Friday, July 8, 2022

احمد جاوید صاحب کی ایک گفتگو بلکہ تنقید۔۔۔۔

کچھ مشکل باتیں، سوشل میڈیا کے بارے ، سوشل میڈیا پر ہی۔۔۔
احمد جاوید صاحب کی ایک گفتگو بلکہ تنقید۔۔۔۔
"وہم کہ آج کا عام آدمی اتنا جانتا ہے کہ جو پچھلے دور کا عالم نہیں جانتا تھا مگر اس جاننے کی تفصیل پوچھی جائے تومعلوم ہو کہ جاننے کا وہم تو ہے مگر جاننے کا نتیجہ اسے نصیب نہیں ہوا۔۔۔"
یہ وہم کیوں ۔۔ کیوں کہ رسائی بڑھ گئی ہے۔۔ مگر جذب کے لیے درکار وقت ہم صرف کرنا نہیں چاہتے۔۔۔ کسی نے لکھا تھا، "انسان تین چیزوں سے خائف رہتا ہے: موت، دوسرے لوگ، اور خود اس کا اپنا ذہن۔۔۔ "
اپنا ذہن to which I have to forever throw scraps to feed on, or it would devour me the moment it isn't chewing on something else... and those scraps give me the illusion of knowledge :)
علم کا وہم، علمی روایات سے بے تعلقی، اور اس وہم اور بے تعلقی کے باوجود علم کا غرور، ادب و مروت و اخلاق سے بداخلاقی، بے مروتی اور احساس سے بے حسی کی جانب سفر،بدلحاظی اور بدلحاظی کو جرات اور حق گوئی سمجھنے کا گمان، ہر کسی پر شک اور بدگمانی، دوسروں کی انفرادیت کو تسلیم کرنے سے انکار، برداشت و تحمل کی کمی، انسان کو انسان نہ سمجھنا (خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ انسان، ہمارے ایک استاد محترم کا کہنا ہے کہ غلطی کرنا انسان کا حق ہے، غلطی کا شعور ذمہ داری، اور یہ ایسا آزاد کر دینے والا خیال ہے)، اختلاف کو دشمنی بنا لینے کا رحجان، ’’میں‘‘ اور بس ’’میں ‘‘ کا پہاڑہ، شہرت پسندی، اور پھر محبتوں اور عقیدتوں میں مبالغہ آمیزی جن سے عقیدت ہے انہیں خدا سمجھ لینے کا رحجان اور پھر کسی روز انہی خدائوں کو ہم لوگ ہی سر سے اٹھا کر زمین پر پٹخ بھی دیتے ہیں،
اپنی پہچان کے بغیر اپنی انفرادیت کا اعلان (رزق روزی کے حصول کا ذریعہ آپ کی پہچان نہیں ہوتا، ہم میں سے کتنے اپنا تعارف بغیر اپنی تعریف کے اور بغیر اپنے پروفیشن اور ڈگری کے بیان کے کروا سکتے ہیں؟)، کھوکھلی شخصیتیں جن کا بیان سوا چیزوں سے پہچان اور سوائے ظاہر اور ظاہر کی کامیابی کے کچھ نہیں، بے جا اظہارِ ذات، اظہارِ ذات کی حد سے بڑھی خواہش بھی تکبر ہوتی ہے (یہی آج کے اس سوشل میڈیا کی تصویر ہے)۔

پھر غالب کہہ گئے کہ مے سے غرض ہے کس رُوسیاہ کو۔۔۔۔اک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے۔۔۔ اک گونہ بے خودی، اڈکشن یا لت کی تعریف یہی ہے۔۔۔۔
something which numbs the pain..
something which traumatized people seek to numb their unresolved traumas and unrecognized pains, which toxic culture imposes on them.. and in result it's mindlessness that we seek and not mindfulness what we need...
we shy away from our authentic selves...
authentic self....
اپنی اصل، اپنی حقیقت کا شعور، اپنی پہچان۔۔۔ وہ خود شناسی جو خداشناسی میں ڈھلتی ہے۔۔۔
this shair talks about seeking and reclaiming that authenticity ..
دل ایسی چیز کو ٹھکرا دیا نخوت پسندوں نے
بہت مجبور ہو کر ہم نے آئینِ وفا بدلا
مشرق اور مغرب، احمد جاوید صاحب اور ڈاکٹر گیبر میٹے ایک نقطے پر آملے ہیں.

https://www.youtube.com/watch?v=Gku5_aL5f5o

Monday, June 13, 2022

سر عزم بہزاد کی ای میل ۔ ۳

​​واصف صاحب کہتے ہیں، اپنی زندگی میں کوئی ایک ایسا شخص ضرور ڈھونڈ لینا جو تمہیں خود تم سے زیادہ جانتا ہو۔
میری خوش قسمتی کہ مجھے دو ایسے لوگ ملے، اور اس کو کیا کہا جائے سوائے اللہ کی مرضی کہ دونوں ہی اس جہان سے رخصت ہوگئے۔ الطاف فاطمہ اور عزم بہزاد۔۔۔ دو چلتے مسافر۔۔۔
وہ کہ جنہیں وہ خوبیاں بھی دکھائی دیتی تھیں جو کبھی کسی اور کو تو کیا خود کو بھی نظر نہ آئی تھیں۔ اور وہ جنہیں خامیاں سمجھتی رہی انہیں وہ بھی خوبیاں بن کر نظر آتی تھیں۔
کیسے صیقل سچے آئینے تھے، بس ایک لمحہ لگتا تھا جن کے سامنے اور اپنا آئینہ دل بھی صاف ستھرا ہو جاتا تھا۔
ہوتا بس یہ ہے کہ وہ ہمارے لیے ایک لکیر کھینچ دیتے ہیں،اب آپ چاہے لکیر پیٹیں مگر اس سے پیچھے جانے کی اجازت نہیں،  ایک معیار طے کردیتے ہیں، پھر آپ کچھ بھی کرلیں اُس معیار سے نیچے اترنے کی اجازت نہیں۔۔۔ آگے اور اوپر ہی جانا ہے۔۔۔

14جولائی2010
اللہ تمھیں بہت خوشیاں دے۔
مجھے تمھارا تہذیب یافتہ اور محتاط رویّہ بہت پسند ہے۔
ہر چند کہ فی زمانہ اتنی احتیاط آدمی کو دنیا کی "عارضی" خوشیوں
سے دور رکھتی ہے یا کر دیتی ہے ، لیکن ٹھیک ہے کہ اس کے پیچھے 
بڑے احکامات کی پیروی شامل ہے۔۔۔۔۔ تم نام ، مقام اور دولت و آسائش کی
پروا نہ کرو کہ اللہ نے یہ سب تمھیں دوسری شکل میں عطا کر رکھا ہے۔
تمھارا نام و مقام اللہ کی بارگاہ میں طے کیا جا چکا ہے۔ تم ایک لفظ سے 
چڑتی ہو ، مگر میں پھر دہراوں گا کہ میرا رب کسی کو محروم نہیں رکھتا
اور اگر کوئی کسی پہلو سے محروم ہے تو اسے یا تو کسی اور خانے میں
نوازے رکھتا ہے یا پھر اس کا بہت بڑا اجر اپنے پاس محفوظ رکھتا ہے۔ 
رہی دولت و آسائش کی بات تو تمھارا کردار ، تمھارا استقلال ، تمھارا ضبط
اور تمھارا صبر تمھاری بہت بڑی دولت ہے ۔ ان صفات کو پانے کے لیئے 
آدمی دنیا بھر کی دولت بھی لُٹا دے تو نہیں پا سکتا۔۔ 
کبھی کبھی تمھیں مخاطب کرتے ہوئے میری آنکھیں شفقت بھرے آنسووں
سے بھر جاتی ہیں ، جیسے اس وقت۔۔۔ میرے یہ آنسو تمھارے لیئے مسلسل 
دعائیں ہیں ، جنھیں اللہ ضرور قبول کرے گا۔
میں تمھیں اتنا ہی جانتا ہوں ، جتنا تم نے مجھے بتانا چاہا۔۔ یہ عجب تعلق ہے
جس کی بنیاد پاکیزگی اور احتیاط پر قائم ہے۔ 
ہمیشہ خوش اور مطمئن رہنے کی کوشش کرو کہ ہم معمول سے زیادہ کچھ
نہیں ، ہمارے بارے میں تمام فیصلے لوح _محفوظ پر مکتوب ہیں۔


۔ ہما انور
Huma Anwar
#HumaAnwar #AzmBehzad

Monday, April 11, 2022

غم

 حضرت یعقوب چالیس برس اپنے بیٹے حضرت یوسف کے لیے گریہ کرتے رہے۔

غم، ناشکرگزاری نہیں ہوتا۔

غم اور آنسو اپنے مالک کے حضور اپنی بے بسی اور عاجزی کا اظہار ہوتے ہیں۔

اپنے کچھ بھی نہ ہونے کا  اقرار ہوتے ہیں۔


Saturday, February 12, 2022

سوال

 سوال اکثر اوقات اپنی علمیت کے بیان کے لیے یا پھر دوسرے کی علمیت کے امتحان کے لیے کیا جاتا ہے۔

Friday, October 15, 2021

سر عزم بہزاد کی ای میل ۔ ۲

ایک پرانی ای میل مرشد کی۔۔۔سر عزم بہزاد کی
سر پر دھرے شفقت بھرے ہاتھوں میں سے ایک، میرے چراغوں میں سے ایک چراغ

15اکتوبر2008

اکّااااا !
تم بعض اوقات ضرورت سے زیادہ حساس ہوجاتی ہو، تمہاری یہ حساسیت تمہاری تعلیم اور حصولِ علم کی خواہش کی پیداکردہ ہے۔ یہ وہ حساسیت ہے جسے اکثروبیشتر تمہاری تنہائی بڑھا دیتی ہے۔
میں نے اپنی اب تک کی عمر میں بہت تعلق نبھائے، اتنے تعلقات کہ کوئی مجھے ’’تعلق دار’’ کوئی ’’شکارِ احباب‘‘ اور کوئی ’’ہمدرد دواخانہ‘‘ یا ’’حکیم سعید‘‘ کہا کرتا۔  میں یہ سب سنتا اور پھر اپنے گرد جمع ہجوم میں کھو جاتا۔ بہت دن بعد میرے اندر ایک احتساب نے جنم لیا جس کا تقاضا تھا کہ اپنے اطراف جمع بھیڑ کو غور سے دیکھو اور فیصلہ کرو کہ کتنے لوگ تم سے مخلص ہیں اور کتنے محض ’’خوش وقتی‘‘ کے لیے موجود ہیں؟
مجھے یہ جواب ملا کہ سب کے سب خوش وقتی کے لیے جمع ہیں اور اپنی اپنی اننگز کھیل کر بھاگ جائیں گے۔ میں جانے کس مٹی کا بنا ہوں کہ میں نے یہ سب جانتے ہوئے بھی نتیجہ وقت پر چھوڑا اور خوش وقتی کرنے والوں سے ’’خوش دلی‘‘ سے ملتا رہا۔ آخر وہ وقت آیا کہ سب ’’اسیرانِ خوش وقتی‘‘ ایک ایک کر کے منظر سے غائب ہونے لگے۔ اُن ہی دنوں ایک عجیب احساس میرے اندر پیدا ہوا (جو آج بھی پوری قوت سے موجود ہے) کہ مجھے نقصان کا صدمہ نہیں ہو پایا بلکہ بعض مقامات پر تو ایسا لگا کہ دل کا کوئی بوجھ ہلکا ہو گیا۔ حیرانی کی بات یہ تھی کہ یہ احساس خاموشی سے میری شاعری کے اندر بھی در آیا اور جانے والوں کے میری غزلوں میں جا بجا اشعار نظر آنے لگے، مثلاً

عمر کے حیرت خانے میں اب یہ سوچتے رہتے ہیں

تم کو بھول گئے ہیں ہم یا جسم سے گرد اتاری ہے

یا 

اب تو ملال بھی نہیں یعنی خیال بھی نہیں

کون کہاں بچھڑ گیا تیز ہوا کے شور میں 

یا

شاخِ دل کی ہریالی خواب کا بیاں ٹھہری

میں نے جس کو نم رکھا وہ زمیں ہی بنجر تھی

تو اکّا ان باتوں پر ملول نہ ہوا کرو اور اگر ملال زیادہ ہو تو ’’انا للہ و انا الیہ راجعون‘‘ پڑھ لیا کرو۔

میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں۔
اللہ حافظ


۔ ہما انور
Huma Anwar
#HumaAnwar #AzmBehzad

Wednesday, August 18, 2021

ازلی تنہائی کا بیان ۔ سر عزم بہزاد کی ای میل ۔ ۱

واصف صاحب کہتے ہیں، محسن کے احسان کو یاد رکھنے سے اللہ کا شکر ادا ہوجاتا ہے۔ یہ کہ محسن کے ساتھ وفا کی جانی چاہیے۔ یہ تو عنایت ہے اللہ کی کہ زندگی کے ہر حصے میں کسی نہ کسی کو بھیجتا رہا ہے وہ، انسان، محسن، یا خیال یا لفظ، یا پھر کبھی کہیں حبس میں ہوا کا جھونکا ہی، یہی احساس دلانے کو وہ کبھی کسی کو تنہا نہیں چھوڑتا ، کبھی کسی کو بھولتا نہیں۔
تو انہی میں سے ایک ہیں سر عزم بہزاد، ایک بے حد شفیق ہستی، ایک مہربان استاد ، ایک مخلص دوست، اور ایک بے حد نیک انسان۔۔۔ اس بلاگ کا نام انہی کے ایک مصرعہ پر رکھا گیا ہے۔۔۔
کسی شاخِ سبز کی چھائوں میں ، کوئی خار چبھ گیا پائوں میں
میں زیادہ دیر جو چپ رہا تو فضا کی چیخ نکل گئی
ایک بار انہیں بتایا تھا کہ میری بھتیجی مجھے اکّا کہتی ہے ، پھر بھتیجی تو چاہے بھول گئی ہو اکّا کہنا، انہوں نے یاد رکھا اور مجھے ہمیشہ اسی نام سے پکارا۔ارادہ ہے کہ ان کی کچھ ای میلز یہاں اس نیت سے شیئر کی جائیں کہ اور لوگوں کو بھی شاید اس سے کچھ رہنمائی مل سکے، اور یہ جانے والوں کے لیے بھی صدقہ جاریہ کا سبب بنے۔ اگر آپ یہ پڑھ رہے ہیں تو ان کے لیے دعائے مغفرت ضرور کیجئے گا۔ رب العزت اُن کے درجات بلند فرمائے، آمین۔ 

ان کی28فروری 2008 کی ایک ای میل۔

وعلیکم سلام اکّا
تمہاری یہ تحریر مجھے بہت بے ربط لگی۔ تم میرے مشوروں پر عمل کرنے کی بجائے اپنے آپ میں الجھتی جا رہی ہو۔ تمہارے سوالات حق بجانب ہیں لیکن یہ دنیا ہے، یہ ہر سوال کا مدلل جواب دینا جانتی ہے۔ تمہیں تمہارے سوالوں کے جواب مل جائیں گے، لیکن یہ تمہاری تشفی نہیں کرسکیں گے۔ وجہ یہ کہ دنیا میں رائج جوابات مادی اور عقلی رویوں کی بنیاد پر ترتیب دئیے گئے ہیں جب کہ ہمارا قبیلہ دل کی آواز سننا چاہتا ہے، ایسی آواز جس پر سود وزیاں کا سایہ نہ ہو۔ تم نے کونڈولیزا رائس کی تقریریں نہیں دیکھیں، بش کو نہیں سنا، ڈک چینی کو نہیں دیکھا، یہ ایک خود ساختہ واقعے یعنی ٹریڈ سینٹر کے منہدم ہونے کے بعد جس جس طرح جھوٹ بول رہے ہیں اور دہشت گردی کے نام پر مسلمانوں کا قتل عام کرتے جا رہے ہیں۔ تم ان کے چہروں پرکسی قسم کی شرمندگی نہیں دیکھو گی، کیوں کہ ان کے پاس ہر سوال کا جواب ہے۔ ہمیں ان کے جواب یوں مطمئن نہیں کرتے کہ ہمارا دل اسے تسلیم نہیں کرتا۔  اِس وقت ہمارے چاروں طرف یہی ہو رہا ہے ۔  ہر مرد اور ہر عورت، ہر بھائی اور ہر بہن ، ہر دوست اور ہر سہیلی سب، کوئی بش ہے تو کوئی رائس یا کوئی مشرف ہے۔
دنیا اپنے انجام کی طرف جا رہی ہے۔ آج كے انسان کو نفع اور نقصان کا فیصلہ نہیں کرنا پڑتا ، یہ تو شاید اس كے اندر فیڈ ہو گیا ہے۔  آج كے انسان کو جہاں فائدہ  نظر آئے، وہاں بچھ  جاتا ہے ، اور جہاں اس کا نقصان ( یعنی اسے کچھ دینا پڑے ) ہو، وہاں سے وہ اُکھڑجاتا ہے۔ اِس معاشرے میں اگر تم یہ چاہو کہ اگر تم کسی کوتنگ نہیں کرتیں تو کوئی دوسرا تمہیں بھی تنگ نہ کرے،  بھول جاؤ، یہاں بھی تمہیں  مایوسی ہو گی۔  لوگ تمہارا یہ احسان بھی نہیں مانیں گے کہ تم نے کبھی انہیں تنگ نہیں کیا ، کبھی زیر بار نہیں کیا ، وہ اِس كے باوجود تم سے وہ سب کچھ طلب کریں گے جن کا کبھی تم نے ان سے مطالبہ بھی نہیں کیا ہو گا۔
اب اسی بات کا دوسرا رخ دیکھو۔ میں نے تم سے کہا تھا ،ہم سب تنہا ہیں اور اپنی تنہائی کو فراموش کرنے كے لیے نت نئے مشاغل ایجاد کرتے رہتے ہیں ۔ اگر ذہنی رَو مادی ہو تو ہر مشغلے اور رشتے كے پیچھے کوئی جسمانی مادی فا ئدہ کارفرما ہو گا۔ اگر ذہنی رَو روحانی ( غیر مادی ) ہو تو ہر مشغلہ اور ہر رشتہ تسکین قلب کا متقاضی ہو گا۔ تم اور ہم اِس دوسرےقبیلے سے تعلق رکھتے ہیں ۔یہ قبیلہ دنیا کی نگاہ میں زیاں کار سمجھا جاتا ہے۔ اِس مسئلے کو غور سے دیکھو تو ہے یہ تنہائی کا مسئلہ ہی ، اُدھر مادی اور جسمانی مفاد اور اِدھر عزتِ نفس اور تسکین قلب کا مطالبہ۔
اکّا ! تم اپنی تنہائی سے لڑ رہی ہو ،مسئلہ ایڈجسمنٹ کا ہے ، تم اِس لڑائی میں اپنا محفوظ مورچہ نہیں بنا پا رہیں، وجہ ایسی مصروفیات کی کمی جس میں کچھ دیر کو آدمی اپنی تنہائی کو بھول جائے۔ یہ رشتے جو ہمارے ارد گرد منڈلاتے رہتے ہیں، ان سے محبت اِس لیےہوتی ہے کہ یہ ہماری تنہائی بھلانے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ ہم ان میں گُھل مل کر اپنی تنہائی کو فراموش کیے رہتے ہیں۔ تنہائی کو بھلانے یا صیقل کرنے کا بہترین ذریعہ اپنے آپ کو دریافت کرنا ہے۔ یہ سیلف ڈسکوری کا ہنر شاعروں كے پاس سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ یہ جو دِل پہ گزرتی ہے، وہ تو رقم کرتے ہی ہیں لیکن اِس سے بھی آگے وہ بھی رقم کر جاتے ہیں جو دِل پر گزرنے سے وجود پر رقم ہوتی ہے ۔ یہ ہے اس ازلی تنہائی کا بیان جو ہم سب کا مقدر ہے۔
تمہیں اب کوئی ملازمت کر لینی چاہیے، یہ میں  یوں کہہ رہا ہوں کہ ہم جیسے زیاں کاروں کو دنیا کا محتاج نہیں ہونا چاہیے ۔
 مت گھبراؤ اِس دنیا سے ، اِس پر سوالات بھی نہ کرو۔ اسے بس تیسری آنکھ سے دیکھتی جاؤ اور جہاں مناسب ہو وہاں کوئی جملہ  بھی ٹکا دو۔ اپنی اِس بات کا اختتام اپنے اِس شعر پر کروں گا :
اِس رونق میں شامل سب چہرے ہیں خالی خالی
تنہا رہنے والے یا تنہا رہ جانے والے
اللہ تمہیں بہت خوشیاں دے ۔
اللہ حافظ


۔ ہما انور
Huma Anwar
#HumaAnwar #AzmBehzad

Friday, March 19, 2021

مہمانوں سے مہمان سرا کچھ کہتی ہے


پچھلے برس یہی دن تھے، یا ہفتے بھر بعد یہی دن آنے کو تھے، کہ یہ سارا ہجوم انسانوں کا کچھ ہفتے کو منظر سے ہٹ گیا تھا، اور فطرت نے کھل کر سانس لی تھی۔۔۔ وہی سڑکیں جہاں تیزرفتار ٹریفک میں کئی بار بلیوں اور پرندوں کے لاشے بے طرح کچلے جاتے ہیں، وہ سڑکیں خالی تھیں اور ان پر پرندوں کی ڈاریں آزادی سے اترتی تھیں۔ گرد اور دھویں میں اٹا مٹیالا سا آسمان ایک نیلگوں وسعت میں ڈھل گیا تھا جو نگاہ کو عجب سکون دیتی تھی۔ سڑک کنارے درختوں کے جھنڈ جن کے پتے ہمہ وقت گرد دھول میں اٹے رہتے تھے، دھلے دھلائے خوشی سے دمکتے تھے۔ مہمانوں سے مہمان سرا کچھ کہتی تھی، کہتی ہے۔۔۔ اور مہمان ایسی افراتفری میں ایسی بھاگم دوڑ میں ہیں کہ پل بھر کی فرصت نہیں۔ پھر ایک دن ایسا آتا ہے کہ ساری مصروفیتیں پل بھر میں بے معانی ہوجاتی ہیں، فنا ہو جاتی ہیں۔ ایک ندا آتی ہے اور اَن چاہے سہی یا دل سے، سب سامان یہیں چھوڑ چھاڑ جانا ہوتا ہے، حاضر سائیں!

البتہ کہانی یہ اس مہمان سرا کی خالی سڑکوں اور اس کے کناروں سر اٹھائے کھڑے ان درختوں کی ہے جو کالج یونیورسٹی اور کام وام کے سب دنوں کے ساتھی ہیں، اتنے کہ اب تو نہر کنارے اگے ان درختوں کی ایک جھلک سی بھی اس علاقے کی پہچان کروا دیتی ہے۔ کہاں کہاں آموں کے جھنڈ ہیں، جو فروری کے جاتے جاتے سونے جیسے بُور سے لد جاتے ہیں جیسے گہنے پہن لیے ہوں۔ کدھر جامن کی قطاریں ہیں، کہیں وہ بید مجنوں جو گرمیوں کی لو میں کسی مجنون کی طرح بال بکھرائے جھومتے ہیں، سنبل کہ سرخ پھولوں سے لدے یوں دکھائی دیتے ہیں جیسے کوئی سرخ سرخ ہتھیلیاں پھیلائے دعاگو ہو، ڈھاک تلے بچھے سرخ قالین، گُل مہرکے نازک پتے اور پھول، وہ گولہڑ کا حیران کرنے والا درخت، کئی فٹ کے دائرے میں پھیلے ہوا میں بارش کی دُھن بجاتے رین ٹری، ارغوانی پھولوں سے لدے کچنار، شیشم، اشوک، ارجن، نیم کے ننھے سفید پھول، دھریک کا کاسنی غبار اور اس کی خوشبو، تالیاں پیٹتے پیپل، سراٹھائے سفیدے ۔۔۔ اپریل کے بعد سے جون جولائی تک بنفشی رنگ کے پھولوں سے لدے ہوئے پیڑ جن کا نام مجھے اب معلوم ہوا، جرول، کریپ مرٹل۔۔۔ اور کئی ایسے ساتھی جن کے ناموں سے میں واقف نہیں، اپریل سے جون تک سفید پھولوں سے لدے پیڑ جیسے کسی نے زمین پر بڑے بڑے گلدستے لگا دئیے ہوں۔۔۔ وہ جن کی شاخوں پر بہار آتے ہی گلابی پھول آجاتے ہیں اور پتا ایک نہیں ہوتا۔ املتاس جس کے نوخیز پتوں سے چھن کر آتی سہ پہر کی دھوپ کسی اور جہان کا پتہ بتاتی ہے، جس کی باریک تار سی صورت کی کلیاں ڈھلتی دھوپ میں جھلملاتی ہیں اور پھر یکایک ایک صبح وہ روشنی سے لد جاتا ہے۔ کہیں کہیں اپنی جٹائیں پھیلائے سادھو برگد۔ اکتوبر آتے ہی کئی سڑکوں پر پھیلتی ایک پُراسرار مہک، السٹونیا کی۔  پھر جنگلی گلاب کی بیلیں، بوگن ویلیا کے پھولوں کی برسات۔ مئی جون کے مہینوں میں مال پر زرد رین للی کی بہاریں۔ کیسا کتنا بھرپور حُسن ہے۔۔

ایک مٹی، ایک ہوا، ایک پانی، مگر ہر ایک کا رنگ جدا ہے، ہر پھل کی صورت اور ذائقہ جدا ہے۔ اور کوئی کسی سے مسابقت میں نہیں ہے، سب اپنے اپنے عالم میں سرنگوں محو ثنا ہیں جیسے۔ اپنے رنگ، اپنے ثمر، اپنی صورت پر راضی۔ خزاں آتی ہے تو خالق کی نگہبان نگاہوں میں سر جھکائے ہر سردوگرم برداشت کرتے، حکم کے، حرفِ کُن کے منتظر رہتے ہیں۔ وقت آتا ہے تو اس کی ثنا کرتے اس کی یاد دلاتے جاگ اٹھتے ہیں۔ اور کوئی وہ ہیں کہ جن پر عین خزاں کی رُت میں گلابی بہار اترتی ہے، بدھا کا درخت۔ یعنی ہر کسی کے لیے وقت کا دورانیہ مختلف ہے، اور یہ بھی کہ وہ چاہے تو خزاں میں بہار لے آئے۔کمال کا خاصا ظہور ہے، مجھے یہی لگتا ہے کہ انہیں بھی حکم ہوتا ہے کہ اب ظہور کا وقت ہے، کلام کا وقت ہے۔ نشانی بننے کا، پہچان سمجھانے کا سمے۔
ایک مٹی، ایک ہوا، ایک پانی، انسان بھی تو ایسے ہیں ہیں، محوسفر، کوئی کسی کی مسابقت میں نہیں، سب کا رنگ سب کا ثمر جدا ہے بس، سفر بھی، جدا اور تنہا، خالق کے حضور سب تن تنہا ہیں، میانِ نگاہ و دریچہ، اس واسطے میں کسی تماشائی کی گنجائش نہیں۔ جتنے راہی ہیں اتنی ہی راہیں ہیں، کوئی کسی کے خلاف نہیں۔ ہر سفر کی حالت اور نوعیت الگ ہے، سمت ایک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر کوئی تنہا ہے اور یہی سبب ہے کہ ہر لمحے ہر عالم میں نرمی اور محبت بانٹنے کی ضرورت ہے۔

Monday, March 15, 2021

ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو۔۔۔

 ادب راہ کا پہلا چراغ ہے۔ 

اسی لیے کسی کے جھوٹے خدا کو بھی برا کہنے سے منع کیا گیا کہ سجا رکھے ہیں لوگوں نے دلوں میں۔  خدا جھوٹا ہے، عقیدت تو سچی ہے۔ آبگینوں کی حفاظت کا فرمان ہے۔ پھر جہاں خدا، ادب اور عقیدت سچی بھی ہو۔۔۔۔خدارا اسے ہنسی ٹھٹھول کا حصہ مت بنائیے۔۔۔
کسی یتیم کے سامنے اپنی اولاد کو پیار کرنے سے، ہمسایہ غریب ہو تو پھل کھا کر چھلکے باہر پھینکنے سے، دُکھی کے سامنے اپنی خوشی کے مظاہرے سے اسی لیے منع کیا گیا ہے۔۔۔ کسی میں محرومی کا احساس جگانا، محرومی کا احساس جو رحمتوں سے مایوس کرنے لگے۔۔۔۔
خیالِ خاطرِ احباب چاہیے ہر دم۔۔۔ انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو۔۔۔


زمانوں کے پار سے آتی آوازوں کو سلام۔۔۔۔

زمانوں کے پار سے آتی آوازوں کو سلام۔۔۔

گزر جانے کے بعد بھی صفت کی حفاظت میں قائم رہنے والوں کو سلام۔۔۔
فاصلے میں تاریخ میں دور ہستیوں کے بھیجے خیال کو سلام۔۔۔۔
جب نشانِ راہ گم ہو، تو رہنما ہونے والوں کو سلام۔۔۔
جا کر بھی نہ جانے والوں کو سلام۔۔۔۔
وہ جو خود کو ان الانسان لفی خسر کی تفسیر کہتے رہے اور حقیقت میں وتواصوا بالحق وتواصوا بالصبر کی تعبیر بنے رہے۔ وہ کہ جب جب خود سے اعتبار اٹھا تو تھپکی بنے، ڈھارس بنے، تسلی بنے، حوصلہ بنے اور سب سے بڑھ کر آئینہ بنے کہ دیکھو اور جان لو کہ ’’یہ ہو تم اور یہ ہے تمہارا طریقِ حیات۔۔۔‘‘
عکس۔ آپا (الطاف فاطمہ) کا ایک خط





۔ ہما انور
Huma Anwar
#HumaAnwar #AzmBehzad #AltafFatima

Wednesday, November 4, 2020

گھر

دنیا کے سب ہی گھر ، عالیشان ہوں یا یونہی سے، کرائے کے ہی تو ہوتے ہیں۔ ایک روز انہیں چھوڑ جانا ہوتا ہے، سوچیں تو انسان کا جسم بھی کرائے کا ہی گھر ہے۔ اقبال کہہ گئے، وجودِ حضرت انساں نہ روح ہے نہ بدن۔ وہ جو وجود ہے۔۔۔۔  انسان سب سے زیادہ اپنے ساتھ ہی رہتا ہے، اپنی سوچ اپنے خیال میں ہی بستا ہے، اور بھلے کوئی محل میں بستا ہو، کسی کسی کی سوچ اور خیال کا یہ گھر کس قدر تنگ اور اندھیرا ہوتا ہے۔ ان حسد بغض بھرے الجھے ہوئے شکایتوں شکووں بھرے تنگ و تاریک گھروں نے ہی کبھی ابدی گھروں میں بدل جانا ہے، اور توجہ ابدی گھروں کی تزئین و روشنی پر رہے تو یہ کرائے کے گھر بھی سج جاتے ہیں ۔ سمجھ یہی آتی ہے کہ آخرۃ میں حسنہ انہیں ہی ملے گی جنہیں دنیا میں۔ جو یہاں اندھے ہیں وہاں بھی اندھے ہی اٹھائے جائیں گے۔ اُس رب رحمت للعالمین سے دونوں جہان میں تنگی وتاریکی سے امان کی دعا ہے، نور وکشادگی کی دعا ہے، اپنے لیے سب کے لیے (آمین)

Monday, August 3, 2020

کچھ اردو کے ہندی رسم الخط میں لکھنے کے بارے میں

ایسا تجربہ ہمعصر تاریخ میں ہوچکا ہے تو کیوں نہ اس پر نظر کرلی جائے، ترکی میں ’’ایک ملک ایک قوم ایک زبان‘‘ کی بنیاد پر اتاترک نے ترکی زبان کا رسم الخط بدلا ، یاد رہے کہ عثمانی ترکی دربار اور شرفا کی زبان تھی جس پر فارسی اور عربی کا اثر تھا، زبان کے رسم الخط کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ ترکی زبان کو ان اثرات سے پاک کیا گیا، اور باقاعدہ ادارہ تشکیل دیا گیا تھا جس کے ذریعے طے کیا گیا کہ کون سے الفاظ کو شامل رکھا جائے اور کن کو بالکل نکال دیا جائے۔ مزید یہ کہ رسم الخط کی تبدیلی اصلاحات کے ایک پورے سلسلے کا حصہ تھی جس میں قدامت پرستی سے جدت کی طرف رخ کیا گیا۔ یعنی پوری تہذیب کا گویا رخ طے کیا گیا۔ اس تبدیلی کو نئی نسل نے تو بڑی جلدی قبول کیا لیکن احمت حمدی طانپنار اور عدالت آعولو اور ان جیسے بہت سے ادیبوں نے صحاف لار میں ردی میں بکتی ان کتابوں کا نوحہ تاعمر لکھا جنہیں ان کے عثمانی ترکی رسم الخط کے باعث نئی نسل پڑھنے کے قابل نہ رہی تھی۔
(لسانیات کا کوئی بھی ماہر بتا سکتا ہے کہ زبان محض زبان نہیں ہوتی بلکہ تہذیب کا بیان ہوتی ہے۔ )
اب سوال یہ ہے کہ اردو کا رسم الخط بدلنا اگر مقصود ہے تو کیا آپ اردو کو عربی اور فارسی کے اثر سے پاک کرسکتے ہیں؟ اور اگر ایسا کرسکتے ہیں تو نئے الفاظ آپ کن زبانوں سے لیں گے؟ مقامی زبانوں سے، پنجابی سندھی ، وہ ہمارے ہاں کس رسم الخط میں لکھی جا رہی ہیں۔ اور بالفرض آپ ایسا کرلیں تو جو ’’نئی‘‘ زبان بنے گی کیا وہ اردو ہی ہوگی؟ رسم الخط بدلنے سے آپ الفاظ کی بنیاد، مثلاً حُسن اور حسین ، صرف اور مصرف کی نسبت کو کیسے سمجھا پائیں گے۔ رسم الخط بدلنے سے یہ مقامی زبانوں سے مزید دور ہوگی یا قریب۔ اور جس زبان سے قریب کرنا مقصود ہے اس کے قریب ہوکر مزید کھانہ کھراب ہی ہوگا اردو کا، صحیح کچھ نہیں ہوگا۔ مجھ احمق کو بھی اتنا اندازہ ہے کہ محض رسم الخط بدلنے سے کیا ہوسکتا ہے، جن لفظوں کو آپ لپیٹ لپیٹ کر لکھتے ہیں، سوچ سوچ کر ، یا جملوں کی ساخت میں کتنی اور کیسی تبدیلی آسکتی ہے۔ اور پھر کہا جائے کہ فرق نہیں پڑے گا۔۔۔
اور پھر اگر رسم الخط بدلنا ہی ہے اور اس سے شناخت کا کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا بقول آپ کے، تو کیوں نہ چینی رسم الخط اختیار کیا جائے، کچھ بھلا چینی بھائیوں کا ہو کچھ ہمارا۔ صرف دوسرے ایک ہی رسم الخط پر بحث کیوں ہے۔
یہاں بات کا آغاز ایک فیصلے سے کیا گیا ہے، ڈری ہوئی زبان۔ بات کا اختتام یہ کہ یہ ایک بے فائدہ بحث ہے۔ اگر کسی کو اس زبان پر مہربانی کرنی ہی ہے تو لسانیات پر کوئی کام کرلے، بے شمار لفظ ہیں جن کے متبادل اردو میں مجھ جیسے لوگوں کو نہیں ملتے victimاور prey کے لیے ایک ہی لفظ استعمال ہوتا ہے، collector کے لیے کوئی جامع لفظ نہیں ملتا survivor کا اردو متبادل ، وہ جو معانی کو پوری طرح بیان کرسکے نہیں ملتا۔ یہ نہیں کہ زبان کا دامن وسیع نہیں، زبان تو اتنی وسعت رکھتی ہے کہ سب نئی نہروں ندیوں کو خود میں شامل کرسکتی ہے ، بات یہ ہے کہ ہمیں بے فائدہ بحثوں کے لیے تو وقت ملتا ہے ، کام کرنے کا نہیں۔
اور پھر بھی تبدیلی پر اصرار ہے تو لائیے کوئی اتاترک جو صرف رسم الخط ہی نہ بدلے، قوم کی تقدیر بھی بدلے، تو بسروچشم

Thursday, December 19, 2019

تنہائی


اللہ تنہائی کے شر سے بچائے اور تنہائی کے عذاب سے بھی۔
اور اللہ تنہائی کے فضل سے نوازے

Tuesday, July 16, 2019

کندھا

نیکی، دل کی نرمی، دوسروں کا بھلا چاہنا، غیروں کا بھی اور ان رشتوں کا بھی جو اوکھے اور تیکھے ہوتے ہیں، بھلا چاہنا، اپنی ذات سے اوپر ہو کر سوچنا اللہ کی توفیق خاص اور مقام شکر۔
وہ توڑنے والوں نہیں جوڑنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
عجیب وہ جو اسی رب کا نام لیتے اور پھر سورہ الفلق اور الناس کی تفسیر بن کر توڑتے ہیں۔
پکے مومن ہونے کا غرور جو ان کے ایمان اور دوسروں کے رشتے کھا جاتا ہے۔
وہ کندھا جھٹکنے نہیں کندھا دینے والوں کو پسند کرتا ہے۔
اور کندھا سب کو چاہیے ہوتا  ہے،
زندگی کی کسی نہ کسی مرحلے پر، یا پھر زندگی سے گزر کر آگےجانے والوں کو بھی، پیچھے رہ جانے والوں کو بھی ،بوجھ ہلکا کرنے کی خاطر. جتائے بغیر، توڑے بغیر۔ معوذتین کی تفسیر بنے بغیر، کندھا دینا بھی صدقہ ہے۔

Saturday, July 13, 2019

’’لوگ کیا کہیں گے‘‘


پچھلی نسل کا المیہ یہ تھا کہ وہ سوچتی تھی کہ ’’لوگ کیا کہیں گے‘‘ اور اس نسل کا المیہ یہ ہے کہ یہ کسی بات میں بھی اپنی ذات سے آگے نہیں سوچتی ، یہ نہیں سوچتی کہ ’’دوسرے کیا سوچیں گے‘‘۔۔۔ چاہے وہ دوسرے قریبی رشتے ہی ہوں

پہچان

انسان کی پہچان ، یہ پہچان کہ اس نے آپ کو کوئی قابل استعمال شے سمجھا یا انسان ، تب ہوتی ہے جب اس کی غرض اس کی ضرورت پوری ہوچکی ہو، جب اسے مزید آپ سے کوئی غرض نہیں رہتی، تب اس کی لاتعلقی اور بے حسی کمال ہوتی ہے۔

ایک پرانی تحریر

خزاں یاس نہیں، آس کا موسم ہے، زندگی کے نہ ختم ہونے والے تسلسل کی علامت۔ پو شش برگ و گُل بدلتی ہے، گِل بدلتی ہے، اور وہ جسے اسے گِل سے تخلیق کیا گیا ہے، اُسے اس کی تخلیق یاد دلائی جاتی ہے، یاد دلایا جاتا ہے کہ جب تک زندگی ہے زندہ رہنا ہے۔ کسی نہ کسی روپ میں، کسی نہ کسی رنگ میں اس تسلسل کا ، اس گردشِ پیہم کا حصہ بنے رہنا ہے، یہی مقدر ہے، یہی مشیت، یہی حکم الٰہی۔۔۔ یہاں کسی کو قیام کی اجازت نہیں، کسی کو ثبات نہیں، وقت کی بہتی رو سب بہائے چلی جاتی ہے اور اس کے دھارے کے ساتھ بہتے رہنا مقدر ہے، بڑھتے رہنا نصیب ہے۔ گرتی شاخیں، اڑتے پتے، انجام کار اسی گِل کا حصہ بنتے ہیں، آنے والے موسموں میں جس سے پھر سبزہ پھوٹتا ہے، بہتے پانی منجمد کر دئیے جاتے ہیں مگر ان کی گہرائیوں میں زندگی پھر بھی رواں رکھی جاتی ہے،زمینوں اور زمانوں پر پھیلی اسی گردشِ پیہم کا حصہ بادل جو سمندروں کے بیٹے ہیں پہاڑوں پر جن کا گھر ہے، پیڑوں کی سوکھتی، چٹختی ٹہنیاں موسم بدلنے پر پھر سے لچکیلی ہو جاتی ہیں، انار کے پیڑ کی طرح، شب بھر میں جس کی سوکھی شاخوں میں لچک آتی ہے اور ایک صبح کی دھوپ میں وہی زندگی اور ہر لچک سے محروم شاخیں انار رنگ کونپلوں سے ڈھک جاتی ہیں۔اور وہ شاخیں جن پر پھول نہیں کھلتے، جن کے رنگ نہیں بدلتے، پرندے ان پر بھی بسیرا لیتے ہیں، ان کی کھوہ بھی کسی گلہری کا آشیانہ ہوتی ہے۔ زندگی درد ہے، کرب ہے، کرب کا قافلہ نہیں رکتا۔ ایسا اذن کسی کو نہیں، حکم نہیں۔ سفر جاری رہتا ہے۔۔۔ اور وہ جو اصل خالق ہے، وہ موت سے ​​زندگی اور زندگی سے موت پیدا کرتا ہے۔ صرف اسی کو دوام، قیام، اس گردشِ پیہم سے فرار حاصل ہے۔ ہاں مگر کچھ اور ہیں جنہیں اس گردش کا حصہ رکھتے ہوئے بھی دوام بخش دیا جاتا ہے۔۔۔
۔۔
لیکن میں یہاں پھر آؤں گا
بچوں کے دہن سے بولوں گا
چڑیوں کی زباں سے گاؤں گا
جب بیج ہنسیں گے دھرتی میں
اور کونپل اپنی انگلی سے
مٹی کی تہوں کو چھیڑے گی
میں پتی پتی کلی کلی ، اپنی آنکھیں پھر کھولوں گا
سرسبز ہتھیلی پر لے کر، شبنم کے قطرے تولوں گا
جاڑوں کی ہوائیں دامن میں
جب فصل خزاں کو لائیں گی
رہرو کے جواں قدموں کے تلے
سوکھے ہوئے پتوں سے میرے
ہنسنے کی صدائیں آئیں گی
دھرتی کی سنہری سب ندیاں
آکاش کی نیلی سب جھیلیں
ہستی سے میری بھر جائیں گی
میں ایک گریزاں لمحہ ہوں
ایام کے افسوں خانے میں
میں ایک تڑپتا قطرہ ہوں
مصروفِ سفر جو رہتا ہے
ماضی کی صراحی کے دل سے
مستقبل کے پیمانے میں
میں سوتا ہوں اور جاگتا ہوں
صدیوں کا پرانا کھیل ہوں میں
میں مر کر امر ہو جاؤں گا
میں یہاں پھر آؤں گا

Friday, November 23, 2018

ماننا اور منوانا

منوانے سے پہلے ماننا پڑتی ہے۔۔۔اور کبھی تو مان کر بھی منوانا محال ہوتا ہے جبکہ ہم ہیں کہ بغیر مانے منوانے کی خواہش رکھتے ہیں۔

استعفیٰ

اب تک کتنی ہی بار میں نے اسے لفظ لفظ پڑھا اور پوری طرح محسوس کیا ہے۔ اور کیوں جی چاہتا ہے کہ ایسا ہی ایک استعفیٰ عموماً دنیا کے اور خصوصاً اس سوشل میڈیائی دنیا کے نام لکھا جائے۔

یہ سوشل میڈیائی دنیا جس نے ہمیں صاف گوئی کے نام پر منہ پھٹ، بے لگام بنا دیا ہے۔ ایسے ایسے کڑوے لفظ کیا، جملے ۔ کبھی ایک دوست نے میرے محض Hate کے لفظ کے استعمال پر کہا تھا کہ کیوں، اتنا Strong لفظ کیوں، Dislike کا لفظ بھی تو ہے۔ اور میں نے اس کی بات پلے باندھ لی۔ ہاں، خدا نے مجھے تو بڑی بڑی اچھی دوست دیں، وہ سبھی جو اَب اس مصروف دنیا کی بھیڑ میں میری ہی طرح خود کو اجنبی محسوس کرتی ہیں، اور بیزار اور مایوس ہوکر گم گئی ہیں۔ پر بات یوں کہ اب کی دنیا میں ایسی دوست بھی کہاں رہی ہیں؟ اب تو سیر پر سوا سیر کی دنیا، آگ پر تیل ڈالنے کی رسم والی دنیا۔ کانٹا رکھو تو اس پر کانٹا رکھ دینے والی دنیا، تو پھر دنیا رویوں کے کانٹوں سے بھر جائے تو حیرانی کیسی؟
یہ مصنوعی، روکھی، بے ڈھنگی ،خودغرض، بے حس دنیا جہاں جھوٹ یوں بولا جاتا ہے کہ جیسے ”چکی تھلے ہتھ آیا اے“۔ جہاں ہر بات ہر شے ہر احساس بس ”میں“ ”میرا“ ”میرے لیے“ سے متعلق ہے۔ Self interestedدنیا۔ بہت برس پہلے اپنی ڈائری کے کسی صفحے پر لکھا تھا ، ہم اب ”خاندان“ نہیں ”فیملی“ کا لفظ استعمال کرتے ہیں، ”خاندان“ سکڑ کر اب ”فیملی“ بن گئے ہیں میں، میرا میاں یا بیوی اور بچے اور وہ بھی تو کہیں کہیں مزید سکڑ کر میری اور صرف میری ذات۔ ”میری ذات“ کہ بس دنیا اسی کا طواف کرتی رہے۔ یہ بھی کبھی لکھا تھا کہ Independence سے بڑی کوئی چیز Interdependence ہے، لیکن ہمیں اب Independence چاہیے، ہر کسی سے، ہر ذمے داری سے آزادی۔ اس سوچ سے آزادی کہ کوئی دوسرا کیا سوچے، کیا محسوس کرے گا۔ ہماری ذات سے کسی کو کیا مل رہا ہے یا ملے گا، ہمیں کیا! میں نے اس ہنڈیا میں ڈالا کچھ نہیں تھا، لیکن پک کر بریانی قورمہ میرے سامنے پھر بھی آجائے۔ دیا کچھ نہیں، مل سب کچھ جائے۔ ذمہ داری نہیں اب تو بس ’’لائف انجوائے‘‘ کرنے کا زمانہ ہے۔ ہم کہ جنہیں اپنی مزدوریوں اور مزدور پیشہ ہونے پر فخر تھا، اب ہمیں گھروں میں آٹھ دس سال کی یا جو بھی ملازم بچے بچیاں چاہیئیں، ذرا ذرا سے کام کے لیے۔ ہمیں سہل پسندی چاہیے، تاکہ ’’انجوائے‘‘ کرسکیں۔ باتیں، اکھاڑ پچھاڑ، خواہ مخواہ کی کھودم کھود ، بلاوجہ کے تجسس، اِس نے اُس سے یوں کہا، ٹائپ۔۔ وہ چیزیں جن سے ہمارا تعلق نہیں ہم ان میں ناک گھسیڑتے ہیں، اور جہاں ذمہ داری اور تعلق ہے وہاں ہماری بے تعلقی ایسی کمال ہے۔
وہاں کہ جہاں ہمیں اپنے سامنے بیٹھے لوگوں، بڑوں سے بات کے لیے وقت اور زحمت نہیں، اور ہم ہر اچھی بری خبر وٹس ایپ اور فیس بک وغیرہ سے دور بیٹھے ان لوگوں سے ضرور شیئر کرتے ہیں، جن سے ہمارا حقیقت میں کوئی واسطہ نہیں، جن سے شاید زندگی میں ایک آدھ کے علاوہ ہماری ملاقات نہ ہوئی ہو، یا وہ بھی نہیں۔ اور پھر امید بھی ہم رکھتے ہیں کہ اس خبر پر داد دی جائے، مبارک دی جائے یا ہمدردی کی جائے اور نہ کی جائے تو دل میں ناراضی بھی ہوکہ جناب آپ نے سٹیٹس ہی نہیں دیکھا ہمارا۔۔۔ ہم بولتے ہیں، لگاتار بولے جاتے ہیں مگر ’’بات‘‘ کی ہمیں فرصت نہیں۔ بلکہ سامنے بیٹھے لوگوں سے ہم بذریعہ سوشل میڈیا ہی گفتگو کرتے ہیں۔ برسبیل تذکرہ۔۔۔

جہاں ہم لوگوں کو اُن کی عمر کی رعایت دینے کو بھی تیار نہیں۔ یہ سوچے بغیر کہ ان سفید سروں والے لوگوں نے زندگی کو کیسا کیسا جھیلا ہے، اب ذرا ان کی زندگی میں بھی کوئی ٹھہراﺅ، کوئی آسانی آجائے۔ذرا جو ہم اپنے رول شفٹ کرکے ”لینے اور لیتے رہنے“ کے مقام سے بس ذرا سا ”دینے“ کے مقام پر آجائیں۔ ان کے کسی کیے یا نہ کیے اعتراض پر اپنے رویے کا تھپڑ ان کے منہ پر نہ ماریں۔ اب تو ہمیں کسی بڑے کے سامنے جھکنے میں بھی عار ہے۔ ہماری انائیں۔۔۔۔

کس قدر پیاری ہے ہمیں یہ سوشل میڈیائی دنیا کہ یہ سارے رشتوں کو کھا گئی ہے۔ انہیں نبھانا اب اتنا اہم بھی کیوں ہو۔ بھول ہی گیا کہ ہر احساس دوطرفہ ہوتا ہے، شکایت بھی۔ لیکن ”میں“ اور ”میرا“ کے سامنے ”ہم“ اور ”ہمارا“ ہار گیا ہے۔
دہرے تہرے اور جانے کتنے کتنے چہروں والی دنیا، جہاں نہ مصلحت باقی ہے نا مصالحت۔
اب کیا کہیں کہ جی ہم نے لفظوں اور رویوں کی مار ایسی کھائی ہوئی ہے کہ ہمیں ان اٹھتے قدموں کی منزل، آنکھوں،اور ان کے پیچھے کھوپڑی اور اس میں موجود خیال تک رسائی ہو گئی ہے، مگر ہم خاموش رہیں گے، کیوں کہ دوسروں کے پردے فاش کرنا ہم پر واجب نہیں۔ اس لیے کہ خدا تو خود پردہ پوش ہے۔ تو چلو بھئی، ہم پچھلی صدی کے ناکارہ سکّوں جیسے لوگوں کو اجازت دو۔۔۔آنے والے کل میں ہمیں حنوط کرکے کسی میوزیم میں سجا لینا کہ ہم اسSelf interested نسل سے ہوتے ہوئے بھی اس کے ہوئے نہ ہی اپنے۔۔۔

Friday, October 13, 2017

برگ زرد یا سیب سرخ

درخت سے بچھڑتے دونوں ہی ہیں لیکن
پتہ وقت کے ساتھ اپنے زوال کی انتہا کو پہنچ کر گرتا ہے
اور پھل اپنے کمال کی انتہا کو پہنچ کر۔۔۔
اب یہ تم پر ہے کہ تمہیں برگِ زرد بننا ہے یا سیب سرخ۔۔۔
۔ ماخوذ

Wednesday, July 26, 2017

ریس کی شرط

وہ گھوڑا جو ریس میں شامل نہ ہو، اس پر نہ کسی کی نظر جاتی ہے اور نہ کوئی اس پر شرط باندھتا ہے۔۔۔