کیوں ہے کہ جب بھی میں ایک سیڑھی چڑھ لوں پچھلی سیڑھی جادو کے زور سے ہوا
میں تحلیل ہو جاتی ہےاور قدم پھر سے گویا پہلی ہی سیڑھی پر دھرے ہوتے ہیں.
سامنے زینہ در زینہ آسمان تک جاتی سیڑھیاں رہ جاتی ہیں. زمین سے جڑے رہنے
کے لئے ضروری نہیں کہ باہر سے کوئی آپ کو آپ کی اصل یاد دلا ے ، کوئی اندر بیٹھاہے جو بھولنے نہیں دیتا ،اور یکایک اس سیڑھی کو غائب کر دیتا ہے جسے آپ طے کر چکے ہوتے ہیں.. اور وہ جو یہ زینے طے کرنے میں آپ کو مدد دیتے ہیں، جن کے سہارے آپ قدم بہ قدم چلتے ہیں، جو یقین دلاتے رہتے ہیں کہ یہ کامیابی آپ کی ہی تھی ، ان کا شکریہ مگر اس کا بے پناہ شکر کہ جو پچھلی سیڑھی کو تحلیل کر دیتا ہے ، زمین سے جوڑے رکھتا ہے
یہ خود اپنی دریافت کا سفر ہے۔۔۔ تاریک گوشے میں بیٹھ کر روشن دنیا کو دیکھنے کا عمل۔۔۔
Monday, November 12, 2012
Wednesday, August 15, 2012
Monday, May 14, 2012
روشنی۔۔۔۔
روشنی تو روشنی ہے ، آلودہ غلیظ پانی پر بھی پڑے تو اس کو بھی جھلملا دیتی ہے ... دل جیسا بھی ہو اس کو کیوں نہ جھلملا دے گی ..
Thursday, May 3, 2012
احساسِ خطا
اپنی خامی اپنی کوتاہی کا شعوراپنے گناہ اپنی خطا کا احساس بھی کیسی بے مثال نعمت ہے، جیسے مور کو اس کے پیر دکھائی دے جائیں۔یہ احساس انسان کے پیر زمین پر جما دیتا ہے،اسے انسان بنا دیتا ہے، ورنہ ہر خطا ہر خامی سے پاک ہونے کا احساس تو ہمیں خدائی کا دعویٰ کرنے پر اکسائے۔
۔ ہما انور
Huma Anwar
لفظ بارش ہیں
لفظ بارش کی طرح ہوتے ہیں جو رحمت ہے۔ کم برسے تو زمین والے اسے ترستے
ہیں،قحط کا شکار ہو جاتے ہیں اور جو بے تحاشا برسے تو سیلاب لے آتی ہے،
زحمت بن جاتی ہے۔
Monday, March 26, 2012
انسان اور غیر انسانی کام
لفظ کچھ اصطلاحیں بھی عجیب ہوتی ہیں ، آخر غیر انسانی کام بھی تو انسان ہی کرتے ہیں..
Tuesday, January 10, 2012
Friday, December 30, 2011
انقلابی اور باغی
تو آج استاد محترم نے فرمایا (اور یاد رہے کہ یہ وہ استاد محترم نہیں ہیں جنہوں نے فرمایا تھا کہ .... یہ مت دیکھو کہ کیا جانتے ہو ، یہ دیکھو کہ کس کو جانتے ہو) کہ ہر انقلابی باغی ہوتا ہے لیکن ہر باغی انقلابی بھی ہو یہ ضروری نہیں ، یہ بھی کہ انقلاب کی بنیاد نظریہ ہوتا ہے، عوام جس کا ذریعہ اور آلہ ہوتا ہے، اور رہنما جس کی بائی پروڈکٹ ..
تو یوں ہے کہ بغاوت دل سے نموپاتی یا پھوٹتی ہے ، اور نظریہ ، ذہن سے پھوٹتا ہے اور پھر قلب پراترے اور زندگی پر نافذ ہوجائےتو انقلاب کی صورت اختیار کر لیتا ہے ..انقلاب جو پھر زندگی اور معمول کا حصّہ بن جاتا ہے.. لیکن سوال یہ ہے کہ جہاں نظریہ ہی نہ ہو کوئی؟
تو جناب والاوہی بات مکرّر .. جب تک قلب نہ بدلے گا حالات نہ بدلیں گے..
تو یوں ہے کہ بغاوت دل سے نموپاتی یا پھوٹتی ہے ، اور نظریہ ، ذہن سے پھوٹتا ہے اور پھر قلب پراترے اور زندگی پر نافذ ہوجائےتو انقلاب کی صورت اختیار کر لیتا ہے ..انقلاب جو پھر زندگی اور معمول کا حصّہ بن جاتا ہے.. لیکن سوال یہ ہے کہ جہاں نظریہ ہی نہ ہو کوئی؟
تو جناب والاوہی بات مکرّر .. جب تک قلب نہ بدلے گا حالات نہ بدلیں گے..
Wednesday, December 21, 2011
Wednesday, December 14, 2011
Thursday, November 3, 2011
Sunday, October 30, 2011
Friday, October 7, 2011
احساسِ ندامت
وہ جذبہ وہ احساس جو انسان کو اشرف المخلوقات بناتا ہے وہ کسی نیکی کا نہیں، ندامت کا جذبہ ہے، جو اسے ایک ہی وقت میں عظیم بھی بناتا ہے اور عبد بھی
Monday, September 19, 2011
Sunday, September 11, 2011
پارس
پارس صرف اسی مٹی کو سونا بناتا ہے جو اسے پارس سمجھتی ہے اور جو سونا پارس کو پتھر سمجھتا ہے کبھی خود مٹی بن جاتا ہے ،ساری بات یقین کی ہے..
Friday, August 19, 2011
دعا
دعا لفظوں کی محتاج نہیں ہوتی..کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ آپ کی زبان پر لفظ نہیں ہوتے لیکن آپ اس وقت مجسسم حالت دعا میں ہوتے ہیں
آنکھ سے ٹپکنے والا آنسو دعا ہے ..آسمان کی جانب اٹھی ہوئی نظر دعا ہے.. جھکی ہوئی نگاہ دعا ہے..چہرے کی مسکراہٹ دعا ہے.. سر پر ٹہرنے والا ہاتھ دعا ہے.. شکر اور شکریے کا اظہار دعا ہے.. وہ جو خالق ہے ہر شے کا ،اسے بھلا لفظوں کی کیا حاجت..لفظوں کی اس کے سامنے بھلا کیا بساط
آنکھ سے ٹپکنے والا آنسو دعا ہے ..آسمان کی جانب اٹھی ہوئی نظر دعا ہے.. جھکی ہوئی نگاہ دعا ہے..چہرے کی مسکراہٹ دعا ہے.. سر پر ٹہرنے والا ہاتھ دعا ہے.. شکر اور شکریے کا اظہار دعا ہے.. وہ جو خالق ہے ہر شے کا ،اسے بھلا لفظوں کی کیا حاجت..لفظوں کی اس کے سامنے بھلا کیا بساط
Friday, August 5, 2011
آبادیاں
جتھے بوہتیاں قبراں
او تھے و ڈے گراں
جہاں قبریں زیادہ ہوں وہیں آبادی زیادہ ہوتی ہے.. یعنی جہاں مردہ روحوں والے لوگ زیادہ ہوں وہیں "زندہ" انسان بھی زیادہ ہوں گے
او تھے و ڈے گراں
جہاں قبریں زیادہ ہوں وہیں آبادی زیادہ ہوتی ہے.. یعنی جہاں مردہ روحوں والے لوگ زیادہ ہوں وہیں "زندہ" انسان بھی زیادہ ہوں گے
Thursday, August 4, 2011
Friday, July 29, 2011
لکھنا پڑھنا سننا بولنا
کتنے لوگ ہیں جو پڑھتے ہیں مگر لکھ نہیں سکتے، کتنے لوگ ہیں جو لکھتے ہیں لیکن پڑھ نہیں سکتے.. کتنے ہی لوگ ہے جو بولتے ہیں مگر دیکھ اور سن نہیں سکتے اور کتنے ہی لوگ ہیں جو دیکھتے اور سنتے ہیں مگر بولتے نہیں..
کیا ہی اچھا ہو اگر دیکھنے اور سننے والے بولنا اور پڑھ سکنے والے لکھنا شروع کر دیں..اور جو لکھتے ہیں وہ پڑھنا شروع کر دیں
کیا ہی اچھا ہو اگر دیکھنے اور سننے والے بولنا اور پڑھ سکنے والے لکھنا شروع کر دیں..اور جو لکھتے ہیں وہ پڑھنا شروع کر دیں
Wednesday, July 13, 2011
پیسہ
یہ جہاں عجب جہاں ہے جہاں ہم پیسہ خرچ کر کے پیسہ کمانے کے طریقے سیکھتے ہیں اور جب ہم وہ طریقے سیکھہ لیتے ہیں تو پھر ہمیں اس پیسے کو خرچ کرنے کے طریقے سکھائے جاتے ہیں...
Subscribe to:
Posts (Atom)