میں اب کبھی کبھی سوشل میڈیا کھولنے سے بھی ہچکچاتی ہوں، کیوں کہ نہیں معلوم کس لمحے کون سی خبر سامنے آئے اور کسی آتش فشاں کی طرح دل پر پھٹ پڑے۔ ایسی خبر جس پر انسان صرف کڑھ سکتا ہے، مگر کچھ کر نہیں سکتا۔ اب میں نے اپنے لیے ایک اور راستہ اختیار کیا ہے۔ میں سوچتی ہوں کہ پچاس، سو سال پہلے بھی تو انسان جیتا تھا۔ اس وقت دنیا بھر کی ہر خبر ہر شخص تک نہیں پہنچتی تھی۔ ہر سانحہ ہر گھر کے اندر داخل نہیں ہوتا تھا۔ ہر دکھ کو اپنے دل پر اٹھانا زندگی کی شرط نہیں تھا۔ ہر خبر پر نظر کا خبط رکھنا ضروری نہیں۔ کمپیوٹر یا موبائل سکرین کے ذریعے دور دراز دنیا کے ہر دکھ میں جھانکنے سے پہلے شاید ہمیں اپنے گھر، اپنے پڑوس، اپنے خاندان اور اپنے معاشرے کی خبر رکھنی چاہیے، جہاں ہماری موجودگی کسی کے کام آ سکتی ہے۔ ضروری یہ ہے کہ انسان اپنے اردگرد کے لوگوں سے باخبر رہے، اپنے حلقۂ اثر کو پہچانے، وہاں موجود رہے جہاں وہ واقعی کسی کے لیے کچھ کر سکتا ہو۔
No comments:
Post a Comment