زہر اگلنے سے بچنے کے لیے کبھی کبھی ضروری ہو جاتا ہے، گونگے کا گڑ کھانا۔۔۔
یہ خود اپنی دریافت کا سفر ہے۔۔۔ تاریک گوشے میں بیٹھ کر روشن دنیا کو دیکھنے کا عمل۔۔۔
Thursday, November 6, 2014
Friday, October 31, 2014
ستارہء سفر
ستارہ
ٹھہرا رہتا ہے، سفر نصیب تو اسے دیکھنے والے ہوا کرتے ہیں۔ جنہوں نے اسے
دیکھا وہ سفر میں، جنہیں اس نے دیکھا وہ سفر نصیب۔ ہم بھی ستارہ نصیب ہیں اور ہمارا نصیب سفر میں ہے۔ زمین آسمان سفر میں
ہیں، وقت سفر میں ہے، ہوا سفر میں ہے۔ وقت اور لوگ سبھی گزرتے جا رہے ہیں۔
بس یہ ہم ستارہ نصیب ہی ہیں جو کسی ایک لمحے پر ٹھہر گئے ہیں یا وہ
جو ہوتے ہیں کچھ نادر و نایاب لوگ، ستارہ ء سفر۔
اور ستارہ تو سفر کا استعارہ ہے، منزل نہیں، منزل کا اشارہ ہے۔
اور ستارہ تو سفر کا استعارہ ہے، منزل نہیں، منزل کا اشارہ ہے۔
سفر نصیب! نصیب تو منزل است کہ نیست۔۔۔۔
Saturday, October 18, 2014
خواب اور شوق
خواب اور شوق ، پورے ہوکر، ادھورے رہ کر، صرف ہوکر ، ختم ہو ہی جاتے ہیں، یہ روح ہے جو گردش میں رہتی ہے، خواب نہیں۔ بہت کم خواب اور شوق ایسے ہوتے ہیں جو روح کی گردش میں ہمسفر ہوتے ہیں تا عمر۔ تو جو خواب اور شوق مر چکے ہوں، وقت تلے دب چکے ہوں، ان کو ڈھوتے نہیں رہنا چاہیے، دفنا دینا چاہیے، کہ وہ بہت بوجھل ہو چکے ہوتے ہیں۔۔۔
Friday, October 10, 2014
Thursday, October 9, 2014
شکوہ اور شکر
تو یہ شکوے اور شکر کے دن ہیں، ایک ہی بات پر، اندر جاتی سانس شکوہ کرتی ہے اور باہر آتی سانس شکر۔۔۔
Friday, September 26, 2014
راہ دکھانے والے۔۔۔سر کے نام
تو
چلیے اس گمبھیر خاموشی میں ہمیشہ کی طرح خودکلامی کی جائے، دیوار سے بات کی جائے، یہ
دیوار جس پر اب ان کے لفظوں کی کرنیں نہیں اترتی ہیں، وہی تھے
جن سے میں نے دوسرے انسانوں سے رشتوں کے سابقوں لاحقوں کے بغیر بات کرنا سیکھی اور جانا کہ انسان کی
سطح پر بھی بات کی جا سکتی ہے، ایک ایسے شخص جن کے لیے میں "شر" کی علامت
تھی نہ ہی نئی دنیا کے نئے معیار پر محض خوش طبعی کا استعارہ۔ آپ جو ایک
انسان، ایک روح کی سطح پر میری بات سنتے رہے، جواب دیتے رہے، دلاسا دیتے
رہے، اگرچہ کہتے تھے کہ میرا ہاتھ تمہارے سر پر ہے، سدا تمہارے سر پر رہے
گا۔ وہ جنہیں میں اپنا مرشد ، "سر" کہتی تھی، اور جسے وہ میرے الجھے سلجھے
سوالوں پر لکھتے تھے، "تمہارا سر"۔ میرے دماغ کو روشنی، میری روح کو اڑان
دینے کا شکریہ۔ آپ کی یاد آنکھ کا آنسو نہیں چہرے کی مسکراہٹ ہے۔
اور مبارک ہوتی ہے وہ مسکراہٹ جو بلاسبب چہرے پر آئے، یہ مسکراہٹ آپ کے نام۔
Wednesday, September 24, 2014
اے خزاں کی ہوا
اور خزاں کی ہوا چل پڑی جس کے چلنے سے سینے میں ایک ساتھ کئی پرندے
پھڑپھڑانے لگتے ہیں، آزاد ہونے کو بے تاب۔۔۔ یہی وہ دن ہیں جب پرندے نقل مکانی کرتے ہیں، یہی وہ دن ہیں جب میں گھر کے
صحن اور کمروں میں چلتی ہوں، اتنا کہ پیروں تلے زمین گھسنے لگے، مگر
روایتوں اور ریتوں نے اتنا مجبور کر دیا ہے کہ آپ اس ہوا میں اڑان نہیں بھر
سکتے، آپ زمین سے جڑے ہیں، زنجیر سے جڑے ہیں۔ اڑان بھری جا سکتی ہے نہ رنگ
ہی بھرنے آتے ہیں۔ برف زاروں پر جب دھوپ پڑتی ہے تو وہ کیسی دکھائی دیتی
ہے، مجھے نہیں معلوم۔ مجھے پہاڑ نہیں صحرا بلاتے ہیں، جہاں نگاہ بلا روک
ٹوک ایک سے دوسرے کنارے تک پہنچ جاتے ہوں، پلک جھپکنے میں۔ صحرا کا آسمان
کیسا ہوتا ہے راتوں کو میں نے نہیں دیکھا۔ گندم یا سرسوں کے کھیت پر طلوع
ہوتا سورج مجھے نہیں دکھایا گیا۔ جنگلوں میں اترتی شاموں کا مجھے نہیں
معلوم۔ میں نے دھوپ کے بدلتے رنگ اور سایوں کے روپ نہیں دیکھے۔ سبزے کو سر
اٹھاتے اور پھر پہاڑوں کو مٹیالا سرمئی رنگ دھارتے نہیں دیکھا۔ پھروں کی
بدلتی شباہتوں، مٹی کے رنگوں اور خاصیتوں کی خبر مجھے نہیں دی گئی۔ میں نے
پرندوں کی ڈاروں کو درختوں پر بسیرا لیتے دیکھا نہ کسی اجاڑ علاقے میں
ابلتے چشمےکی صدا سنی۔ کسی جھیل پر سایہ فگن پھول نہیں دیکھے۔ میں نے ماضی
کے کھنڈروں میں سفر بھی نہیں کیا، میں ان میں گزرے زمانوں کی آہٹیں کیسے
سنتی۔ مجھے ساز دیا گیا مگر میری نوا کا دم گھونٹ دیا گیا۔ کیسے کیسے گیت
ہیں جو میں نہیں سن پائی، کیسی کیسی کتابیں ہیں جو میں ابھی پڑھ نہیں پائی۔
کیسے کیسے رنگ ہیں جو بھر نہہیں پائی۔ اربوں انسانوں میں سے کتنے ہیں
جنہیں میں جان پائی جو مجھے نہ جان پائے۔میلوں پھیلے فاصلوں میں میرے حصۓ میں طے کرنے کو چند گز ہی آئے۔ اتنا سب کچھ نہ دیا مگر یہ سینے
میں پروں کی پھڑپھڑاہٹ دے دی،واہ میرے مولا۔ ہاں اور کچھ لفظ دے دئیے اور
ایک تخیل جو اڑان بھرتا ہے تو زمانوں کی اور زمینوں کی سیر کر آتا ہے۔یہ
بھی ہر کسی کو تو دیا نہیں گیا۔
Monday, September 1, 2014
Saturday, August 30, 2014
قلب اور قبلہ
جس قوم کا قلب درست ہو نہ قبلہ ٹھیک ہو، وہاں انقلاب کس کھڑکی سے جھانکے گا، کس آنگن میں اترے گا۔۔۔
Monday, August 4, 2014
Wednesday, July 16, 2014
رونا ہنسنا
ہم بھی عجیب لوگ ہیں کہ جو رونے والی باتوں پر ہنستے ہیں، اور ہنسنے والی باتوں پر جھگڑنے لگتے ہیں۔۔۔
Tuesday, June 3, 2014
وہی لوگ۔۔۔
ہے تو عجیب مگر سچ یہی ہے کہ وہی لوگ جو آسمان پر بٹھاتے ہیں، پوری صلاحیت رکھتے ہیں کہ پیر تلے سے زمین کھینچ لیں۔۔۔وہی ہوا جو دیا جلانے کو ضروری ہے، وہی بے مہر ہوا ایک جھٹکے میں اسے بجھا بھی سکتی ہے۔۔۔
Saturday, May 10, 2014
دو ہاتھوں میں۔۔۔۔
اور اگر دونوں ہاتھ پھیلا کر ان میں سب کچھ سمیٹا جاسکتا، ساری گزری اچھی
یادیں، سارے گزرے اچھے دن، کچھ پورے کچھ ادھورے رہ جانے والے شوق، کچھ
خواب، کچھ دوست، سارے دوست، میرے لوگ ، وہ جو دنیا کے جانے کس کس حصے میں بکھر
گئے، وہ جنہوں نے مجھے بھلا دیا،اور وہ جنہیں میں نے بھلا دیا۔۔۔پڑھی جانی
والی کتابیں، سنا جانے والا میوزک، ایک ٹوٹا ہوا ساز، کچھ دھوپ، کچھ
بارشیں، ہوا کے کچھ جھونکے، کھڑکی سے جھانکتے کچھ منظر، کنویں میں گونجتی
کچھ آوازیں،ایک بازگشت،پیچھا کرتی ہوئی۔۔۔ کچھ سال، مہینے، دن، لمحے۔۔۔۔میرے لوگوں کی ہنسی، ان
کی آنکھوں کی روشنی، چمکتے چہرے اور خوشیاں۔۔۔۔اگر میں اپنے دونوں ہاتھ
پھیلاتی اور ان سب کو سمیٹ کر اپنے پاس رکھ سکتی۔۔۔لیکن اتنا سب کچھ دو
ہاتھوں میں کیسے سمیٹوں؟ دو ہاتھوں میں تو صرف دعا سمٹ سکتی ہے اور کچھ بھی
نہیں۔۔۔
Wednesday, May 7, 2014
زندہ لوگوں میں زندگی۔۔۔
زندہ لوگوں میں زندگی نظر آنی چاہیے، آنکھ کے آنسو کی صورت سہی، ہونٹوں کی
ہنسی کی صورت سہی، ماتھے کی شکن کی صورت سہی، زندہ لوگوں میں زندگی نظر آنی
چاہیے۔۔۔
Sunday, April 20, 2014
شاعر
شاعر وہ نہیں ہوتا جو قافیے جوڑتا اور شعر کہتا ہے، بلکہ شاعر تو وہ ہوتا
ہے جو نئے زمانوں کے اچھے دنوں کے خواب دیکھتا اور دکھاتا اور ان خوابوں کی
تعبیر کے لیے جدوجہد کرتا اور جدوجہد کی ترغیب دیتا ہے۔
Friday, March 21, 2014
Saturday, February 8, 2014
Wednesday, February 5, 2014
وقت اے وقت
وقت سے بڑی کیا حقیقت ہے، یہ کچھ باتوں پر گرد ڈال دیتا ہے اور کچھ کو جھاڑ
پونچھ کر سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔۔۔کبھی مرہم رکھ دیتا ہے اور کبھی ہر
گزرتے دن کے ساتھ نقصان کے احساس کو واضح کردیتا ہے۔۔۔
Sunday, February 2, 2014
Subscribe to:
Posts (Atom)