خوف خواہش سے جنم لیتا ہے اور خواہش دنیا ہے.جب دنیا کو پیچھے ڈال دیا جائے تو خوف بھی ختم ہو جاتا ہے .در اصل جہاں خواہش ہوتی ہے وہیں کہیں دل میں جہاں اس خواہش کے پودے کی جڑیں ہوتی ہیں یہ خوف اس خواہش کے نا تمام رہ جانے کا خوف بھی سر اٹھانے لگتا ہے
یہ خود اپنی دریافت کا سفر ہے۔۔۔ تاریک گوشے میں بیٹھ کر روشن دنیا کو دیکھنے کا عمل۔۔۔
Thursday, June 30, 2011
Wednesday, May 25, 2011
کمزور انسان
جب انسان خود کو کمزور سمجھنے لگتا ہے ، وہ اپنا حق چھوڑ دیتا ہے, دوسروں کو اسے غصب کرنے کی اجازت دے دیتا ہے یا پھر دوسری صورت میں دوسروں کا حق بھی مارنے لگتا ہے
Sunday, May 22, 2011
سایہ اور چھائوں
سایے بھی کئی قسم کے ہوتے ہیں، عمارتوں کے سایے ان ہی کی طرح بے مہر اور گرم، کچھ درختوں کے سایے ان ہی کی طرح چھدرے سے، دھوپ سے بھرے ،اور کچھ درختوں کے سایے ٹھنڈے اور گھنے.. اور اسی طرح ہر انسان کا سایہ کچھ مختلف ہوتا ہے.. دھوپ سے بھرا، گھنا،ٹھنڈا،تاریک یا روشن..اور شاید انسان جس سایے میں بیٹھتا ہے اس کا بہت اثر بھی لیتا ہے ، بالکل اسی طرح جیسے انسان جن انسانوں کے سایے میں بیٹھتا ہے رفتہ رفتہ ان ہی جیسا بن جاتا ہے
Wednesday, May 4, 2011
فرعون را موسیٰ
فرعون کو موسیٰ کا سامنا کرنا پڑتا ہےمگر ہر فرعون کو نہیں، موسیٰ کوئی ایک ہوتا ہے ایک ہی بار آتا ہے اور اس سے پہلے کئی ہزار سال تک ہر فرعون کے گھر میں فرعون ہی پلتا ہے اور وہی اس کی جگہ لیتا ہے
Sunday, April 24, 2011
Friday, April 15, 2011
Thursday, April 14, 2011
Wednesday, April 13, 2011
Sunday, April 10, 2011
Sunday, March 27, 2011
جانے والوں کا دکھ
جانے والوں کا دکھ نہیں رلاتا، وہ سکھ وہ آسانیاں رلاتی ہیں جو جانے والوں کے ساتھ چلی جاتی ہیں
Thursday, March 24, 2011
محبت، طرزِ حیات
محبت محض ایک جذبہ نہیں، ایک طرز حیات ہے اور جو لوگ اس طرز زندگی کو اپنا لیتے ہیں انہیں دوام اور تسلسل حاصل ہو جاتا ہے ..زمین سے پھوٹتے سبزے دریائوں میں رواں پانی کی طرح۔
۔ ہما انور
Huma Anwar
۔ ہما انور
Huma Anwar
Wednesday, March 9, 2011
عزم بہزاد ..کدھر گئے وہ ہاتھ مسلسل راہ دکھانے والے
اب کوئی نہیں جسے پکاریں
ہم اپنے سخن کے روبرو ہیں
آپ نے سوچا کہ اب میں چادرِ خاک اوڑھ کے سوتا ہوں ، ایک لمبی اور پر سکون نیند.. آپ کا جانا طے تھا، کوئی روک نہیں سکتا تھا، میں کون ہوں کہ روک لیتی .. بس جاتے جاتے ایک بار بتا جاتے تو کیا حرج تھا؟ کہ ’’ااکّا! میں جا رہا ہوں۔‘‘
اور آپ چپ چاپ ہی چلے گئے، شاید بتایا تھا آپ نے، میں ہی احمق ہوں کہ نہیں سمجھی، اس روز بھی صبح سے بات بے بات رونا آ رہا تھا .4 مارچ کی صبح فجر سے پہلے،آپ نے سوچا یہ اچھا وقت ہے ایک لمبے سفر پر نکلنے کا وقت ، نئے جہانوں کی سیر کا وقت اوراب آپ وقت اور فاصلوں کی قید سے آزاد ہوئے ،ہر فکر اور پریشانی سے ماورا ہوئے. لیکن جاتے جاتے مجھے اس "تھے" اور "ہیں" کا فرق سمجھا جاتے.کون ہیں جو موجود ہوتے ہوئے بھی "تھے" ہوتے ہیں اور کون ہیں جو جا بھی چکیں تو ان کے لئے "ہیں" ہی نکلتا ہے زبان سے.
میں نے کئی بار کہا آپ سے کہ آپ مجھے الطاف فاطمہ کا "چلتا مسافر" لگتے ہیں،جس کی روح سفر میں رہتی ہے، جس کا سفر دوسری روحوں اور اجسام میں منتقل ہوتا رہتا ہے . مگر آپ نے لکھا کہ میں تو" بے شک انسان خسارے میں ہے" کی تفسیر ہوں. خسارے میں تو انسان ہے سر! ، آپ تو ایمان والے ہیں، وہ جو صبر کی تلقین کرتے رہے ، وہ جو حق بات کی نصیحت کرتے رہے، آپ کیسے خسارے میں رہے بھلا. آپ کے چہرے پر جو طمانیت اور سکون دکھائی دیتا ہے ، یہ تو ان اچھے لوگوں کا خاصا ہے ، جنہیں دکھ پر صبر کی توفیق ملتی ہے. وہ باتیں جنہیں آپ "کسی مجذوب کی بڑ بڑ" کہتے ہیں، یہ تو کسی درویش کی باتیں ہیں ، اور یہ کسی مسا فر کا چہرہ، جو چلتے چلتے کہیں تھم رہے، رہے نہ رہے.
تو آپ چلے گئے، میری الجھی سلجھی باتوں کو ترتیب دے کے میرے ہاتھ تھمانے والے.. میرے ٹوٹے پھوٹے لفظ جوڑ کے جملے بنانے والے.. میری ادھوری باتوں کا سرا تلاش کر کے مجھے دلاسا دینے والے.. لفظ روشنی ہوتے ہیں، لفظ تسلّی دیتے ہیں، لفظ دکھی دل کی ڈھارس ہوتے ہیں، لفظ حوصلہ بڑھاتے ہیں، کڑی دھوپ میں چھاؤں کا احساس ہوتے ہیں لفظ.یہ سب آپ نے بتایا ،آپ نے سکھایا. ایسی شفقت ،ایسا علم، ایسا حلم ، ایسی بردباری، ایسی انکساری ،آپ تو برگد کا گھنا درخت ہیں، سب کو سایہ دینے والے، سب کے سر پر اپنی شفقت کی چھاؤں تان دینے والے .
میرا تعلق نہ آپ کے ادبی حلقے سے ہے ، نہ خاندان سے، نہ دفتری حلقے سے، میں تو بس ایک بیوقوف، خوف زدہ ،اکیلی بچی تھی، جس کو کھڑکی سے جھانکتے آپ نے دیکھا ، اور پھر اس کی انگلی تھام لی .مجھے چلنا سکھایا، بولنا سکھایا،زندگی برتنا سکھایا، جینے کا ہنر دیا مجھے ، بتایا کہ دنیا میں ابھی آپ جیسے لوگ باقی ہیں. میں نے ایک بار بتایا آپ کو کہ میری بھتیجی مجھے اکّا کہتی ہے،آپ مجھے اسی نام سے پکارنے لگے .اکّا،جو آپ کو اپنا استاد اپنا " مرشد" اور "سر" کہتی ہے . اکّا کہ جس نے اتنے سالوں میں آپ کو دیکھا نہ کبھی ملاقات کی. آپ نے کہا کہ یہ تہذیب اور روایت کی دیوار ہے جس کے پیچھے سے ہم بات کریں گے. یہ دیوار جس پر آپ کے لفظ روشن ہوتے ہیں. اور اب آپ ایک اور دیوار کے پیچھے چلے گئے ہیں، جس دیوار پر اب آپ کے لفظ بھی ظاہر نہ ہوں گے . میں نے تو آپ کی آواز بھی آپ کے جانے کے بعد سنی ہے.
سنتے ہیں کہ رہبر سے سوال کرنے کی مناہی ہے، آپ تو ایسے رہبر جنہوں نے ہر سوال کی آزادی دی مجھے ، ہر سوال کا جواب دیا. یہ بھی پڑھا تھا کہیں کہ کوئی عالم تھے، بادشاہ وقت کے سامنے کلمہ حق کہنے پر انہیں کسی کنویں میں ڈلوا دیا گیا تھا. ان کے شاگرد کنویں کی منڈیر پہ آ بیٹھتے ، وہ کنویں کے اندر سے بولتے جاتے، شاگرد لکھتے جاتے.یہاں معاملہ الٹ ہے، کنویں کے اندر تو میں تھی، آپ کنویں کی منڈیر سے مجھ سے کلام کرتے رہے..
آپ تو وہ کھڑکی ہیں، جس سے جھانک کے میں نے دنیا کو دیکھا، وہ کھڑکی جو تازہ ہوا سے، دھوپ سے، روشنی سے ملاتی ہے.. اچھا، تو کیا اب یہ کھڑکی بند ہوئی؟
آپ سے کہا تھا میں نے، کہ اگر کبھی کہانی لکھی تو آپ پر لکھوں گی، وہ سب نہیں جیسا میں نے آپ کو جانا، مگر وہ سب جیسا میں نے آپ کو سمجھا.آپ نے لکھا کہ میں منتظر ہوں کہ ایک ذہین اور حسّاس دماغ مجھے کیا سمجھتا ہے. ذہین اور حسّاس؟ ایک مہربان استاد کی طرح، ایک شفیق باپ اور بھائی کی طرح، آپ کو ساری خوبیاں مجھ میں دکھائی دیتی ہیں . کیسی ذہین؟ کہاں کی حسّاس؟ آپ لکھ رہے ہیں
ہم اپنے سخن کے روبرو ہیں
آپ نے سوچا کہ اب میں چادرِ خاک اوڑھ کے سوتا ہوں ، ایک لمبی اور پر سکون نیند.. آپ کا جانا طے تھا، کوئی روک نہیں سکتا تھا، میں کون ہوں کہ روک لیتی .. بس جاتے جاتے ایک بار بتا جاتے تو کیا حرج تھا؟ کہ ’’ااکّا! میں جا رہا ہوں۔‘‘
اور آپ چپ چاپ ہی چلے گئے، شاید بتایا تھا آپ نے، میں ہی احمق ہوں کہ نہیں سمجھی، اس روز بھی صبح سے بات بے بات رونا آ رہا تھا .4 مارچ کی صبح فجر سے پہلے،آپ نے سوچا یہ اچھا وقت ہے ایک لمبے سفر پر نکلنے کا وقت ، نئے جہانوں کی سیر کا وقت اوراب آپ وقت اور فاصلوں کی قید سے آزاد ہوئے ،ہر فکر اور پریشانی سے ماورا ہوئے. لیکن جاتے جاتے مجھے اس "تھے" اور "ہیں" کا فرق سمجھا جاتے.کون ہیں جو موجود ہوتے ہوئے بھی "تھے" ہوتے ہیں اور کون ہیں جو جا بھی چکیں تو ان کے لئے "ہیں" ہی نکلتا ہے زبان سے.
میں نے کئی بار کہا آپ سے کہ آپ مجھے الطاف فاطمہ کا "چلتا مسافر" لگتے ہیں،جس کی روح سفر میں رہتی ہے، جس کا سفر دوسری روحوں اور اجسام میں منتقل ہوتا رہتا ہے . مگر آپ نے لکھا کہ میں تو" بے شک انسان خسارے میں ہے" کی تفسیر ہوں. خسارے میں تو انسان ہے سر! ، آپ تو ایمان والے ہیں، وہ جو صبر کی تلقین کرتے رہے ، وہ جو حق بات کی نصیحت کرتے رہے، آپ کیسے خسارے میں رہے بھلا. آپ کے چہرے پر جو طمانیت اور سکون دکھائی دیتا ہے ، یہ تو ان اچھے لوگوں کا خاصا ہے ، جنہیں دکھ پر صبر کی توفیق ملتی ہے. وہ باتیں جنہیں آپ "کسی مجذوب کی بڑ بڑ" کہتے ہیں، یہ تو کسی درویش کی باتیں ہیں ، اور یہ کسی مسا فر کا چہرہ، جو چلتے چلتے کہیں تھم رہے، رہے نہ رہے.
تو آپ چلے گئے، میری الجھی سلجھی باتوں کو ترتیب دے کے میرے ہاتھ تھمانے والے.. میرے ٹوٹے پھوٹے لفظ جوڑ کے جملے بنانے والے.. میری ادھوری باتوں کا سرا تلاش کر کے مجھے دلاسا دینے والے.. لفظ روشنی ہوتے ہیں، لفظ تسلّی دیتے ہیں، لفظ دکھی دل کی ڈھارس ہوتے ہیں، لفظ حوصلہ بڑھاتے ہیں، کڑی دھوپ میں چھاؤں کا احساس ہوتے ہیں لفظ.یہ سب آپ نے بتایا ،آپ نے سکھایا. ایسی شفقت ،ایسا علم، ایسا حلم ، ایسی بردباری، ایسی انکساری ،آپ تو برگد کا گھنا درخت ہیں، سب کو سایہ دینے والے، سب کے سر پر اپنی شفقت کی چھاؤں تان دینے والے .
میرا تعلق نہ آپ کے ادبی حلقے سے ہے ، نہ خاندان سے، نہ دفتری حلقے سے، میں تو بس ایک بیوقوف، خوف زدہ ،اکیلی بچی تھی، جس کو کھڑکی سے جھانکتے آپ نے دیکھا ، اور پھر اس کی انگلی تھام لی .مجھے چلنا سکھایا، بولنا سکھایا،زندگی برتنا سکھایا، جینے کا ہنر دیا مجھے ، بتایا کہ دنیا میں ابھی آپ جیسے لوگ باقی ہیں. میں نے ایک بار بتایا آپ کو کہ میری بھتیجی مجھے اکّا کہتی ہے،آپ مجھے اسی نام سے پکارنے لگے .اکّا،جو آپ کو اپنا استاد اپنا " مرشد" اور "سر" کہتی ہے . اکّا کہ جس نے اتنے سالوں میں آپ کو دیکھا نہ کبھی ملاقات کی. آپ نے کہا کہ یہ تہذیب اور روایت کی دیوار ہے جس کے پیچھے سے ہم بات کریں گے. یہ دیوار جس پر آپ کے لفظ روشن ہوتے ہیں. اور اب آپ ایک اور دیوار کے پیچھے چلے گئے ہیں، جس دیوار پر اب آپ کے لفظ بھی ظاہر نہ ہوں گے . میں نے تو آپ کی آواز بھی آپ کے جانے کے بعد سنی ہے.
سنتے ہیں کہ رہبر سے سوال کرنے کی مناہی ہے، آپ تو ایسے رہبر جنہوں نے ہر سوال کی آزادی دی مجھے ، ہر سوال کا جواب دیا. یہ بھی پڑھا تھا کہیں کہ کوئی عالم تھے، بادشاہ وقت کے سامنے کلمہ حق کہنے پر انہیں کسی کنویں میں ڈلوا دیا گیا تھا. ان کے شاگرد کنویں کی منڈیر پہ آ بیٹھتے ، وہ کنویں کے اندر سے بولتے جاتے، شاگرد لکھتے جاتے.یہاں معاملہ الٹ ہے، کنویں کے اندر تو میں تھی، آپ کنویں کی منڈیر سے مجھ سے کلام کرتے رہے..
آپ تو وہ کھڑکی ہیں، جس سے جھانک کے میں نے دنیا کو دیکھا، وہ کھڑکی جو تازہ ہوا سے، دھوپ سے، روشنی سے ملاتی ہے.. اچھا، تو کیا اب یہ کھڑکی بند ہوئی؟
آپ سے کہا تھا میں نے، کہ اگر کبھی کہانی لکھی تو آپ پر لکھوں گی، وہ سب نہیں جیسا میں نے آپ کو جانا، مگر وہ سب جیسا میں نے آپ کو سمجھا.آپ نے لکھا کہ میں منتظر ہوں کہ ایک ذہین اور حسّاس دماغ مجھے کیا سمجھتا ہے. ذہین اور حسّاس؟ ایک مہربان استاد کی طرح، ایک شفیق باپ اور بھائی کی طرح، آپ کو ساری خوبیاں مجھ میں دکھائی دیتی ہیں . کیسی ذہین؟ کہاں کی حسّاس؟ آپ لکھ رہے ہیں
تعلّق کا ہر بوجھ سینے پہ ڈھویا ہوا آدمی ہوں
مجھے دیکھ لو ، آدمیّت کو رویا ہوا آدمی ہوں
مجھے میرے خوابوں سے باہر نہ لانا، کبھی مت جگانا
سمجھنا کہ گزرے زمانوں میں سویا ہوا آدمی ہوں
آپ گزرے زمانوں میں سونے کی بات کر رہے ہیں اور میں سمجھی کہ یہ بس شاعری ہے، شاعر تو اپنے کلام میں ہزار باتیں کہہ جاتے ہیں. ایک بار بھی دل میں وہم تک نہ آیا ، کبھی وسوسہ تک نہ جاگا کوئی. آپ نے لکھا "یہ شعر میرے دل سے نکلے ہیں اور ان میں واقعی میری برداشت کا بیان ہے ۔۔
زندگی کے نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے اور دنیا کی چیرہ دستیاں
دیکھتے ہوئے عمر کے باون برس گزار چکا ہوں"
میں نے سالوں کی گنتی پر آپ کو نہیں ٹوکا. مجھے تو آپ نے دن گننے پر ٹوک دیا تھا
"دن گننے میں ایسی پھرتی ایسی مہارت
کتنے دن میں آئی ہے ؟
ایک مہذب لہجے میں خاموش شکایت
کیسے لب پر آئی ہے؟
دن گننا مقسوم اگر ہے ، گنتے جاؤ، گنتے جاؤ"
اب جانے کتنے دن گزر گئے، آپ کی لکھی ای میلز پڑھتی ہوں، آپ کی غزلیں، نظمیں ، آپ کے لکھے تبصرے، آپ کے دوستوں کی آپ کے بارے میں باتیں .. آپ کی لکھی باتیں دہراتی ہوں.. یہ لفظ اب دوبارہ میری دیوار پر روشن نہ ہوں گے. اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کے خود سے پوچھتی ہوں، یہ میں ہوں یا آپ ہیں؟ آپ نے لکھا کہ قانون قدرت ہے کہ چڑیا کا بچہ بڑا ہو جائے تو وہ اسے خود گھونسلے سے باہر گرا دیتی ہے. آپ کو علم ہے؟ آپ نے میرے ساتھ یہی کیا ہے لیکن سر! ابھی میں نے اڑنا کہاں سیکھا تھا؟ میری الجھی باتوں کا سرا کون پکڑے گا اب؟ کون میرے سر پر اپنا شفقت بھرا ہاتھ رکھے گا ؟ کس کے لفظ مجھے نصیحت کریں گے؟ کون میرے کئی دن خاموش رہنے پر لکھے گا
"کہاں ہو تم؟
طبعیت ٹھیک ہے
یا پھر کسی گہری اداسی میں چراغاں کر رہی ہو؟
کسی کے رنج میں شامل ہو
یا خود کو پریشاں کر رہی ہو؟"
کون دوسروں کے رنج میں شامل ہونے کی تلقین کرے گا؟
میرے ابّی بھی یونہی چلے گئے تھے ، ایک دن اچانک، چپ چاپ، خاموشی سے. آپ نے بھی یہی کیا، مجھے پھر یتیم کر گئے. اچھا، جانتی ہوں اب آپ کیا کہیں گے، یہی کہ تم پھر پٹڑی سے اتریں ،پھر خود ترسی کا شکار ہوئیں. آپ کی دعائیں میرے ساتھ ہیں، آپ کے لفظ میرے رہبر ہیں. بس دکھائی اور سنائی نہ دیں گے اب آپ لیکن ہیں تو یہیں کہیں. آپ کی دعاؤں کی قرض دار ہوں میں،اتنی دعائیں، اتنی دعائیں کون دے گا اب مجھے؟آپ کے لئے جتنی بھی دعا کر لوں یہ قرض نہیں اترنے والا اور یہ قرض خدا کرے کہ ہمیشہ رہے مجھ پر. لیکن سر! جب جب کوئی کامیابی ملے گی مجھے، بہت رلاۓ گی، کہ یہ آپ کی دعا، آپ کا فیض ہے. الله کی رحمت کا ایک حصّہ ہیں آپ میرے لئے،مگر آنسو خشک نہیں ہوتے سر ! دل کو صبر نہیں آتا ،کوئی ٹیس رہ رہ کے اٹھتی ہے. لیا ہی لیا ہے آپ سے، آپ کو کیا دیا؟ ایک کسک ایک خلش ہے جو ساری عمر میرے ساتھ رہنے والی ہے. لیکن صبر نہ کروں تو آپ کی نا فرمانی ہوتی ہے اور صبر بھی ایسا جس میں بے بسی کا شائبہ تک نہ ہو. راضی با رضا رہوں مطمئن رہوں، ہمیشہ خوش رہنے کے کوشش .. کہ ہم معمول سے زیادہ کچھ نہیں ، ہمارے بارے میں تمام فیصلے لوح محفوظ پر مکتوب ہیں۔ یہی کہتے ہیں ناں آپ..آپ ہی بتا گئے ہیں کہ موت کو بھی فنا ہے، اس ابد کی زندگی میں جب فنا کو بھی فنا دے جائے گی
اور اگر الله مجھ گنہگار کی دعا کو کسی قابل گردانیں تو.. میں ان سے کہتی ہوں کہ میرے مولا! یہ روح جو آپ کے پاس لوٹی ہے ، اس روح کو اب ہر بوجھ سے آزاد کر دیں، انہیں بہت اچھی آرام دہ جگہ رکھیں.آمین
۔ ہما انور
Huma Anwar
#HumaAnwar #AzmBehzad
زندگی کے نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے اور دنیا کی چیرہ دستیاں
دیکھتے ہوئے عمر کے باون برس گزار چکا ہوں"
میں نے سالوں کی گنتی پر آپ کو نہیں ٹوکا. مجھے تو آپ نے دن گننے پر ٹوک دیا تھا
"دن گننے میں ایسی پھرتی ایسی مہارت
کتنے دن میں آئی ہے ؟
ایک مہذب لہجے میں خاموش شکایت
کیسے لب پر آئی ہے؟
دن گننا مقسوم اگر ہے ، گنتے جاؤ، گنتے جاؤ"
اب جانے کتنے دن گزر گئے، آپ کی لکھی ای میلز پڑھتی ہوں، آپ کی غزلیں، نظمیں ، آپ کے لکھے تبصرے، آپ کے دوستوں کی آپ کے بارے میں باتیں .. آپ کی لکھی باتیں دہراتی ہوں.. یہ لفظ اب دوبارہ میری دیوار پر روشن نہ ہوں گے. اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کے خود سے پوچھتی ہوں، یہ میں ہوں یا آپ ہیں؟ آپ نے لکھا کہ قانون قدرت ہے کہ چڑیا کا بچہ بڑا ہو جائے تو وہ اسے خود گھونسلے سے باہر گرا دیتی ہے. آپ کو علم ہے؟ آپ نے میرے ساتھ یہی کیا ہے لیکن سر! ابھی میں نے اڑنا کہاں سیکھا تھا؟ میری الجھی باتوں کا سرا کون پکڑے گا اب؟ کون میرے سر پر اپنا شفقت بھرا ہاتھ رکھے گا ؟ کس کے لفظ مجھے نصیحت کریں گے؟ کون میرے کئی دن خاموش رہنے پر لکھے گا
"کہاں ہو تم؟
طبعیت ٹھیک ہے
یا پھر کسی گہری اداسی میں چراغاں کر رہی ہو؟
کسی کے رنج میں شامل ہو
یا خود کو پریشاں کر رہی ہو؟"
کون دوسروں کے رنج میں شامل ہونے کی تلقین کرے گا؟
میرے ابّی بھی یونہی چلے گئے تھے ، ایک دن اچانک، چپ چاپ، خاموشی سے. آپ نے بھی یہی کیا، مجھے پھر یتیم کر گئے. اچھا، جانتی ہوں اب آپ کیا کہیں گے، یہی کہ تم پھر پٹڑی سے اتریں ،پھر خود ترسی کا شکار ہوئیں. آپ کی دعائیں میرے ساتھ ہیں، آپ کے لفظ میرے رہبر ہیں. بس دکھائی اور سنائی نہ دیں گے اب آپ لیکن ہیں تو یہیں کہیں. آپ کی دعاؤں کی قرض دار ہوں میں،اتنی دعائیں، اتنی دعائیں کون دے گا اب مجھے؟آپ کے لئے جتنی بھی دعا کر لوں یہ قرض نہیں اترنے والا اور یہ قرض خدا کرے کہ ہمیشہ رہے مجھ پر. لیکن سر! جب جب کوئی کامیابی ملے گی مجھے، بہت رلاۓ گی، کہ یہ آپ کی دعا، آپ کا فیض ہے. الله کی رحمت کا ایک حصّہ ہیں آپ میرے لئے،مگر آنسو خشک نہیں ہوتے سر ! دل کو صبر نہیں آتا ،کوئی ٹیس رہ رہ کے اٹھتی ہے. لیا ہی لیا ہے آپ سے، آپ کو کیا دیا؟ ایک کسک ایک خلش ہے جو ساری عمر میرے ساتھ رہنے والی ہے. لیکن صبر نہ کروں تو آپ کی نا فرمانی ہوتی ہے اور صبر بھی ایسا جس میں بے بسی کا شائبہ تک نہ ہو. راضی با رضا رہوں مطمئن رہوں، ہمیشہ خوش رہنے کے کوشش .. کہ ہم معمول سے زیادہ کچھ نہیں ، ہمارے بارے میں تمام فیصلے لوح محفوظ پر مکتوب ہیں۔ یہی کہتے ہیں ناں آپ..آپ ہی بتا گئے ہیں کہ موت کو بھی فنا ہے، اس ابد کی زندگی میں جب فنا کو بھی فنا دے جائے گی
اور اگر الله مجھ گنہگار کی دعا کو کسی قابل گردانیں تو.. میں ان سے کہتی ہوں کہ میرے مولا! یہ روح جو آپ کے پاس لوٹی ہے ، اس روح کو اب ہر بوجھ سے آزاد کر دیں، انہیں بہت اچھی آرام دہ جگہ رکھیں.آمین
۔ ہما انور
Huma Anwar
#HumaAnwar #AzmBehzad
Wednesday, February 23, 2011
Friday, February 18, 2011
انسان کی اقسام
جانوروں کی اقسام معلوم اور کسی تعداد میں ہیں جب کہ انسانوں کی اقسام لاتعداد ہیں اور غیر معلوم
Thursday, February 17, 2011
وبائی احساس
وبا ضروری نہیں کہ کسی بیماری ہی کی ہو ، کچھ احساسات یا سوچیں بھی ایک انسان سے دوسرے تک کسی وبا کی طرح منتقل ہوتے ہیں، جیسے اچھائی ، یا اداسی یا مسکراہٹ..
Monday, February 7, 2011
جہدِ مسلسل
زندگی مسلسل جنگ ہے، اپنی اچھائی پر قائم رہنا مسلسل اور تھکا دینی والی جنگ ہے اور اپنے دل کو ہر شکوے شکایت سے، چاہے وہ لوگوں سے ہو یا الله سے، پاک رکھنے کا نام صبر ہے
Friday, January 21, 2011
نا قابل استعمال
کچھ لوگوں کے نزدیک انسان بھی قابل استعمال جنس ہے اور بیشتر اوقات ہم جانتے بوجھتے ان کے استعمال میں محض اس لئے آتے رہتے ہیں کہ وہ ہم پر نا قابل استعمال کا لیبل نہ لگا دیں
Saturday, January 8, 2011
حد بصیرت؟
مجھے یوں لگتا ہے جیسے دھند کسی علاقے تک محدود نہیں رہی ..یہ ہماری تاریخ ،جغرافیے ،ہمارے نظریات،احساسات،بلکہ ہماری ہر طرح کی سوچ پر بھی چھا گئی ہے.. شب میں تو چراغ روشن ہو جاتے ہیں ، دھند میں کیسے دکھائی دے گا کچھ؟ جب بصارت کی حد چند گز سے زیادہ نہیں.. جب بصارت کی حد اپنی ذات سے آگے نہیں..
مگر پھر خیال آتا ہے بصیرت ، بصارت کی محتاج تو نہیں ہوتی
مگر پھر خیال آتا ہے بصیرت ، بصارت کی محتاج تو نہیں ہوتی
Tuesday, January 4, 2011
Subscribe to:
Posts (Atom)