Friday, March 19, 2021

مہمانوں سے مہمان سرا کچھ کہتی ہے


پچھلے برس یہی دن تھے، یا ہفتے بھر بعد یہی دن آنے کو تھے، کہ یہ سارا ہجوم انسانوں کا کچھ ہفتے کو منظر سے ہٹ گیا تھا، اور فطرت نے کھل کر سانس لی تھی۔۔۔ وہی سڑکیں جہاں تیزرفتار ٹریفک میں کئی بار بلیوں اور پرندوں کے لاشے بے طرح کچلے جاتے ہیں، وہ سڑکیں خالی تھیں اور ان پر پرندوں کی ڈاریں آزادی سے اترتی تھیں۔ گرد اور دھویں میں اٹا مٹیالا سا آسمان ایک نیلگوں وسعت میں ڈھل گیا تھا جو نگاہ کو عجب سکون دیتی تھی۔ سڑک کنارے درختوں کے جھنڈ جن کے پتے ہمہ وقت گرد دھول میں اٹے رہتے تھے، دھلے دھلائے خوشی سے دمکتے تھے۔ مہمانوں سے مہمان سرا کچھ کہتی تھی، کہتی ہے۔۔۔ اور مہمان ایسی افراتفری میں ایسی بھاگم دوڑ میں ہیں کہ پل بھر کی فرصت نہیں۔ پھر ایک دن ایسا آتا ہے کہ ساری مصروفیتیں پل بھر میں بے معانی ہوجاتی ہیں، فنا ہو جاتی ہیں۔ ایک ندا آتی ہے اور اَن چاہے سہی یا دل سے، سب سامان یہیں چھوڑ چھاڑ جانا ہوتا ہے، حاضر سائیں!

البتہ کہانی یہ اس مہمان سرا کی خالی سڑکوں اور اس کے کناروں سر اٹھائے کھڑے ان درختوں کی ہے جو کالج یونیورسٹی اور کام وام کے سب دنوں کے ساتھی ہیں، اتنے کہ اب تو نہر کنارے اگے ان درختوں کی ایک جھلک سی بھی اس علاقے کی پہچان کروا دیتی ہے۔ کہاں کہاں آموں کے جھنڈ ہیں، جو فروری کے جاتے جاتے سونے جیسے بُور سے لد جاتے ہیں جیسے گہنے پہن لیے ہوں۔ کدھر جامن کی قطاریں ہیں، کہیں وہ بید مجنوں جو گرمیوں کی لو میں کسی مجنون کی طرح بال بکھرائے جھومتے ہیں، سنبل کہ سرخ پھولوں سے لدے یوں دکھائی دیتے ہیں جیسے کوئی سرخ سرخ ہتھیلیاں پھیلائے دعاگو ہو، ڈھاک تلے بچھے سرخ قالین، گُل مہرکے نازک پتے اور پھول، وہ گولہڑ کا حیران کرنے والا درخت، کئی فٹ کے دائرے میں پھیلے ہوا میں بارش کی دُھن بجاتے رین ٹری، ارغوانی پھولوں سے لدے کچنار، شیشم، اشوک، ارجن، نیم کے ننھے سفید پھول، دھریک کا کاسنی غبار اور اس کی خوشبو، تالیاں پیٹتے پیپل، سراٹھائے سفیدے ۔۔۔ اپریل کے بعد سے جون جولائی تک بنفشی رنگ کے پھولوں سے لدے ہوئے پیڑ جن کا نام مجھے اب معلوم ہوا، جرول، کریپ مرٹل۔۔۔ اور کئی ایسے ساتھی جن کے ناموں سے میں واقف نہیں، اپریل سے جون تک سفید پھولوں سے لدے پیڑ جیسے کسی نے زمین پر بڑے بڑے گلدستے لگا دئیے ہوں۔۔۔ وہ جن کی شاخوں پر بہار آتے ہی گلابی پھول آجاتے ہیں اور پتا ایک نہیں ہوتا۔ املتاس جس کے نوخیز پتوں سے چھن کر آتی سہ پہر کی دھوپ کسی اور جہان کا پتہ بتاتی ہے، جس کی باریک تار سی صورت کی کلیاں ڈھلتی دھوپ میں جھلملاتی ہیں اور پھر یکایک ایک صبح وہ روشنی سے لد جاتا ہے۔ کہیں کہیں اپنی جٹائیں پھیلائے سادھو برگد۔ اکتوبر آتے ہی کئی سڑکوں پر پھیلتی ایک پُراسرار مہک، السٹونیا کی۔  پھر جنگلی گلاب کی بیلیں، بوگن ویلیا کے پھولوں کی برسات۔ مئی جون کے مہینوں میں مال پر زرد رین للی کی بہاریں۔ کیسا کتنا بھرپور حُسن ہے۔۔

ایک مٹی، ایک ہوا، ایک پانی، مگر ہر ایک کا رنگ جدا ہے، ہر پھل کی صورت اور ذائقہ جدا ہے۔ اور کوئی کسی سے مسابقت میں نہیں ہے، سب اپنے اپنے عالم میں سرنگوں محو ثنا ہیں جیسے۔ اپنے رنگ، اپنے ثمر، اپنی صورت پر راضی۔ خزاں آتی ہے تو خالق کی نگہبان نگاہوں میں سر جھکائے ہر سردوگرم برداشت کرتے، حکم کے، حرفِ کُن کے منتظر رہتے ہیں۔ وقت آتا ہے تو اس کی ثنا کرتے اس کی یاد دلاتے جاگ اٹھتے ہیں۔ اور کوئی وہ ہیں کہ جن پر عین خزاں کی رُت میں گلابی بہار اترتی ہے، بدھا کا درخت۔ یعنی ہر کسی کے لیے وقت کا دورانیہ مختلف ہے، اور یہ بھی کہ وہ چاہے تو خزاں میں بہار لے آئے۔کمال کا خاصا ظہور ہے، مجھے یہی لگتا ہے کہ انہیں بھی حکم ہوتا ہے کہ اب ظہور کا وقت ہے، کلام کا وقت ہے۔ نشانی بننے کا، پہچان سمجھانے کا سمے۔
ایک مٹی، ایک ہوا، ایک پانی، انسان بھی تو ایسے ہیں ہیں، محوسفر، کوئی کسی کی مسابقت میں نہیں، سب کا رنگ سب کا ثمر جدا ہے بس، سفر بھی، جدا اور تنہا، خالق کے حضور سب تن تنہا ہیں، میانِ نگاہ و دریچہ، اس واسطے میں کسی تماشائی کی گنجائش نہیں۔ جتنے راہی ہیں اتنی ہی راہیں ہیں، کوئی کسی کے خلاف نہیں۔ ہر سفر کی حالت اور نوعیت الگ ہے، سمت ایک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر کوئی تنہا ہے اور یہی سبب ہے کہ ہر لمحے ہر عالم میں نرمی اور محبت بانٹنے کی ضرورت ہے۔

Monday, March 15, 2021

ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو۔۔۔

 ادب راہ کا پہلا چراغ ہے۔ 

اسی لیے کسی کے جھوٹے خدا کو بھی برا کہنے سے منع کیا گیا کہ سجا رکھے ہیں لوگوں نے دلوں میں۔  خدا جھوٹا ہے، عقیدت تو سچی ہے۔ آبگینوں کی حفاظت کا فرمان ہے۔ پھر جہاں خدا، ادب اور عقیدت سچی بھی ہو۔۔۔۔خدارا اسے ہنسی ٹھٹھول کا حصہ مت بنائیے۔۔۔
کسی یتیم کے سامنے اپنی اولاد کو پیار کرنے سے، ہمسایہ غریب ہو تو پھل کھا کر چھلکے باہر پھینکنے سے، دُکھی کے سامنے اپنی خوشی کے مظاہرے سے اسی لیے منع کیا گیا ہے۔۔۔ کسی میں محرومی کا احساس جگانا، محرومی کا احساس جو رحمتوں سے مایوس کرنے لگے۔۔۔۔
خیالِ خاطرِ احباب چاہیے ہر دم۔۔۔ انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو۔۔۔


زمانوں کے پار سے آتی آوازوں کو سلام۔۔۔۔

زمانوں کے پار سے آتی آوازوں کو سلام۔۔۔

گزر جانے کے بعد بھی صفت کی حفاظت میں قائم رہنے والوں کو سلام۔۔۔
فاصلے میں تاریخ میں دور ہستیوں کے بھیجے خیال کو سلام۔۔۔۔
جب نشانِ راہ گم ہو، تو رہنما ہونے والوں کو سلام۔۔۔
جا کر بھی نہ جانے والوں کو سلام۔۔۔۔
وہ جو خود کو ان الانسان لفی خسر کی تفسیر کہتے رہے اور حقیقت میں وتواصوا بالحق وتواصوا بالصبر کی تعبیر بنے رہے۔ وہ کہ جب جب خود سے اعتبار اٹھا تو تھپکی بنے، ڈھارس بنے، تسلی بنے، حوصلہ بنے اور سب سے بڑھ کر آئینہ بنے کہ دیکھو اور جان لو کہ ’’یہ ہو تم اور یہ ہے تمہارا طریقِ حیات۔۔۔‘‘
عکس۔ آپا (الطاف فاطمہ) کا ایک خط





۔ ہما انور
Huma Anwar
#HumaAnwar #AzmBehzad #AltafFatima

Wednesday, November 4, 2020

گھر

دنیا کے سب ہی گھر ، عالیشان ہوں یا یونہی سے، کرائے کے ہی تو ہوتے ہیں۔ ایک روز انہیں چھوڑ جانا ہوتا ہے، سوچیں تو انسان کا جسم بھی کرائے کا ہی گھر ہے۔ اقبال کہہ گئے، وجودِ حضرت انساں نہ روح ہے نہ بدن۔ وہ جو وجود ہے۔۔۔۔  انسان سب سے زیادہ اپنے ساتھ ہی رہتا ہے، اپنی سوچ اپنے خیال میں ہی بستا ہے، اور بھلے کوئی محل میں بستا ہو، کسی کسی کی سوچ اور خیال کا یہ گھر کس قدر تنگ اور اندھیرا ہوتا ہے۔ ان حسد بغض بھرے الجھے ہوئے شکایتوں شکووں بھرے تنگ و تاریک گھروں نے ہی کبھی ابدی گھروں میں بدل جانا ہے، اور توجہ ابدی گھروں کی تزئین و روشنی پر رہے تو یہ کرائے کے گھر بھی سج جاتے ہیں ۔ سمجھ یہی آتی ہے کہ آخرۃ میں حسنہ انہیں ہی ملے گی جنہیں دنیا میں۔ جو یہاں اندھے ہیں وہاں بھی اندھے ہی اٹھائے جائیں گے۔ اُس رب رحمت للعالمین سے دونوں جہان میں تنگی وتاریکی سے امان کی دعا ہے، نور وکشادگی کی دعا ہے، اپنے لیے سب کے لیے (آمین)

Monday, August 3, 2020

کچھ اردو کے ہندی رسم الخط میں لکھنے کے بارے میں

ایسا تجربہ ہمعصر تاریخ میں ہوچکا ہے تو کیوں نہ اس پر نظر کرلی جائے، ترکی میں ’’ایک ملک ایک قوم ایک زبان‘‘ کی بنیاد پر اتاترک نے ترکی زبان کا رسم الخط بدلا ، یاد رہے کہ عثمانی ترکی دربار اور شرفا کی زبان تھی جس پر فارسی اور عربی کا اثر تھا، زبان کے رسم الخط کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ ترکی زبان کو ان اثرات سے پاک کیا گیا، اور باقاعدہ ادارہ تشکیل دیا گیا تھا جس کے ذریعے طے کیا گیا کہ کون سے الفاظ کو شامل رکھا جائے اور کن کو بالکل نکال دیا جائے۔ مزید یہ کہ رسم الخط کی تبدیلی اصلاحات کے ایک پورے سلسلے کا حصہ تھی جس میں قدامت پرستی سے جدت کی طرف رخ کیا گیا۔ یعنی پوری تہذیب کا گویا رخ طے کیا گیا۔ اس تبدیلی کو نئی نسل نے تو بڑی جلدی قبول کیا لیکن احمت حمدی طانپنار اور عدالت آعولو اور ان جیسے بہت سے ادیبوں نے صحاف لار میں ردی میں بکتی ان کتابوں کا نوحہ تاعمر لکھا جنہیں ان کے عثمانی ترکی رسم الخط کے باعث نئی نسل پڑھنے کے قابل نہ رہی تھی۔
(لسانیات کا کوئی بھی ماہر بتا سکتا ہے کہ زبان محض زبان نہیں ہوتی بلکہ تہذیب کا بیان ہوتی ہے۔ )
اب سوال یہ ہے کہ اردو کا رسم الخط بدلنا اگر مقصود ہے تو کیا آپ اردو کو عربی اور فارسی کے اثر سے پاک کرسکتے ہیں؟ اور اگر ایسا کرسکتے ہیں تو نئے الفاظ آپ کن زبانوں سے لیں گے؟ مقامی زبانوں سے، پنجابی سندھی ، وہ ہمارے ہاں کس رسم الخط میں لکھی جا رہی ہیں۔ اور بالفرض آپ ایسا کرلیں تو جو ’’نئی‘‘ زبان بنے گی کیا وہ اردو ہی ہوگی؟ رسم الخط بدلنے سے آپ الفاظ کی بنیاد، مثلاً حُسن اور حسین ، صرف اور مصرف کی نسبت کو کیسے سمجھا پائیں گے۔ رسم الخط بدلنے سے یہ مقامی زبانوں سے مزید دور ہوگی یا قریب۔ اور جس زبان سے قریب کرنا مقصود ہے اس کے قریب ہوکر مزید کھانہ کھراب ہی ہوگا اردو کا، صحیح کچھ نہیں ہوگا۔ مجھ احمق کو بھی اتنا اندازہ ہے کہ محض رسم الخط بدلنے سے کیا ہوسکتا ہے، جن لفظوں کو آپ لپیٹ لپیٹ کر لکھتے ہیں، سوچ سوچ کر ، یا جملوں کی ساخت میں کتنی اور کیسی تبدیلی آسکتی ہے۔ اور پھر کہا جائے کہ فرق نہیں پڑے گا۔۔۔
اور پھر اگر رسم الخط بدلنا ہی ہے اور اس سے شناخت کا کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا بقول آپ کے، تو کیوں نہ چینی رسم الخط اختیار کیا جائے، کچھ بھلا چینی بھائیوں کا ہو کچھ ہمارا۔ صرف دوسرے ایک ہی رسم الخط پر بحث کیوں ہے۔
یہاں بات کا آغاز ایک فیصلے سے کیا گیا ہے، ڈری ہوئی زبان۔ بات کا اختتام یہ کہ یہ ایک بے فائدہ بحث ہے۔ اگر کسی کو اس زبان پر مہربانی کرنی ہی ہے تو لسانیات پر کوئی کام کرلے، بے شمار لفظ ہیں جن کے متبادل اردو میں مجھ جیسے لوگوں کو نہیں ملتے victimاور prey کے لیے ایک ہی لفظ استعمال ہوتا ہے، collector کے لیے کوئی جامع لفظ نہیں ملتا survivor کا اردو متبادل ، وہ جو معانی کو پوری طرح بیان کرسکے نہیں ملتا۔ یہ نہیں کہ زبان کا دامن وسیع نہیں، زبان تو اتنی وسعت رکھتی ہے کہ سب نئی نہروں ندیوں کو خود میں شامل کرسکتی ہے ، بات یہ ہے کہ ہمیں بے فائدہ بحثوں کے لیے تو وقت ملتا ہے ، کام کرنے کا نہیں۔
اور پھر بھی تبدیلی پر اصرار ہے تو لائیے کوئی اتاترک جو صرف رسم الخط ہی نہ بدلے، قوم کی تقدیر بھی بدلے، تو بسروچشم

Thursday, December 19, 2019

تنہائی


اللہ تنہائی کے شر سے بچائے اور تنہائی کے عذاب سے بھی۔
اور اللہ تنہائی کے فضل سے نوازے

Tuesday, July 16, 2019

کندھا

نیکی، دل کی نرمی، دوسروں کا بھلا چاہنا، غیروں کا بھی اور ان رشتوں کا بھی جو اوکھے اور تیکھے ہوتے ہیں، بھلا چاہنا، اپنی ذات سے اوپر ہو کر سوچنا اللہ کی توفیق خاص اور مقام شکر۔
وہ توڑنے والوں نہیں جوڑنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
عجیب وہ جو اسی رب کا نام لیتے اور پھر سورہ الفلق اور الناس کی تفسیر بن کر توڑتے ہیں۔
پکے مومن ہونے کا غرور جو ان کے ایمان اور دوسروں کے رشتے کھا جاتا ہے۔
وہ کندھا جھٹکنے نہیں کندھا دینے والوں کو پسند کرتا ہے۔
اور کندھا سب کو چاہیے ہوتا  ہے،
زندگی کی کسی نہ کسی مرحلے پر، یا پھر زندگی سے گزر کر آگےجانے والوں کو بھی، پیچھے رہ جانے والوں کو بھی ،بوجھ ہلکا کرنے کی خاطر. جتائے بغیر، توڑے بغیر۔ معوذتین کی تفسیر بنے بغیر، کندھا دینا بھی صدقہ ہے۔

Saturday, July 13, 2019

’’لوگ کیا کہیں گے‘‘


پچھلی نسل کا المیہ یہ تھا کہ وہ سوچتی تھی کہ ’’لوگ کیا کہیں گے‘‘ اور اس نسل کا المیہ یہ ہے کہ یہ کسی بات میں بھی اپنی ذات سے آگے نہیں سوچتی ، یہ نہیں سوچتی کہ ’’دوسرے کیا سوچیں گے‘‘۔۔۔ چاہے وہ دوسرے قریبی رشتے ہی ہوں

پہچان

انسان کی پہچان ، یہ پہچان کہ اس نے آپ کو کوئی قابل استعمال شے سمجھا یا انسان ، تب ہوتی ہے جب اس کی غرض اس کی ضرورت پوری ہوچکی ہو، جب اسے مزید آپ سے کوئی غرض نہیں رہتی، تب اس کی لاتعلقی اور بے حسی کمال ہوتی ہے۔

ایک پرانی تحریر

خزاں یاس نہیں، آس کا موسم ہے، زندگی کے نہ ختم ہونے والے تسلسل کی علامت۔ پو شش برگ و گُل بدلتی ہے، گِل بدلتی ہے، اور وہ جسے اسے گِل سے تخلیق کیا گیا ہے، اُسے اس کی تخلیق یاد دلائی جاتی ہے، یاد دلایا جاتا ہے کہ جب تک زندگی ہے زندہ رہنا ہے۔ کسی نہ کسی روپ میں، کسی نہ کسی رنگ میں اس تسلسل کا ، اس گردشِ پیہم کا حصہ بنے رہنا ہے، یہی مقدر ہے، یہی مشیت، یہی حکم الٰہی۔۔۔ یہاں کسی کو قیام کی اجازت نہیں، کسی کو ثبات نہیں، وقت کی بہتی رو سب بہائے چلی جاتی ہے اور اس کے دھارے کے ساتھ بہتے رہنا مقدر ہے، بڑھتے رہنا نصیب ہے۔ گرتی شاخیں، اڑتے پتے، انجام کار اسی گِل کا حصہ بنتے ہیں، آنے والے موسموں میں جس سے پھر سبزہ پھوٹتا ہے، بہتے پانی منجمد کر دئیے جاتے ہیں مگر ان کی گہرائیوں میں زندگی پھر بھی رواں رکھی جاتی ہے،زمینوں اور زمانوں پر پھیلی اسی گردشِ پیہم کا حصہ بادل جو سمندروں کے بیٹے ہیں پہاڑوں پر جن کا گھر ہے، پیڑوں کی سوکھتی، چٹختی ٹہنیاں موسم بدلنے پر پھر سے لچکیلی ہو جاتی ہیں، انار کے پیڑ کی طرح، شب بھر میں جس کی سوکھی شاخوں میں لچک آتی ہے اور ایک صبح کی دھوپ میں وہی زندگی اور ہر لچک سے محروم شاخیں انار رنگ کونپلوں سے ڈھک جاتی ہیں۔اور وہ شاخیں جن پر پھول نہیں کھلتے، جن کے رنگ نہیں بدلتے، پرندے ان پر بھی بسیرا لیتے ہیں، ان کی کھوہ بھی کسی گلہری کا آشیانہ ہوتی ہے۔ زندگی درد ہے، کرب ہے، کرب کا قافلہ نہیں رکتا۔ ایسا اذن کسی کو نہیں، حکم نہیں۔ سفر جاری رہتا ہے۔۔۔ اور وہ جو اصل خالق ہے، وہ موت سے ​​زندگی اور زندگی سے موت پیدا کرتا ہے۔ صرف اسی کو دوام، قیام، اس گردشِ پیہم سے فرار حاصل ہے۔ ہاں مگر کچھ اور ہیں جنہیں اس گردش کا حصہ رکھتے ہوئے بھی دوام بخش دیا جاتا ہے۔۔۔
۔۔
لیکن میں یہاں پھر آؤں گا
بچوں کے دہن سے بولوں گا
چڑیوں کی زباں سے گاؤں گا
جب بیج ہنسیں گے دھرتی میں
اور کونپل اپنی انگلی سے
مٹی کی تہوں کو چھیڑے گی
میں پتی پتی کلی کلی ، اپنی آنکھیں پھر کھولوں گا
سرسبز ہتھیلی پر لے کر، شبنم کے قطرے تولوں گا
جاڑوں کی ہوائیں دامن میں
جب فصل خزاں کو لائیں گی
رہرو کے جواں قدموں کے تلے
سوکھے ہوئے پتوں سے میرے
ہنسنے کی صدائیں آئیں گی
دھرتی کی سنہری سب ندیاں
آکاش کی نیلی سب جھیلیں
ہستی سے میری بھر جائیں گی
میں ایک گریزاں لمحہ ہوں
ایام کے افسوں خانے میں
میں ایک تڑپتا قطرہ ہوں
مصروفِ سفر جو رہتا ہے
ماضی کی صراحی کے دل سے
مستقبل کے پیمانے میں
میں سوتا ہوں اور جاگتا ہوں
صدیوں کا پرانا کھیل ہوں میں
میں مر کر امر ہو جاؤں گا
میں یہاں پھر آؤں گا

Friday, November 23, 2018

ماننا اور منوانا

منوانے سے پہلے ماننا پڑتی ہے۔۔۔اور کبھی تو مان کر بھی منوانا محال ہوتا ہے جبکہ ہم ہیں کہ بغیر مانے منوانے کی خواہش رکھتے ہیں۔

استعفیٰ

اب تک کتنی ہی بار میں نے اسے لفظ لفظ پڑھا اور پوری طرح محسوس کیا ہے۔ اور کیوں جی چاہتا ہے کہ ایسا ہی ایک استعفیٰ عموماً دنیا کے اور خصوصاً اس سوشل میڈیائی دنیا کے نام لکھا جائے۔

یہ سوشل میڈیائی دنیا جس نے ہمیں صاف گوئی کے نام پر منہ پھٹ، بے لگام بنا دیا ہے۔ ایسے ایسے کڑوے لفظ کیا، جملے ۔ کبھی ایک دوست نے میرے محض Hate کے لفظ کے استعمال پر کہا تھا کہ کیوں، اتنا Strong لفظ کیوں، Dislike کا لفظ بھی تو ہے۔ اور میں نے اس کی بات پلے باندھ لی۔ ہاں، خدا نے مجھے تو بڑی بڑی اچھی دوست دیں، وہ سبھی جو اَب اس مصروف دنیا کی بھیڑ میں میری ہی طرح خود کو اجنبی محسوس کرتی ہیں، اور بیزار اور مایوس ہوکر گم گئی ہیں۔ پر بات یوں کہ اب کی دنیا میں ایسی دوست بھی کہاں رہی ہیں؟ اب تو سیر پر سوا سیر کی دنیا، آگ پر تیل ڈالنے کی رسم والی دنیا۔ کانٹا رکھو تو اس پر کانٹا رکھ دینے والی دنیا، تو پھر دنیا رویوں کے کانٹوں سے بھر جائے تو حیرانی کیسی؟
یہ مصنوعی، روکھی، بے ڈھنگی ،خودغرض، بے حس دنیا جہاں جھوٹ یوں بولا جاتا ہے کہ جیسے ”چکی تھلے ہتھ آیا اے“۔ جہاں ہر بات ہر شے ہر احساس بس ”میں“ ”میرا“ ”میرے لیے“ سے متعلق ہے۔ Self interestedدنیا۔ بہت برس پہلے اپنی ڈائری کے کسی صفحے پر لکھا تھا ، ہم اب ”خاندان“ نہیں ”فیملی“ کا لفظ استعمال کرتے ہیں، ”خاندان“ سکڑ کر اب ”فیملی“ بن گئے ہیں میں، میرا میاں یا بیوی اور بچے اور وہ بھی تو کہیں کہیں مزید سکڑ کر میری اور صرف میری ذات۔ ”میری ذات“ کہ بس دنیا اسی کا طواف کرتی رہے۔ یہ بھی کبھی لکھا تھا کہ Independence سے بڑی کوئی چیز Interdependence ہے، لیکن ہمیں اب Independence چاہیے، ہر کسی سے، ہر ذمے داری سے آزادی۔ اس سوچ سے آزادی کہ کوئی دوسرا کیا سوچے، کیا محسوس کرے گا۔ ہماری ذات سے کسی کو کیا مل رہا ہے یا ملے گا، ہمیں کیا! میں نے اس ہنڈیا میں ڈالا کچھ نہیں تھا، لیکن پک کر بریانی قورمہ میرے سامنے پھر بھی آجائے۔ دیا کچھ نہیں، مل سب کچھ جائے۔ ذمہ داری نہیں اب تو بس ’’لائف انجوائے‘‘ کرنے کا زمانہ ہے۔ ہم کہ جنہیں اپنی مزدوریوں اور مزدور پیشہ ہونے پر فخر تھا، اب ہمیں گھروں میں آٹھ دس سال کی یا جو بھی ملازم بچے بچیاں چاہیئیں، ذرا ذرا سے کام کے لیے۔ ہمیں سہل پسندی چاہیے، تاکہ ’’انجوائے‘‘ کرسکیں۔ باتیں، اکھاڑ پچھاڑ، خواہ مخواہ کی کھودم کھود ، بلاوجہ کے تجسس، اِس نے اُس سے یوں کہا، ٹائپ۔۔ وہ چیزیں جن سے ہمارا تعلق نہیں ہم ان میں ناک گھسیڑتے ہیں، اور جہاں ذمہ داری اور تعلق ہے وہاں ہماری بے تعلقی ایسی کمال ہے۔
وہاں کہ جہاں ہمیں اپنے سامنے بیٹھے لوگوں، بڑوں سے بات کے لیے وقت اور زحمت نہیں، اور ہم ہر اچھی بری خبر وٹس ایپ اور فیس بک وغیرہ سے دور بیٹھے ان لوگوں سے ضرور شیئر کرتے ہیں، جن سے ہمارا حقیقت میں کوئی واسطہ نہیں، جن سے شاید زندگی میں ایک آدھ کے علاوہ ہماری ملاقات نہ ہوئی ہو، یا وہ بھی نہیں۔ اور پھر امید بھی ہم رکھتے ہیں کہ اس خبر پر داد دی جائے، مبارک دی جائے یا ہمدردی کی جائے اور نہ کی جائے تو دل میں ناراضی بھی ہوکہ جناب آپ نے سٹیٹس ہی نہیں دیکھا ہمارا۔۔۔ ہم بولتے ہیں، لگاتار بولے جاتے ہیں مگر ’’بات‘‘ کی ہمیں فرصت نہیں۔ بلکہ سامنے بیٹھے لوگوں سے ہم بذریعہ سوشل میڈیا ہی گفتگو کرتے ہیں۔ برسبیل تذکرہ۔۔۔

جہاں ہم لوگوں کو اُن کی عمر کی رعایت دینے کو بھی تیار نہیں۔ یہ سوچے بغیر کہ ان سفید سروں والے لوگوں نے زندگی کو کیسا کیسا جھیلا ہے، اب ذرا ان کی زندگی میں بھی کوئی ٹھہراﺅ، کوئی آسانی آجائے۔ذرا جو ہم اپنے رول شفٹ کرکے ”لینے اور لیتے رہنے“ کے مقام سے بس ذرا سا ”دینے“ کے مقام پر آجائیں۔ ان کے کسی کیے یا نہ کیے اعتراض پر اپنے رویے کا تھپڑ ان کے منہ پر نہ ماریں۔ اب تو ہمیں کسی بڑے کے سامنے جھکنے میں بھی عار ہے۔ ہماری انائیں۔۔۔۔

کس قدر پیاری ہے ہمیں یہ سوشل میڈیائی دنیا کہ یہ سارے رشتوں کو کھا گئی ہے۔ انہیں نبھانا اب اتنا اہم بھی کیوں ہو۔ بھول ہی گیا کہ ہر احساس دوطرفہ ہوتا ہے، شکایت بھی۔ لیکن ”میں“ اور ”میرا“ کے سامنے ”ہم“ اور ”ہمارا“ ہار گیا ہے۔
دہرے تہرے اور جانے کتنے کتنے چہروں والی دنیا، جہاں نہ مصلحت باقی ہے نا مصالحت۔
اب کیا کہیں کہ جی ہم نے لفظوں اور رویوں کی مار ایسی کھائی ہوئی ہے کہ ہمیں ان اٹھتے قدموں کی منزل، آنکھوں،اور ان کے پیچھے کھوپڑی اور اس میں موجود خیال تک رسائی ہو گئی ہے، مگر ہم خاموش رہیں گے، کیوں کہ دوسروں کے پردے فاش کرنا ہم پر واجب نہیں۔ اس لیے کہ خدا تو خود پردہ پوش ہے۔ تو چلو بھئی، ہم پچھلی صدی کے ناکارہ سکّوں جیسے لوگوں کو اجازت دو۔۔۔آنے والے کل میں ہمیں حنوط کرکے کسی میوزیم میں سجا لینا کہ ہم اسSelf interested نسل سے ہوتے ہوئے بھی اس کے ہوئے نہ ہی اپنے۔۔۔

Friday, October 13, 2017

برگ زرد یا سیب سرخ

درخت سے بچھڑتے دونوں ہی ہیں لیکن
پتہ وقت کے ساتھ اپنے زوال کی انتہا کو پہنچ کر گرتا ہے
اور پھل اپنے کمال کی انتہا کو پہنچ کر۔۔۔
اب یہ تم پر ہے کہ تمہیں برگِ زرد بننا ہے یا سیب سرخ۔۔۔
۔ ماخوذ

Wednesday, July 26, 2017

ریس کی شرط

وہ گھوڑا جو ریس میں شامل نہ ہو، اس پر نہ کسی کی نظر جاتی ہے اور نہ کوئی اس پر شرط باندھتا ہے۔۔۔

Wednesday, April 12, 2017

تعریف اور تعارف

اپنی تعریف اور اپنے تعارف میں فرق ہوتا ہے، فرق رہنا چاہیے

Friday, March 17, 2017

حقوق و فرائض

جب آپ فرائض ادا نہ کر رہے ہوں تو حقوق سے از خود دستبردار ہو جانا چاہیے۔

Monday, March 13, 2017

ڈر


ذومعنی بات یہ ہے کہ جن لوگوں سے معاملات میں آپ اللہ سے ڈرتے ہیں کہ کہیں آپ کے ہاتھوں کوئی ناانصافی یا زیادتی نہ ہو جائے، بعد میں وہی لوگ ہوتے ہیں جو آپ کو ڈرانے لگتے ہیں۔۔۔

Wednesday, March 8, 2017

نرگسیت


صرف اپنی ذات کے عشق میں مبتلا شخص خود سے وابستہ لوگوں کے لیے عذاب بن جاتا ہے لیکن۔۔۔۔
اپنی ذات کے یک طرفہ عشق میں مبتلا شخص دوسروں کے لیے ہی نہیں خود اپنے حق میں بھی عذاب ہوتا ہے۔۔۔۔

Wednesday, January 18, 2017

تکبر

کسی کے بڑھاپے کو نوجوانی کی نگاہ سے دیکھنا اور کسی کی نوعمری کو بڑھاپے کی نگاہ سے دیکھنا ۔۔۔دونوں ہی ایک طرح سے تکبر ہیں

Wednesday, December 14, 2016

نسب اور نسبت

نسبت کے لیے نسب کا تعلق ضروری بھی نہیں۔۔۔