Tuesday, December 16, 2014

مناجاتِ احمد جاوید صاحب

یا اللہ! میں ہوں تو نہ ہونا سیکھا دے
میں نہیں ہوں تو ہونا سیکھا دے
یا اللہ ! یہ دل دل ہی رہے ، سِل نہ بن جائے
یا اللہ! میرا اَن کہا بھی اَن سنا نہ رہ جائے
یا اللہ! ایسی خاموشی عطا ہو جو آواز سے زیادہ سنی جائے
یا اللہ! ہم روئے ہوئے ہیں ہنسا دے، سوئے ہوئے ہیں جگا دے، کھوئے ہوئے ہیں ملا دے

مناجاتِ احمد جاوید صاحب

Tuesday, December 2, 2014

بات کرنے کو بہانے ہیں بہت

بات کرنے کو بہانے ہیں بہت۔۔۔ اور کہنے کو فسانے ہیں بہت۔۔۔ مگر کس سے بات کریں
اور بات کہنے کو بھی تو کتنی شرطوں کا پورا ہونا ضروری ہے، یہ بھی تو کسی کشٹ کاٹنے سے کم نہیں۔ یہ کہ آپ کے پاس کہنے کو کچھ ہو، یہ کو کوئی سننے والا ہو، وہ بھی کوئی ایسا جس سے آپ کچھ کہنا چاہیں، جس کے پاس پھر فرصت بھی ہو آپ کو سننے کی۔ اور وہ سننے والا ایسا کہ آپ کی بات سننا بھی چاہے، اور یہ بھی کہ آپ کی بات سمجھ بھی سکے۔ اب یہ سب ، اتنا سب ایک ساتھ ہونا کتنا مشکل ہے، یہ کوئی ان سے پوچھے جو کچھ کیا، بہت کچھ کہنے کی خواہش کو حسرت بنا بیٹھے ہیں۔
اور یہ بھی عجب ہے کہ یہاں کوئی کہی نہیں سنتا سمجھتا تو اَن کہی کون سنے سمجھے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی لیے تو ضروری ہو جاتا ہے گونگے کا گڑ کھانا۔۔۔

Monday, December 1, 2014

خالی جگہ پُر کریں

بچپن میں سکول میں سوال ہوتے تھے، خآلی جگہ پُر کریں۔  بڑے ہوئے تو معلوم ہوا کہ کچھ لوگ اس دنیا میں صرف خالی جگہیں پُر کرنے کے لیے آتے ہیں، اور جگہیں خالی نہ ہوں تو ان کو کوئی جگہ ظاہر ہے نہیں ملتی، پھر وہ دربدر ہی رہتے ہیں۔ ہاں ان کی اپنی خالی کی ہوئی جگہ بڑی جلدی پُر ہو جاتی ہے مگر۔

جو مانگنا پڑے وہ حق نہیں

جو مانگنا پڑے وہ حق نہیں ہوتا، خیرات ہوتی ہے۔ اور جیسا کہ لکھنا تھا کسی کا ، محبت اعزاز کی طرح سر اٹھا کے حاصل کی جاتی ہے، سر جھکا کر تو صرف بھیک وصولی جاتی ہے

Monday, November 10, 2014

خود شکن

مکرر۔۔ وہی ایک لکھی پڑھی سنی بات۔۔۔
بت شکن بہت ہیں، خود شکن کوئی نہیں

Thursday, November 6, 2014

گونگے کا گڑ

زہر اگلنے سے بچنے کے لیے کبھی کبھی ضروری ہو جاتا ہے، گونگے کا گڑ کھانا۔۔۔

Friday, October 31, 2014

ستارہء سفر

ستارہ ٹھہرا رہتا ہے، سفر نصیب تو اسے دیکھنے والے ہوا کرتے ہیں۔ جنہوں نے اسے دیکھا وہ سفر میں، جنہیں اس نے دیکھا وہ سفر نصیب۔ ہم بھی ستارہ نصیب  ہیں اور ہمارا نصیب سفر میں ہے۔ زمین آسمان سفر میں ہیں، وقت سفر میں ہے، ہوا سفر میں ہے۔ وقت اور لوگ سبھی گزرتے جا رہے ہیں۔  بس یہ ہم ستارہ نصیب ہی ہیں جو کسی ایک لمحے پر ٹھہر گئے ہیں یا وہ جو ہوتے ہیں کچھ نادر و نایاب لوگ، ستارہ ء سفر۔
اور ستارہ تو سفر کا استعارہ ہے، منزل نہیں، منزل کا اشارہ ہے۔
سفر نصیب! نصیب تو منزل است کہ نیست۔۔۔۔

Saturday, October 18, 2014

خواب اور شوق


خواب اور شوق ، پورے ہوکر، ادھورے رہ کر، صرف ہوکر ، ختم ہو ہی جاتے ہیں، یہ روح ہے جو گردش میں رہتی ہے، خواب نہیں۔ بہت کم خواب اور شوق ایسے ہوتے ہیں جو روح کی گردش میں ہمسفر ہوتے ہیں تا عمر۔ تو جو خواب اور شوق مر چکے ہوں، وقت تلے دب چکے ہوں، ان کو ڈھوتے نہیں رہنا چاہیے، دفنا دینا چاہیے، کہ وہ بہت بوجھل ہو چکے ہوتے ہیں۔۔۔

Friday, October 10, 2014

اندھیروں کی تشہیر

جب آپ روشنی بانٹ سکتے ہیں تو اندھیرے ایڈورٹائز نہ کریں

Thursday, October 9, 2014

شکوہ اور شکر

تو یہ شکوے اور شکر کے دن ہیں، ایک ہی بات پر، اندر جاتی سانس شکوہ کرتی ہے اور باہر آتی سانس شکر۔۔۔

Friday, September 26, 2014

راہ دکھانے والے۔۔۔سر کے نام

تو چلیے اس گمبھیر خاموشی میں ہمیشہ کی طرح خودکلامی کی جائے، دیوار سے بات کی جائے، یہ دیوار جس پر اب ان کے لفظوں کی کرنیں نہیں اترتی ہیں، وہی تھے جن سے میں نے دوسرے انسانوں سے رشتوں کے سابقوں لاحقوں کے بغیر بات کرنا سیکھی اور جانا کہ انسان کی سطح پر بھی بات کی جا سکتی ہے، ایک ایسے شخص جن کے لیے میں "شر" کی علامت تھی نہ ہی نئی دنیا کے نئے معیار پر محض خوش طبعی کا استعارہ۔ آپ جو ایک انسان، ایک روح کی سطح پر میری بات سنتے رہے، جواب دیتے رہے، دلاسا دیتے رہے، اگرچہ کہتے تھے کہ میرا ہاتھ تمہارے سر پر ہے، سدا تمہارے سر پر رہے گا۔ وہ جنہیں میں اپنا مرشد ، "سر" کہتی تھی، اور جسے وہ میرے الجھے سلجھے سوالوں پر لکھتے تھے، "تمہارا سر"۔ میرے دماغ کو روشنی، میری روح کو اڑان دینے کا شکریہ۔ آپ کی یاد آنکھ کا آنسو نہیں چہرے کی مسکراہٹ ہے۔
اور مبارک ہوتی ہے وہ مسکراہٹ جو بلاسبب چہرے پر آئے، یہ مسکراہٹ آپ کے نام۔

Wednesday, September 24, 2014

اے خزاں کی ہوا

اور خزاں کی ہوا چل پڑی جس کے چلنے سے سینے میں ایک ساتھ کئی پرندے پھڑپھڑانے لگتے ہیں، آزاد ہونے کو بے تاب۔۔۔ یہی وہ دن ہیں جب پرندے نقل مکانی کرتے ہیں، یہی وہ دن ہیں جب میں گھر کے صحن  اور کمروں میں چلتی ہوں، اتنا کہ پیروں تلے زمین گھسنے لگے، مگر روایتوں اور ریتوں نے اتنا مجبور کر دیا ہے کہ آپ اس ہوا میں اڑان نہیں بھر سکتے، آپ زمین سے جڑے ہیں، زنجیر سے جڑے ہیں۔ اڑان بھری جا سکتی ہے نہ رنگ ہی بھرنے آتے ہیں۔ برف زاروں پر جب دھوپ پڑتی ہے تو وہ کیسی دکھائی دیتی ہے، مجھے نہیں معلوم۔ مجھے پہاڑ نہیں صحرا بلاتے ہیں، جہاں نگاہ بلا روک ٹوک ایک سے دوسرے کنارے تک پہنچ جاتے ہوں، پلک جھپکنے میں۔ صحرا کا آسمان کیسا ہوتا ہے راتوں کو میں نے نہیں دیکھا۔ گندم یا سرسوں کے کھیت پر طلوع ہوتا سورج مجھے نہیں دکھایا گیا۔ جنگلوں میں اترتی شاموں کا مجھے نہیں معلوم۔ میں نے دھوپ کے بدلتے رنگ اور سایوں کے روپ نہیں دیکھے۔ سبزے کو سر اٹھاتے اور پھر پہاڑوں کو مٹیالا سرمئی رنگ دھارتے نہیں دیکھا۔ پھروں کی بدلتی شباہتوں، مٹی کے رنگوں اور خاصیتوں کی خبر مجھے نہیں دی گئی۔ میں نے پرندوں کی ڈاروں کو درختوں پر بسیرا لیتے دیکھا نہ کسی اجاڑ علاقے میں ابلتے چشمےکی صدا سنی۔ کسی جھیل پر سایہ فگن پھول نہیں دیکھے۔ میں نے ماضی کے کھنڈروں میں سفر بھی نہیں کیا، میں ان میں گزرے زمانوں کی آہٹیں کیسے سنتی۔ مجھے ساز دیا گیا مگر میری نوا کا دم گھونٹ دیا گیا۔ کیسے کیسے گیت ہیں جو میں نہیں سن پائی، کیسی کیسی کتابیں ہیں جو میں ابھی پڑھ نہیں پائی۔ کیسے کیسے رنگ ہیں جو بھر نہہیں پائی۔ اربوں انسانوں میں سے کتنے ہیں جنہیں میں جان پائی جو مجھے نہ جان پائے۔میلوں پھیلے فاصلوں میں میرے حصۓ میں طے کرنے کو چند گز ہی آئے۔ اتنا سب کچھ نہ دیا مگر یہ سینے میں پروں کی پھڑپھڑاہٹ دے دی،واہ میرے مولا۔ ہاں اور کچھ لفظ دے دئیے اور ایک تخیل جو اڑان بھرتا ہے تو زمانوں کی اور زمینوں کی سیر کر آتا ہے۔یہ بھی ہر کسی کو تو دیا نہیں گیا۔

Monday, September 1, 2014

آزادی

آزادی خود اپنے پیروں میں بیڑیاں ڈالنے کا نام ہے...

Saturday, August 30, 2014

قلب اور قبلہ

جس قوم کا قلب درست ہو نہ قبلہ ٹھیک ہو، وہاں انقلاب کس کھڑکی سے جھانکے گا، کس آنگن میں اترے گا۔۔۔

Monday, August 4, 2014

بند دروازے

اور کچھ دروازے ہمیں اس لیے بند ملتے ہیں کہ وہ باہر سے نہیں بلکہ اندر سے بند ہوتے ہیں

Wednesday, July 16, 2014

رونا ہنسنا

ہم بھی عجیب لوگ ہیں کہ جو رونے والی باتوں پر ہنستے ہیں، اور ہنسنے والی باتوں پر جھگڑنے لگتے ہیں۔۔۔

Tuesday, June 3, 2014

وہی لوگ۔۔۔

ہے تو عجیب مگر سچ یہی ہے کہ وہی لوگ جو آسمان پر بٹھاتے ہیں، پوری صلاحیت رکھتے ہیں کہ پیر تلے سے زمین کھینچ لیں۔۔۔وہی ہوا جو دیا جلانے کو ضروری ہے، وہی بے مہر ہوا ایک جھٹکے میں اسے بجھا بھی سکتی ہے۔۔۔

خدا

انسان خود کو خدا سمجھنے لگے تو خدا تو بنتا نہیں ، انسانیت سے بھی عاری ہو جاتا ہے۔

Saturday, May 10, 2014

دو ہاتھوں میں۔۔۔۔

اور اگر دونوں ہاتھ پھیلا کر ان میں سب کچھ سمیٹا جاسکتا، ساری گزری اچھی یادیں، سارے گزرے اچھے دن، کچھ پورے کچھ ادھورے رہ جانے والے شوق، کچھ خواب، کچھ دوست، سارے دوست، میرے لوگ ، وہ جو دنیا کے جانے کس کس حصے میں بکھر گئے، وہ جنہوں نے مجھے بھلا دیا،اور وہ جنہیں میں نے بھلا دیا۔۔۔پڑھی جانی والی کتابیں، سنا جانے والا میوزک، ایک ٹوٹا ہوا ساز، کچھ دھوپ، کچھ بارشیں، ہوا کے کچھ جھونکے، کھڑکی سے جھانکتے کچھ منظر، کنویں میں گونجتی کچھ آوازیں،ایک بازگشت،پیچھا کرتی ہوئی۔۔۔ کچھ سال، مہینے، دن، لمحے۔۔۔۔میرے لوگوں کی ہنسی، ان کی آنکھوں کی روشنی، چمکتے چہرے اور خوشیاں۔۔۔۔اگر میں اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتی اور ان سب کو سمیٹ کر اپنے پاس رکھ سکتی۔۔۔لیکن اتنا سب کچھ دو ہاتھوں میں کیسے سمیٹوں؟ دو ہاتھوں میں تو صرف دعا سمٹ سکتی ہے اور کچھ بھی نہیں۔۔۔

Wednesday, May 7, 2014

زندہ لوگوں میں زندگی۔۔۔

زندہ لوگوں میں زندگی نظر آنی چاہیے، آنکھ کے آنسو کی صورت سہی، ہونٹوں کی ہنسی کی صورت سہی، ماتھے کی شکن کی صورت سہی، زندہ لوگوں میں زندگی نظر آنی چاہیے۔۔۔