانا
سمجھنا کہ گزرے زمانوں میں سویا ہوا آدمی ہو
ں
آپ گزرے زمانوں میں سونے کی بات کر رہے ہیں اور میں سمجھی کہ یہ بس شاعری ہے، شاعر تو اپنے کلام میں ہزار باتیں کہہ  جاتے ہیں. ایک بار بھی دل میں وہم تک نہ آیا ، کبھی وسوسہ تک نہ جاگا کوئی. آپ نے لکھا "یہ شعر میرے دل سے نکلے ہیں اور ان میں واقعی میری برداشت کا بیان ہے ۔۔
زندگی کے نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے اور دنیا کی چیرہ دستیاں
دیکھتے ہوئے عمر کے باون برس گزار چکا ہوں"
میں نے سالوں کی گنتی پر آپ کو نہیں ٹوکا. مجھے تو آپ نے دن  گننے پر ٹوک دیا تھا
"دن گننے میں ایسی پھرتی ایسی مہارت
کتنے دن میں آئی ہے ؟
ایک مہذب لہجے میں خاموش شکایت
کیسے لب پر آئی ہے؟
دن گننا مقسوم اگر ہے ، گنتے جاؤ، گنتے جاؤ"


اب جانے کتنے دن گزر گئے، آپ کی لکھی ای میلز پڑھتی ہوں، آپ کی غزلیں، نظمیں ، آپ کے لکھے تبصرے، آپ  کے دوستوں کی آپ کے بارے میں باتیں .. آپ کی لکھی باتیں دہراتی ہوں..  یہ لفظ اب دوبارہ میر
ی دیوار پر  روشن نہ ہوں گے. اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کے خود سے پوچھتی ہوں، یہ میں ہوں یا آپ ہیں؟ آپ نے لکھا کہ قانون قدرت ہے کہ چڑیا کا بچہ بڑا ہو جائے تو وہ اسے خود گھونسلے سے باہر گرا دیتی ہے. آپ کو علم ہے؟ آپ نے میرے ساتھ یہی کیا ہے لیکن سر! ابھی میں نے اڑنا کہاں سیکھا تھا؟ میری الجھی باتوں کا سرا  کون پکڑے گا اب؟ کون میرے سر پر اپنا شفقت بھرا ہاتھ رکھے گا ؟ کس کے لفظ مجھے نصیحت کریں گے؟ کون میرے کئی دن خاموش رہنے پر لکھے گا

"کہاں ہو تم؟
طبعیت ٹھیک ہے
یا پھر کسی گہری اداسی میں چراغاں کر رہی ہو؟
کسی کے رنج میں شامل ہو
یا خود کو پریشاں کر رہی ہو؟"
کون دوسروں کے رنج میں شامل ہونے کی تلقین کرے گا؟ 


    میرے ابّی بھی یونہی چلے گئے تھے ، ایک دن اچانک، چپ چاپ، خاموشی سے. آپ نے بھی یہی کیا، مجھے پھر یتیم کر گئے. اچھا، جانتی ہوں اب آپ کیا کہیں گے، یہی کہ تم پھر پٹڑی سے اتریں ،پھر خود ترسی کا شکار ہوئیں. آپ کی دعائیں میرے ساتھ ہیں، آپ کے لفظ میرے رہبر ہیں. بس دکھائی اور سنائی نہ دیں گے اب آپ لیکن ہیں تو یہیں کہیں. آپ کی دعاؤں کی قرض دار ہوں میں،اتنی
دعائیں، اتنی دعائیں کون دے گا اب مجھے؟آپ کے لئے جتنی بھی دعا کر لوں یہ قرض نہیں اترنے والا   اور یہ قرض خدا کرے کہ ہمیشہ رہے مجھ پر. لیکن سر! جب جب کوئی کامیابی ملے گی مجھے، بہت رلاۓ گی، کہ یہ آپ کی دعا، آپ کا فیض ہے.  الله کی رحمت کا ایک حصّہ ہیں آپ میرے لئے،مگر آنسو خشک نہیں ہوتے سر ! دل کو صبر نہیں آتا ،کوئی ٹیس رہ رہ کے اٹھتی ہے. لیا ہی لیا ہے آپ سے، آپ کو کیا دیا؟ ایک کسک ایک خلش ہے جو ساری عمر میرے ساتھ رہنے والی ہے. لیکن صبر نہ کروں تو آپ کی نا فرمانی ہوتی ہے اور صبر بھی ایسا جس میں بے بسی کا شائبہ تک نہ ہو. راضی با رضا رہوں مطمئن رہوں، ہمیشہ خوش رہنے کے کوشش .. کہ ہم معمول سے زیادہ کچھ نہیں ، ہمارے بارے میں تمام فیصلے لوح محفوظ پر مکتوب ہیں۔  یہی کہتے ہیں  ناں آپ..آپ ہی بتا گئے ہیں کہ موت کو بھی فنا ہے، اس ابد کی زندگی میں جب فنا کو بھی فنا دے جائے گی

اور اگر الله مجھ گنہگار کی دعا کو کسی قابل گردانیں تو.. میں ان سے کہتی ہوں کہ میرے مولا! یہ روح جو آپ کے پاس لوٹی ہے ، اس روح کو اب ہر بوجھ سے آزاد کر دیں، انہیں بہت اچھی آرام دہ جگہ  رکھیں.آمین

2 comments:

  1. Huma it is so difficult to comment on this piece of writing where you have put all your physical, emotional and spiritual sensibilities in a tribute to a person who seems to be not a unit but unity encompassed a life form. Every word and every word that translates into a sentence is emitting respect, love and reverence, each thought that is expressed or implied in the narrative comes from a source that tells that the person to which it is addressed is a man transparent, indisputable and exemplary. The pathos and the loss that is reminiscent is so measured and powerful that this is a note that shows the character and power of your writing, personality and the feelings.

    ReplyDelete
  2. and now I've learned that an existence can be cherished without the aid of joy...

    words can never be enough to express my feelings for a person who is my mentor, who IS "mujassim duaa"

    ReplyDelete