مجھے
یاد ہے، ہمارے بچپن میں دس محرم کی صبح سورج نکلتے ہی میرے ابا کدال، پانی
کی بالٹی، باجرہ، ٹوٹا چاول، اگر بتیاں وغیرہ لے کر قریبی قبرستان کا رخ
کیا کرتے تھے۔ اس
وقت تک ہمارے صرف ایک دور پار کے عزیز کی قبر وہاں موجود تھی۔ میرے دادا
دادی بھی اس شہر میں مدفون نہیں تھے۔ آج خیال آتا ہے کہ شاید ابا محسوس
کرتے ہوں گے کہ اگر اپنے ماں باپ کی قبروں پر جا کر
دعا کرنا ممکن نہیں تو اسی شہر کے کسی قبرستان میں، کسی اور قبروں کے
سرہانے
کھڑے ہو کر بھی اپنے والدین کے لیے دعا کی جا سکتی ہے۔ ہم چھوٹے بہن بھائی
اسی شوق سے ان کے ساتھ چل پڑتے، جیسے صبح فجر کے بعد سیر کے لیے جایا کرتے
تھے۔ کئی برس گزرے اور آگے پیچھے میری پھوپھو اور پھوپھا جان کی وفات کے
بعد ابا دس محرم کو پہلے قریبی اور پھر مسلم ٹائون کے قبرستان بھی جانے لگے
جہاں پھوپھو اور ابا کے کچھ کولیگس کی قبریں بھی تھیں۔۔ وقت نے ایک اور
چکر پورا کیا اور اب اسی قبرستان میں امی اور ابا ایک دوسرے کے برابر آرام
کررہے ہیں۔۔
مگر اب میں سوچتی ہوں کہ آج کے بچوں کو اس طرح اپنی روایتوں، اپنی زمین
اور اپنے گزرے ہوئے لوگوں سے جوڑنے کا رواج بہت کم رہ گیا ہے۔
مجھے
یاد ہے ، محرم شروع ہوتے ہی ہمارے گھر کا ماحول بدل جاتا تھا۔ یوں تو سارا
سال ہی پانی کے استعمال اور رزق کے معاملے میں احتیاط کی جاتی تھیں، بار
بار یاد دلایا جاتا تھا کہ ہر نعمت کی پوچھ ہونی ہے۔ لیکن محرم
میں یہ احتیاط اور بڑھ جاتی تھی۔ بار بار کہا جاتا کہ پانی ضائع نہ کرو،
بلکہ ضرورت سے زیادہ استعمال ہی نہ کرو۔ کپڑے بعد میں دھل جائیں گے، فرش یہ
دن گزرنے پر دھل سکتے ہیں۔۔۔ ہم بچے تھے پوچھتے، کیوں؟ ابا صرف تاکید
کرتے، اور جواب ہمیشہ امی کی طرف آتا۔ وہ کسی کا نام لیے بغیر کہتیں۔۔۔ ’’اُونہاں نوں دو گھٹ پانی نئیں سی لبھیا۔ تسی شرم کرو۔‘‘
آج
اتنے برس بعد محسوس ہوتا ہے کہ وہ احترام، حساسیت، دل کی وہ نرمی، وہ رقت،
ہمارے اجتماعی رویوں سے آہستہ آہستہ کم ہوتی چلی گئی ہے، اتنی کہ اب
معدوم ہونے کے قریب ہے۔ صرف لا پرواہ ہی نہیں۔ شاید ہم خود کو زیادہ ہی عقل
پسند سمجھنے لگے ہیں۔ شاید ہمیں ہر بات پر بولنے، نکتے اٹھانے، بحث کرنے
کی عادت ہوچلی ہے۔ پہلے وہ ماں باپ تھے جو بولنا ہی نہیں خاموش رہنا بھی
سکھاتے تھے، اب ہمیں متواتر، لگاتار، ہر وقت، ہر معاملے پر بولنا ہے، سوال
اٹھانا ہے، بحث کرنا ہے، اپنا نقطہ نظر پیش کرنا ہے۔ حضرت علیؓ کا ایک قول
ہے کہ ہر معاملے پر رائے رکھنا ضروری نہیں ہوتا۔
Leave what does not concern you.
ہر
بات جاننا ، پھر اس کو اس عقل کی کسوٹی پر تولنا، جو خود بہت محدود ہے،
کیوں اتنا ضروری ہے؟ پھر مسلکوں، گروہوں، فرقوں اور پتا نہیں کس کس پر
تولنا۔۔
آج
ہمیں ہر بات پر بولنا، دلیل دینا اور سوال کرنا سکھایا جاتا ہے۔ حالاں کہ
زندگی میں کچھ سوال ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے جواب بحث سے نہیں، خاموشی میں
ملتے ہیں۔ صرف انتظار کرنا پڑتا ہے۔ گھٹنے ٹیک کر بیٹھنا پڑتا ہے۔
مجھے
یاد ہے، ایک زمانہ تھا جب ٹیلی ویژن پر دس محرم کے دن صرف مرثیے، نوحے اور
اسی مناسبت کے پروگرام نشر ہوتے تھے۔ بعد میں جب پرائیویٹ ٹی وی چینل آئے
تو دوسرے
پروگرام بھی آنے لگے، مگر ہمارے گھر میں پھر بھی کہا جاتا تھا، ’’ایہہ چار
دن صبر کر لو۔‘‘ کوئی موسیقی یا ڈرامہ کیا، ٹی وی اونچی آواز میں نہیں چلتا
تھا۔ ہمیں
آہستہ قدموں سے چلنے کی تلقین کی جاتی تھی۔ گھر پر ایک خاموش سی سنجیدگی
طاری رہتی۔ جیسے حج کے دنوں میں امی کی کمنٹری جاری رہتی تھی، اب یہ ہورہا
ہوگا وہاں، اب یہ۔ ان دنوں بھی۔ اب یوں ہوا تھا، آج کے دن ایسا۔ ایسے جیسے
کسی متوازی وقت میں وہ سب جاری و ساری ہو۔
آج یہ
سب یاد آتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ شاید ان کا مقصد ہمیں تاریخ کا سبق
پڑھانا نہیں بلکہ ہمارے دل کو نرم رکھنا، ادب سکھانا تھا۔ آج بھی محرم آتا
ہے اور زندگی اسی رفتار سے چلتی رہتی ہے، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ تب کبھی
کبھی مجھے بے اختیار خیال آتا ہے... وہ ماں باپ کہاں چلے گئے جو بچوں کو
پانی کا ایک قطرہ ضائع کرنے پر بھی ٹوک دیا کرتے تھے،
"پانی ضائع نہ کرو... انہیں تو دو گھونٹ پانی بھی نصیب نہیں ہوئے تھے۔"
ہم میں سے کوئی کسی مسلک کی بات کرتا تو ایسا ٹھوک کر جواب ملتا امی یا ابا کی طرف سے، ’’۔۔۔تسی اپنی فکر کرو۔‘‘
مجھے
یہ بھی یاد ہے کہ ان دنوں، اور سچ تو یہ ہے کہ باقی دنوں میں بھی، ہمیں
زمین پر پاؤں پٹخ کر چلنے سے منع کیا جاتا تھا۔ امی فوراً کہتیں، زمین جواب
دیتی ہے تمہارے پاؤں پٹخنے کا۔ کل کو تم نے اسی کے اندر ہی لوٹ جانا ہے۔
آج
اس بات پر بہت سی نفسیاتی اور تربیتی بحثیں ہو سکتی ہیں۔ کہا جا سکتا ہے
کہ چھوٹے بچوں کے ذہن میں موت کا تصور کیوں بٹھایا جائے، انہیں کیوں ایسے
خیالات سے آشنا کیا جائے۔ لیکن ہمارے بچپن میں یہ تربیت کے معمول کا حصہ
تھا۔ ہمارے بڑے آخرت کو زندگی کے عین بیچ میں رکھا کرتے تھے۔
آج
مجھے کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ ہم اللہ کو مانتے ہیں، رسول ﷺ کو مانتے
ہیں، آخرت کا اقرار بھی کرتے ہیں، مگر شاید آخرت کا یقین، مرنے کے بعد
اٹھانے جانے اور جواب دہی کا یقین ہماری روزمرہ زندگی سے رخصت ہوتا جا رہا
ہے۔ اس سارے جاری فساد کی وجہ ہی یہ ہے۔
اب
یہ یاددہانی کروانے والے لوگ یا تو خاموش ہوگئے ہیں یا رہے نہیں، بولنے کی
جگہ کبھی کبھار خاموش ہو جانا، دکھائی دئیے جانے کے خبط کی بجائے دیکھنا
اور آنکھیں کھول کر دیکھنا، آگے بڑھنے کی جگہ دو قدم پیچھے ہٹ جانا، بہت
تیز چلنے کی بجائے، کبھی رکنا، ٹھہرنا، تھم کر چلنا سکھانے والے نہیں رہے۔
یا سیکھنے والے ہی نہیں رہے۔۔۔
اب تو لگتا ہے کہ تربیت ہی ہماری زندگیوں سے نکلتی جا رہی ہے۔
ہم خود رو پودوں کی طرح بڑھ تو رہے ہیں، مگر ہمیں سنوارنے
والے مالی کم ہوتے جا رہے ہیں۔
شاید اسی لیے مجھے اپنے ان بڑوں کی یاد زندہ رکھنا ضروری لگتا ہے۔ جب تک یاد زندہ ہے، ساتھ زندہ ہے۔
نئے راستوں پر پرانی دنیا کے چراغ ہی راستہ دکھاتے ہیں۔
No comments:
Post a Comment