Wednesday, May 4, 2011

فرعون کو موسیٰ کا سامنا کرنا پڑتا ہےمگر ہر فرعون کو نہیں، موسیٰ کوئی ایک ہوتا ہے ایک ہی بار آتا ہے اور اس سے پہلے کئی ہزار سال تک ہر فرعون کے گھر میں فرعون ہی پلتا ہے اور وہی اس کی جگہ لیتا ہے

6 comments:

  1. hmm....orr woh ek jo Moosa tha...woh bhi a k ja chuka hay...abh kissi Moosa k anay key umeed bhi nahi....

    ReplyDelete
  2. aur uss Musa ki na maani jaye tou.. 40 saal sehra mein bhatakna bhi parta hai..

    ReplyDelete
  3. And sometimes the reverse also happens, like Hazrat Noah and Hazrat Looth are just to mention two instances.

    ReplyDelete
  4. اس وقت پاکستان امریکہ کی فرعونیت کے شکنجے میں پھنسا ہوا ہے- رہائی دلانے کے لئے نہ کوئی موسیٰ آے گا اور نہ کوئی مہدی- قرآن کا پیغام یہ ہے کہ انسان صاحب اختیار اور ارادہ ہے اور اسے زندگی میں وہی کچھ ملتا ہے جس کا وہ مستحق ہوتا ہے- الله انسان پہ ظلم نہیں کرتا بلکہ وہ اپنے نفس پہ ظلم کرتا ہے- یہ قانون مکافات عمل انسان کی انفرادی زندگی پہ بھی لاگو ہوتا ہے اور اجتماعی زندگی پہ بھی-

    رہے حضرت موسیٰ عالیہ السلام تو وہ الله کا پیغام بندوں تک پہنچانے آیے تھے اور یہ ان کا بنیادی فریضہ تھا- میرے خیال میں بنی اسرئیل کا قصّہ الله کے پیغام کی وضاحت اور تصریح کے لئے بیان کیا گیا ہے-

    اگر آپ کے پاس وقت ہو تو امریکہ کی فرعونیت اور اہل وطن کی بے بسی کو سمجھنے کے لئے ذیل میں دئے ہوۓ رابطوں کو دبائیے- اگر آپ بھی اردو یا انگریزی میں اپنی راے کا اظہار کرنا چاہیں تو ضرور کیجئیے-

    http://sakibahmad.blogspot.com/2011/05/death-of-osama-bin-laden.html

    http://sakibahmad.blogspot.com/2011/05/tsunami-of-lies.html

    ReplyDelete
  5. @ Sakib Ahmed sahab
    aik bara kheil..aik big game.. aur aapne theek kaha,milta wohi hai jisske liye koshish ya saii ki jati hai..yehi quran ka kehna hai..

    ReplyDelete