کوا خاموش رہے تو خاصا خوب صورت پرندہ ہے اور کوئل نہ کوکے تو خاصی بدصورت۔۔۔
یہ خود اپنی دریافت کا سفر ہے۔۔۔ تاریک گوشے میں بیٹھ کر روشن دنیا کو دیکھنے کا عمل۔۔۔
Friday, March 21, 2014
Saturday, February 8, 2014
Wednesday, February 5, 2014
وقت اے وقت
وقت سے بڑی کیا حقیقت ہے، یہ کچھ باتوں پر گرد ڈال دیتا ہے اور کچھ کو جھاڑ
پونچھ کر سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔۔۔کبھی مرہم رکھ دیتا ہے اور کبھی ہر
گزرتے دن کے ساتھ نقصان کے احساس کو واضح کردیتا ہے۔۔۔
Sunday, February 2, 2014
Friday, December 20, 2013
اثبات کا سفر
اثبات کا سفر نفی سے شروع ہوتا ہے۔۔۔"الااللہ" کا سفر "لاالٰہ" سے آغاز ہوتا ہے۔۔
مگر سوال یوں بھی ہے کہ یہ "لا" کا سفر "لا" کا رہے گا یا کچھ اس کا حاصل ہوا ہے؟Sunday, December 15, 2013
مگر ہاتھوں کی زبان کون سمجھ سکتا ہے۔۔۔
یاد سا آتا ہے، گرمیوں کی چھٹیوں میں صبح سویرے ابی کے ساتھ کی
جانے والی سیر، جس نے رفتار کے معنی سمجھائے۔۔۔ وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتے اور
ان کے ہاتھ تھامے میں اور میرا چھوٹا بھائی، جنہیں ان کا ساتھ دینے کے لیے
بھاگنا پڑتا تھا۔۔۔بہت بعد میں اپنے سمجھانے والوں سے سمجھا، سفر میں رفتار
نہیں قدم اہم ہوتے ہیں۔۔۔اور ہاتھ؟ وہ تیزرَو جو سست قدم کاہاتھ تھامے
رکھتے ہیں، گرتے ہوؤں کو تھام لیتے ہیں۔۔۔وہ پیشانی پر دھراہاتھ،خاموشی سے
’’بٹو، بیٹی‘‘ پکارتا۔۔۔اور وہ ہاتھ جو میں کبھی دیکھ نہیں پائی لیکن کہنے
والے کہتے تھے، میرا ہاتھ ہمیشہ تمہارے سر پر رہے گا۔۔۔ لرزتے، کپکپاتے،
گرفت سے محروم ہاتھ۔۔۔ اور سر پر رکھے ہاتھ کی دعا، ان کی گرفت قلم ہے، اسے
تھام لو۔۔۔
سکول کی دھوپ، کالج یونیورسٹی کی دھندبھری صبحوں میں دوستوں کے کندھے پر دھرے ہاتھ۔۔۔ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے کھیلتے ہاتھ۔۔۔ بے فکر، بے پرواہ ہاتھ۔۔۔
کبھی ہاتھ چھوڑ کر اور کبھی ہاتھ تھام کر چلنا سکھاتے ہاتھ۔۔۔پیٹھ تھپکتے، حوصلہ بڑھاتے ہاتھ۔۔۔ سلام کو اٹھتے، خوش آمدید کہتے ہاتھ۔۔۔سہارا ڈھونڈتے ہاتھ۔۔۔ سہارا دیتے، گرنے سے بچاتے ہاتھ۔۔۔دُور دھکیلتے، ہاتھ جھٹکتے ہاتھ۔۔۔آنسو پونچھتے، دلاسا دیتے ہاتھ۔۔۔ رستہ دکھاتے ہاتھ۔۔رفو کرتے، درد سمیٹتے ہاتھ۔۔۔ہاتھ تھام کر لکھنا سکھاتے ہاتھ۔۔۔ سب سے قیمتی، انمول، سر پر سایہ کرتے ہاتھ۔۔۔ہاتھ جو قدموں تلے بچھائے جاتے ہیں۔۔۔ہاتھ جو آنکھوں پر رکھ کر راہ دیکھی جاتی ہے۔۔۔ہاتھ، جن کا لمس دل کے ہر احساس کی گواہی ہے، نفرت کی، کدورت کی، دوستی کی، محبت کی۔۔۔
خدمت کرتے ہاتھ۔۔۔ محنت کرتے ہاتھ، جو بقول شاعر اپنے صبر کا بخت ہوئے۔۔۔ساتھ دیتے ہاتھ جس کے لیے کہا کسی نے ،کتنا سچا ساتھ، مٹی میں مل جائیں گے، کوزہ گر کے ہاتھ۔۔۔اور بکنے والے ہاتھ۔۔۔بت تراشتے ہاتھ، بت شکن ہاتھ۔۔۔ سجدے میں بچھے، دعا میں اٹھے ہاتھ۔۔۔
جو بصارت کھو دیتے ہیں، ہاتھ ان کی آنکھیں بن جاتے ہیں۔جن کے پاس گویائی کی نعمت نہیں، انگلیاں ان کی زبان بن جاتی ہیں۔ ہاتھ روح کی آنکھیں ہیں۔ ہاتھ روح کی زبان ہیں۔ چہروں پر نقاب چڑھائے جا سکتے ہیں، ہاتھوں پر دستانے لیکن ایک عمر کے بعد ساری عمر کی کہانی سنا دیتے ہیں ہاتھ۔۔۔ہاتھ جو روزِقیامت بولیں گے۔۔۔گواہی دیں گے۔۔۔
(ناتمام)
سکول کی دھوپ، کالج یونیورسٹی کی دھندبھری صبحوں میں دوستوں کے کندھے پر دھرے ہاتھ۔۔۔ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے کھیلتے ہاتھ۔۔۔ بے فکر، بے پرواہ ہاتھ۔۔۔
کبھی ہاتھ چھوڑ کر اور کبھی ہاتھ تھام کر چلنا سکھاتے ہاتھ۔۔۔پیٹھ تھپکتے، حوصلہ بڑھاتے ہاتھ۔۔۔ سلام کو اٹھتے، خوش آمدید کہتے ہاتھ۔۔۔سہارا ڈھونڈتے ہاتھ۔۔۔ سہارا دیتے، گرنے سے بچاتے ہاتھ۔۔۔دُور دھکیلتے، ہاتھ جھٹکتے ہاتھ۔۔۔آنسو پونچھتے، دلاسا دیتے ہاتھ۔۔۔ رستہ دکھاتے ہاتھ۔۔رفو کرتے، درد سمیٹتے ہاتھ۔۔۔ہاتھ تھام کر لکھنا سکھاتے ہاتھ۔۔۔ سب سے قیمتی، انمول، سر پر سایہ کرتے ہاتھ۔۔۔ہاتھ جو قدموں تلے بچھائے جاتے ہیں۔۔۔ہاتھ جو آنکھوں پر رکھ کر راہ دیکھی جاتی ہے۔۔۔ہاتھ، جن کا لمس دل کے ہر احساس کی گواہی ہے، نفرت کی، کدورت کی، دوستی کی، محبت کی۔۔۔
خدمت کرتے ہاتھ۔۔۔ محنت کرتے ہاتھ، جو بقول شاعر اپنے صبر کا بخت ہوئے۔۔۔ساتھ دیتے ہاتھ جس کے لیے کہا کسی نے ،کتنا سچا ساتھ، مٹی میں مل جائیں گے، کوزہ گر کے ہاتھ۔۔۔اور بکنے والے ہاتھ۔۔۔بت تراشتے ہاتھ، بت شکن ہاتھ۔۔۔ سجدے میں بچھے، دعا میں اٹھے ہاتھ۔۔۔
جو بصارت کھو دیتے ہیں، ہاتھ ان کی آنکھیں بن جاتے ہیں۔جن کے پاس گویائی کی نعمت نہیں، انگلیاں ان کی زبان بن جاتی ہیں۔ ہاتھ روح کی آنکھیں ہیں۔ ہاتھ روح کی زبان ہیں۔ چہروں پر نقاب چڑھائے جا سکتے ہیں، ہاتھوں پر دستانے لیکن ایک عمر کے بعد ساری عمر کی کہانی سنا دیتے ہیں ہاتھ۔۔۔ہاتھ جو روزِقیامت بولیں گے۔۔۔گواہی دیں گے۔۔۔
(ناتمام)
Wednesday, September 25, 2013
Thursday, May 9, 2013
دیا سلائی
دیا سلائی آگ تو لگا دیتی ہے لیکن یاد رہے کہ پھر خود اس کی قسمت میں کوڑے کے ڈھیر کا حصہ بننا ہی ہوتا ہے
Saturday, March 9, 2013
Monday, November 12, 2012
میں خواب میں سیڑھیاں دیکھتی ہوں
کیوں ہے کہ جب بھی میں ایک سیڑھی چڑھ لوں پچھلی سیڑھی جادو کے زور سے ہوا
میں تحلیل ہو جاتی ہےاور قدم پھر سے گویا پہلی ہی سیڑھی پر دھرے ہوتے ہیں.
سامنے زینہ در زینہ آسمان تک جاتی سیڑھیاں رہ جاتی ہیں. زمین سے جڑے رہنے
کے لئے ضروری نہیں کہ باہر سے کوئی آپ کو آپ کی اصل یاد دلا ے ، کوئی اندر بیٹھاہے جو بھولنے نہیں دیتا ،اور یکایک اس سیڑھی کو غائب کر دیتا ہے جسے آپ طے کر چکے ہوتے ہیں.. اور وہ جو یہ زینے طے کرنے میں آپ کو مدد دیتے ہیں، جن کے سہارے آپ قدم بہ قدم چلتے ہیں، جو یقین دلاتے رہتے ہیں کہ یہ کامیابی آپ کی ہی تھی ، ان کا شکریہ مگر اس کا بے پناہ شکر کہ جو پچھلی سیڑھی کو تحلیل کر دیتا ہے ، زمین سے جوڑے رکھتا ہے
Wednesday, August 15, 2012
Monday, May 14, 2012
روشنی۔۔۔۔
روشنی تو روشنی ہے ، آلودہ غلیظ پانی پر بھی پڑے تو اس کو بھی جھلملا دیتی ہے ... دل جیسا بھی ہو اس کو کیوں نہ جھلملا دے گی ..
Thursday, May 3, 2012
احساسِ خطا
اپنی خامی اپنی کوتاہی کا شعوراپنے گناہ اپنی خطا کا احساس بھی کیسی بے مثال نعمت ہے، جیسے مور کو اس کے پیر دکھائی دے جائیں۔یہ احساس انسان کے پیر زمین پر جما دیتا ہے،اسے انسان بنا دیتا ہے، ورنہ ہر خطا ہر خامی سے پاک ہونے کا احساس تو ہمیں خدائی کا دعویٰ کرنے پر اکسائے۔
۔ ہما انور
Huma Anwar
لفظ بارش ہیں
لفظ بارش کی طرح ہوتے ہیں جو رحمت ہے۔ کم برسے تو زمین والے اسے ترستے
ہیں،قحط کا شکار ہو جاتے ہیں اور جو بے تحاشا برسے تو سیلاب لے آتی ہے،
زحمت بن جاتی ہے۔
Monday, March 26, 2012
انسان اور غیر انسانی کام
لفظ کچھ اصطلاحیں بھی عجیب ہوتی ہیں ، آخر غیر انسانی کام بھی تو انسان ہی کرتے ہیں..
Tuesday, January 10, 2012
Friday, December 30, 2011
انقلابی اور باغی
تو آج استاد محترم نے فرمایا (اور یاد رہے کہ یہ وہ استاد محترم نہیں ہیں جنہوں نے فرمایا تھا کہ .... یہ مت دیکھو کہ کیا جانتے ہو ، یہ دیکھو کہ کس کو جانتے ہو) کہ ہر انقلابی باغی ہوتا ہے لیکن ہر باغی انقلابی بھی ہو یہ ضروری نہیں ، یہ بھی کہ انقلاب کی بنیاد نظریہ ہوتا ہے، عوام جس کا ذریعہ اور آلہ ہوتا ہے، اور رہنما جس کی بائی پروڈکٹ ..
تو یوں ہے کہ بغاوت دل سے نموپاتی یا پھوٹتی ہے ، اور نظریہ ، ذہن سے پھوٹتا ہے اور پھر قلب پراترے اور زندگی پر نافذ ہوجائےتو انقلاب کی صورت اختیار کر لیتا ہے ..انقلاب جو پھر زندگی اور معمول کا حصّہ بن جاتا ہے.. لیکن سوال یہ ہے کہ جہاں نظریہ ہی نہ ہو کوئی؟
تو جناب والاوہی بات مکرّر .. جب تک قلب نہ بدلے گا حالات نہ بدلیں گے..
تو یوں ہے کہ بغاوت دل سے نموپاتی یا پھوٹتی ہے ، اور نظریہ ، ذہن سے پھوٹتا ہے اور پھر قلب پراترے اور زندگی پر نافذ ہوجائےتو انقلاب کی صورت اختیار کر لیتا ہے ..انقلاب جو پھر زندگی اور معمول کا حصّہ بن جاتا ہے.. لیکن سوال یہ ہے کہ جہاں نظریہ ہی نہ ہو کوئی؟
تو جناب والاوہی بات مکرّر .. جب تک قلب نہ بدلے گا حالات نہ بدلیں گے..
Wednesday, December 21, 2011
Wednesday, December 14, 2011
Thursday, November 3, 2011
Subscribe to:
Posts (Atom)