Friday, July 29, 2011

کتنے لوگ ہیں جو پڑھتے ہیں مگر لکھ نہیں سکتے، کتنے لوگ ہیں  جو لکھتے ہیں لیکن  پڑھ نہیں سکتے.. کتنے ہی لوگ ہے جو بولتے ہیں مگر دیکھ اور سن نہیں سکتے اور کتنے ہی لوگ ہیں جو دیکھتے اور سنتے ہیں مگر بولتے نہیں..

کیا ہی اچھا ہو اگر دیکھنے اور سننے والے بولنا  اور پڑھ سکنے والے لکھنا شروع کر دیں..اور جو لکھتے ہیں وہ پڑھنا شروع کر دیں

3 comments:

  1. ye such hai aur kash aye sa ho jaye

    ReplyDelete
  2. So true !

    Maujooda daur ki media wars main hamari shikast ke asbaab yehi tau nahi?

    (Amazing, Though she has read the post but "Thinking" is still thinking).

    ReplyDelete